253

پاکپتن: سموگ اور آلودگی کی وجہ سے پاکستان میں ہرسال 1لاکھ 35 ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں، حکیم لطف اللہ

پاکپتن (رانا صفدر سے) سموگ ایک فضائی آلودگی ہے، جو کہ دھند اور سموگ کے باہم ملنے سے وجود میں آتی ہے، جو دیکھنے حد نگاہ کو کم کردیتی ہے۔ یہ ٹریفک حادثات کا باعث بنے کے ساتھ ساتھ سانس کی نالیوں میں سوزش، جلدی امراض اور آنکھوں میں خراش، جلن اور سوجن کا باعث بھی بنتی ہے. اس سے سانس اور دل کے مرض میں مبتلا مریضوں کی تکلیف میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے. پاکستان کے %80 لوگ آلودہ فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ ان خیالات کااظہار اظہار حکیم لطف اللّه سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے گذشتہ روز گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کالونی ایریا میں منعقد سموگ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

انہوں نے مزید کہا کہ “فضائی آلودگی عالمی سطح پر اموات کی چوتھی بڑی وجہ ہے، سموگ اور آلودگی کی وجہ سے پاکستان میں ہرسال 1لاکھ 35 ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں، سموگ کی روک تھام کے لئے محکمہ زراعت کی کارکردگی خاطر خواہ نظر نہیں آرہی کیونکہ کسان ابھی تک فصلوں کی باقیات کو جلا رہے ہیں، اس کے علاوہ دھواں چھوڑتی گاڑیاں، ٹائر جلانے، شہر کا کوڑا کرکٹ معہ شاپنگ بیگ اور چمڑا جلانے، دھواں چھوڑتی فیکٹریاں اور کارخانوں کو بند کرکے یا ان کارخانوں میں مناسب ایندھن کے استعمال سے ہم سموگ پرقابو پاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھٹہ خشت کو نئی ماحول دوست ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے زگ زیگ کی شکل میں تبدیل کیا جائے تو ان سے خارج ہونے والا دھواں آلودگی سے پاک ہوگا۔ سموگ کی روک تھام، شدت میں کمی اور اس سے بچاؤ کے لئے سیمینارز، واکس اور ریلیاں منعقد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ کمیونٹی کو آگاہی دی جاسکے۔ بچوں اور بزرگوں پر سموگ کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بلاوجہ سفر سے گریز، گاڑیوں کی رفتار مناسب، ان کے انجن کو درست حالت میں رکھ کر اور فوگ لائٹس کے استعمال سے ہم سموگ کی شدت اور اس کے بد اثرات میں کمی لا سکتے ہیں۔ آنکھوں کی تکلیف کی صورت میں ٹھنڈے وصاف پانی کے چھینٹے مارکر اور چشمہ کے ساتھ ماسک کا استعمال کرکے ہم سانس کی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں. ۔سیمینار میں ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی صدر انجمن فلاح مریضان، افضل بشیر مرزا ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفئیر، رانا رستم علی انسپکٹر وارڈن پولیس، وقار فرید جگنو صدر پریس کلب، سمیت دیگر سٹیک ہولڈرز سکول هذا کے اساتذہ اور طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی، سیمینار کے اختتام پر آگاہی کے لیے ریلی کا اہتمام بھی کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں