229

حویلی لکھا: سموگ سانس کی نالیوں میں سوزش اور جلد کے ساتھ آنکھوں کو بھی شدید متاثر کرتی ہے. ایم ایس ڈاکٹر شبیر احمد چشتی.

پاکپتن (محمد احمد ساجد سے) سموگ ایک فضائی آلودگی ہے جو دیکھنے کی صلاحیت کو کم کردیتی ہے دھواں ملی آلودہ دھند ٹریفک حادثات کا باعث بنتی ہے، سموگ سانس کی نالیوں میں سوزش کا باعث اور جلد کی بیماریوں کے ساتھ آنکھوں کو بھی شدید متاثر کرتی ہے. دل کی بیماریوں کا بھی باعث ہے پاکستان کی %80 لوگ آلودہ فضا میں سانس لے رہے ہیں ان خیالات کا اظہار ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال حویلی لکھا ڈاکٹر شبیر احمد چشتی نے گورنمنٹ ہائی سکول حویلی لکھا میں سموگ کے حوالے سے آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

سیمینار سے انجمن فلاح مریضاں پاکپتن کے صدر ڈاکٹر شاہد مرتضی چشتی، گورنمنٹ ہائی سکول حویلی لکھا کے پرنسپل میاں محمد رفیق وٹو، حویلی لکھا کے سینئر صحافی محمد احمدساجد، حویلی لکھا کے معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر ضیاء احمد قمر نے بھی خطاب کیا. حکیم لطف اللہ نے کہا کہ فضائی آلودگی عالمی سطح پر اموات کی چوتھی بڑی وجہ ہے، سموگ آلودگی کی وجہ سے پاکستان میں ہرسال 1لاکھ 35 ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں، سموگ کی روک تھام کیلئے محکمہ زراعت کی کارکردگی نظر نہیں آرہی، کسان ابھی تک فصلوں کی باقیات کو جلا رہے ہیں دھواں چھوڑتی گاڑیاں، ٹائر جلانے، شہر کا کوڑا کرکٹ، شاپنگ بیگ جلانے، چمڑا جلانے، دھواں چھوڑتی فیکٹریاں و کارخانوں کو بند کرکے ہم سموگ پرقابو پاسکتے ہیں. گندے مٹیریل سے چلنے والے بھٹہ خشت کو نئی ماحول دوست ٹیکنالوجی سے اینٹوں کے بھٹوں میں تبدیلی کرکے انہیں زگ زیگ کی شکل میں تبدیل کیا جارہا ہے. جس سے اس کا دھواں آلودگی سے پاک ہوگا. سموگ سے بچاؤ کیلئے سیمینارزاور ریلیاں منعقد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کمیونٹی کو اویرنیس دی جاسکے. گورنمنٹ ہائی سکول حویلی لکھا کے پرنسپل میاں محمد رفیق وٹو نے کہا ہے کہ بچوں اور بزرگوں پر سموگ کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، بلاوجہ سفر سے گریز کریں، گاڑی کی رفتار مناسب رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال کریں، آنکھوں کی تکلیف میں ٹھنڈے پانی سے چھینٹے ماریں چشمہ کے ساتھ ماسک کا استعمال سانس کی بیماریوں سے محفوظ رکھے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں