319

پلیٹلیٹس کیا ہوتے ہیں؟ ….. (منتخب تحریر)

منتخب تحریر

آسان و سہل الفاظ میں جامع و مفصل معلومات کی کوشش کہ آج کل ڈینگی ڈُونگی کی وجہ سے سب کا جاننا ضروری ہے کہ
پلیٹلیٹس کیا ہوتے ہیں؟

پلیٹلیٹس انسان کے خون کے اندر گردش کرتے پلیٹ کی شکل کے چھوٹے چھوٹے ذرے ہوتے ہیں جن کے گرد جھلی ہوتی ہے۔ ان کا کام جسم سے خون کی انخلا کو روکنا ہوتا ہے۔

لاہور کے شیخ زید ہسپتال کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر اقبال امراض باطنیہ کے ماہر ہیں۔ ایک انٹرنیشنل نشریاتی ادارے سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ‘پلیٹلیٹس بنیادی طور پر بلیڈنگ کو پلگ کرتے ہیں۔ یہ خون کے ساتھ گردش کرتے رہتے ہیں اور کہیں بھی کٹ یا خراش لگنے کی صورت میں وہاں جمع ہو کر کلاٹ (خون کا لوتھڑا) بنا لیتے ہیں‘۔

پلیٹلیٹس کیا کام کرتے ہیں؟

اس کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ پلیٹلیٹس چھوٹی چھوٹی ایسی پلیٹس ہیں جو کسی بھی جگہ جہاں خون کا اخراج ہو اس مقام پر پہنچ کر وہاں بند باندھ دیتے ہیں۔ خون کا یہ اخراج اندرونی بھی ہو سکتا ہے اور بیرونی بھی۔

بیرونی طور پر جسم پر زخم آنے کی صورت میں بہنے والا خون اور ایسی خراشیں یا زخم جو اندرونی طور پر آتی ہیں، پلیٹلیٹس ان سے خون کو رسنے یا خارج ہونے سے روکتے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق یہ عمل انسان کے جسم میں جاری رہتا ہے۔

‘ہم جو کھانا کھاتے ہیں اس دوران اندرونی خراشیں آ سکتی ہیں یا جیسا کہ اگر سر پر چوٹ آئے تو دماغ کے اندر بہت نازک کیویٹیز ہوتی ہیں اور اگر وہاں اندورنی طور پر خون کا اخراج ہو تو اس سے نقصان ہو سکتا ہے‘۔

پلیٹلیٹس کی کمی سے کیا نقصان ہو سکتا ہے؟

پلیٹلیٹس کی غیر موجودگی میں خون دماغ میں جمع ہونا شروع ہو جائے گا اور اس میں غیر معمولی دباؤ کا سبب بنے گا۔

ڈاکٹر ظفر اقبال نے بتایا کہ اس سے کئی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔

‘اگر پلیٹلٹس کی جسم میں کمی ہو تو برین ہیمریج یعنی دماغ میں نس کے پھٹنے یا خون کے رسنے کا عمل شروع ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے‘۔
وہ بتاتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ ایک صحت مند جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ تک ہوتی ہے۔ یہ انسان کی بون میرو یعنی ہڈی کے گودے کے اندر ضرورت کے مطابق قدرتی طور پر بنتے رہتے ہیں۔
ایک صحت مند جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے
ساڑھے چار لاکھ تک ہوتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں