272

تنقید مت کریں ۔۔۔ (محمد عظیم چنڑ)

تحریر: محمد عظیم چنڑ

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

یوں تو ہر جگہ نقاد موجود ہیں لیکن تنقید کا سامنا سب سے زیادہ طلباء کرتے ہیں، حالانکہ نقاد خود کو اس جگہ پر رکھ کر سمجھنے کی کوشش کر یں تو شاید کبھی بھی تنقید نہ کریں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ نظام تعلیم میں بہت سی اصلاحات کے ذریعے بہتری کی کوشش کی گئی ہے اس کے باوجود طلباء رٹا سسٹم کے تحت کامیاب ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جو حالات کی ستم ظریفی کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکے تو پھر اس طالب علم کو بجائے حوصلہ کے تنقید کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ جس سے اس کی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے اور وہ تعلیم کو ہمیشہ کے لیے ترک کر دیتا ہے، ان ناقدین میں اکثریت اساتذہ کی ہے جو عموماً ایسے جملے استعمال کرتے ہیں جو انتہائی ناگفتہ بہ ہوتے ہیں. استاد وہ ہستی ہے جو شخصیت اور کردار سازی کرکے ملک اور قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

وطن عزیز میں اساتذہ پر تشدد کیا جاتا ہے اور اس کا مناسب نوٹس بھی نہیں لیا جاتا، وجہ تعلیم تو حاصل کی مگر کردار سازی میں کمی رہ گئی، جس کا نتیجہ خود اساتذہ کو بھی بھگتنا پڑا، جہاں تک میں نے مشاہدہ کیا ہے، تعلیمی اداروں میں پسماندگی کی وجہ امتیازی سلوک اور بے جا تنقید ہے۔ اگر تعلیمی نظام کے اندر بہتری چاہیے تو پھر اساتذہ کی خصوصی تربیت کے ذریعے ان کے منفی رویوں کو بدلا جائے تاکہ مستقبل کے معماروں کی اچھی تربیت کرنے کی سعی کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں