311

تاریخ گجرات ۔۔۔ (آکاش نیازی)

تحقیق و رپورٹ: آکاش نیازی

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

گجرات صوبہ پنجاب کا ایک شہر اور ضلع گجرات کا صدر مقام ہے۔ گجرات پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شمال میں واقع ہے۔ اس ضلع کے مشرق میں گرداس پور خالصتان شمال مشرق میں جموں شمال میں بھمبر اور جہلم مغرب میں منڈی بہاؤالدین جنوب مغرب میں سرگودھا جنوب میں گوجرانوالہ اور جنوب مشرق میں سیالکوٹ واقع ہے۔ یہ شہر مشہور شاہرا ‎‎ہ جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔ اس ضلع کے جنوب سے دریائے چناب اور شمال سے دریائے جہلم‏ ‏‎ گزرتا ہے۔ اس ضلع کی تین تحصیلیں گجرات کھاریاں اور سرائے عالمگیر ہیں۔

محل وقوع
گُجرات دریائے چناب کے کنارے آباد ہے۔ لاہور سے 120 کلومیٹر جنوب میں ہے۔ آس پاس کے مشہور شہروں میں وزیرآباد، گوجرانوالہ، لالہ موسیٰ، جہلم، کوٹلا، منڈی بہاوالدین اور آزاد کشمیر شامل ہیں۔ شہر سینکڑوں دیہاتوں میں گھِرا ہوا ہے۔ جہاں سے لوگ کام کاج کیلئے شہر کا رخ کرتے ہیں۔ ضلع گُجرات کے زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔

جغرافیہ
یہ قدیمی شہر دو دریاؤں دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان واقع ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کی زمین بہت ذرخیز ہے، زیادہ تر گندم، گنے اور چاول کی کاشت کےلیے موزوں ہے۔ گجرات کے شمال مشرق میں جموں کشمیر اور شمال مغرب میں دریائے جہلم واقع ہے، جو گجرات کو ضلع جہلم سے علیٰحدہ کرتا ہے۔ مشرق اور جنوب مشرق میں دریائے چناب جو ضلع گجرات کو ضلع گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سے علیٰحدہ کرتا ہے اور جنوب میں منڈی بہاؤالدین واقع ہے- ضلع گجرات کا رقبہ تقریباً 3192 مربع کلومیٹر ہے اور یہ تین تحصیلوں، جن میں تحصیل گجرات، کھاریاں اور سرائے عالمگیر شامل ہیں۔

تاریخ
گجرات ایک قدیمی شہر ہے۔ برطانوی تاریخ دان Gen. Cunningham کے مطابق گجرات شہر 460 قبل مسیح میں راجہ بچن پال نے دریافت کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسکندر اعظم کی فوج کو ریاست کے راجہ پورس سے دریائے جہلم کے کنارے زبردست مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر کے محکمانہ نظام کی بنیاد 1900 میں برطانوی سامراج نے ڈالی، جو علاقہ کے چوہدری دسوندھی خان، جو محلہ دسوندھی پورہ کے رہنے والے تھے، کی مدد سے شروع کی گئی۔ مغلیہ دور میں، مغل بادشاہوں کا کشمیر جانے کا راستہ گجرات ہی تھا۔ شاہ جہانگیر کا انتقال کشمیر سے واپسی پر راستے میں ہی ہو گیا، ریاست میں بدامنی سے بچنے کیلئے انتقال کی خبر کو چھپایا گیا اور اس کے پیٹ کی انتڑیاں نکال کر گجرات میں ہی دفنا دی گئی، جہاں اب ہر سال شاہ جہانگیر کے نام سے ایک میلہ لگتا ہے۔ انگریزوں اور سکھوں کے درمیان دو بڑی لڑائیاں اسی ضلع میں لڑیں گیں، جن میں چیلیانوالہ اور گجرات کی لڑائی شامل ہیں۔ اور گجرات کی لڑائی جیتنے کے فورا بعد انگریزوں نے 22 فروری 1849 کو پنجاب کی جیت کا اعلان کر دیا۔

تاریخی باقیات
ایسی کئی تاریخی عمارتیں اور باقیات کھنڈروں کی شکل میں گجرات کے آس پاس موجود ہیں۔ گرینڈ ٹرنک روڈ جسے “جی ٹی روڈ” بھی کہا جاتا ہے، شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی جو گجرات کے پاس سے گزرتی ہے، ابھی تک جوں کی توں موجود ہے. یہاں کے زیادہ تر لوگ گجر، آرائیں مہر، جٹ وڑائچ، ملک، کشمیری، سید، شیخ ہیں۔ قریبی قصبوں میں شادیوال، کالرہ کلاں، ڈنگہ، کوٹلہ، کڑیانوالہ، جلالپور جٹاں، گورالی، کٹھالہ اور کنجاہ شامل ہیں۔

وجہ شہرت
اس ضلع کے تین فوجی جوان نشان حیدر حاصل کر چکے ہیں. جن میں راجہ عزیز بھٹی شھید، میجر شبیر شریف شہید اور میجر محمد اکرم شہید شامل ہیں۔ جبکہ سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا تعلق بھی گجرات سے ہی ہے۔

پاکستان کے مشہور سیاستدانوں چوہدری ظہور الٰہی، فضل الہی چوہدری (سابق صدر پاکستان)، چوہدری سرور جوڑا، میاں مشتاق پگانوالا، چوہدری شجاعت حسین (سابق وزیراعظم، سربراہ مسلم لیگ ق)، چوہدری پرویز الٰہی (سابق وزیر اعلی، مسلم لیگ ق)، چوہدری احمد مختار (پی پی پی)، قمر زمان کائرہ (پی پی پی)، چوھدری عابد رضا کوٹلہ (مسلم لیگ ن)، نوبزادہ سرفضل علی “اجنالہ” ؛ بیرسٹر چوھدری اعتزاز احسن سابق وزیر قانون / وزیر داخلہ “منگووال غربی”، چوھدری خوشی محمد ناظر سابق گورنر کشمیر /انقلابی شاعر “ھریہ والہ” کا تعلق اسی ضلع سے ہے.

آرٹسٹ
ممتاز شانتی، صبیحہ خانم، بالی جٹی، روشن آرا، لیلی، نشو، ممتاز، چکوری، عنایت حسین بھٹی، کیفی، عثمان پیرزادہ، جنرل رانی، عالم لوہار، عارف لوہار، ارم حسن، شگفتہ اعجاز، چاند برال، استاد امام دین گجراتی، راذ گجراتی وغیرہ وغیرہ

صعنت
گجرات بجلی کے پنکھوں، فرنیچر سازی، برتن سازی اور جوتوں کی صنعت میں ایک نام رکھتا ہے.

ايکسپورٹ
گجرات بجلی کے پنکھوں اور جوتوں کی ایکسپورٹ میں ایک نام رکھتا ہے. اس کے علاوہ مشرق وُسطی، یورپ اور امریکہ کے کسی بھی شہر میں چلے جائٰیں، آپ کو ضلع گجرات کے لوگ مل جائیں گے. گجرات پنجاب کا ایک ایسا ضلع ہے جہاں کے بہت سے لوگ بیرون ملک کام کرتےہیں اور وطن عزیز کو قیمتی زرمبادلہ کماکر بھیجتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں