222

لیکن ہم اسے ظلم سمجھتے ہیں ۔۔۔ (رانا اسامہ علی)

تحریر: رانا اسامہ علی

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

اس نے چابی اگنیشن سے نکال کر وہاں کھڑے لڑکے کو دی، اس لڑکے نے چابی لی اور پٹرول والی ٹنکی کھولنے لگا۔ 000 میٹر چیک کرنے کے بعد اس نے جیب سے سگریٹ اور لائٹر نکالا اور بڑے آرام سے سگریٹ سلگانے لگا وہاں کھڑے ایک لڑکے نے اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن اس نے اسے اپنے کام سے کام رکھنے کا مشورہ عنایت کرتے ہوئے جھاڑ دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں ٹنکی فِل ہو گئی اور ورکر اسے چابی واپس کرنے آیا، اس نے اسی سگریٹ والے ہاتھ سے چابی لینے کی کوشش کی لیکن اچانک ہی اس ورکر کے ہاتھ پر لگے ہوئے پٹرول کے چھینٹوں نے سگریٹ کے شعلے سے آگ پکڑ لی۔ آگ لگتے ہی گاڑی میں بھی آگ بھڑک اٹھی اور اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے کا سارا پٹرول پمپ خاکستر ہو گیا۔

اس نے تیزی سے موٹر بائیک گھر سے نکالی اور جانے لگا تو اس کی ماں نے پیچھے سے آواز لگائی بیٹا ہیلمٹ پہنتے جاؤ، لیکن اس نے سنی ان سنی کر دی اور چلا گیا۔ راستے میں ایک ٹرک کو کراس کرتے ہوئے اچانک سامنے سے گاڑی آگئی وہ اپنی رفتار پر قابو نہ پا سکااور گاڑی سے جا ٹکرایا۔ باقی جسم پہ تو کچھ خاص چوٹیں نہیں آئی تھیں لیکن سر پہ بہت شدید قسم کی چوٹ لگی، اسے ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔

نمازِ فجر کے بعد وہ سب لوگ ذکر و اذکار میں مشغول ہو گئے اب اُن کے لیے اگلا مرحلہ ناشتہ بنانے کا تھا، ان سب نے کام بانٹ رکھے تھے۔ کسی کے ذمّے کھانا بنانا تھا تو کسی کے ذمّے راشن کی دیکھ بھال تھی۔ کسی کی ذمّے داری میں اسٹیشن کے باہر جا کر سامان لانا تھا، اور کسی کی ذمّے داری میں دستر خوان لگانا تھا۔ انہوں نے گیس سلنڈر آن کیا اوراپنے کام میں مصروف ہو گئے۔ ویسے تو پبلک ٹرانسپورٹ میں گیس سلنڈر لانا سخت منع تھا، لیکن شاید ایک مخصوص مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں اجازت دے دی گئی۔ جو کہ سرا سر غلط تھا۔ اسی اثنا میں ایک گارڈ آیا اور چولہا جلتے دیکھ کر انہیں انتہائی محبت بھرے انداز میں چولہا بند کرنے کی درخواست کی۔ اور انہوں نے وقتی طور پر چولہا بند بھی کر دیا۔ لیکن اس گارڈ کے جاتے ہی انہوں نے دوبارہ چولہا جلا لیا۔ اچانک ہی گیس لیک ہونا شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھے آگ بھڑک اٹھی۔ جس کی وجہ سے پورے کیبن میں ہلچل سی مچ گئی۔ اس ہلچل کی وجہ سے پاس ہی پڑا ہوا ہو کوکنگ آئل زمین پر بہنے لگا اور اس نے آگ پکڑ لی، دیکھتے ہی دیکھتے ٹرین کی پوری بوگی میں دھواں ہی دھواں ہی دھواں پھیل گیا۔ آہستہ آہستہ آگ کے اثرات دوسرے بوگیوں تک بھی پہنچنے لگے اور رفتہ رفتہ دوسری اور بھر تیسری بوگی میں بھی آگ بھڑک اٹھی کچھ لوگوں نے گھبراہٹ کے عالم میں ٹرین سے چھلانگیں لگا دیں ۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے کئی جانیں ضائع ہو گئیں۔اگر وہ سلنڈر نہ جلاتے تو شائد ایک بہت بڑے حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔

اکثر اوقات یہ پابندیاں اور قوانین ہماری ہی حفاظت کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ لیکن ہم اسے ظلم سمجھتے ہیں۔ کبھی کبھار ہم صرف اپنی ہی نہیں اپنے اِرد گرد موجود لوگوں کی زندگی کے لیے بھی خطرہ بن جاتے ہیں۔ اوپر بیان کیے گئے واقعے میں صرف چند افراد بہت سی معصوم جانوں کے ضیاع کا سبب بن گئے۔
ہمارے نبی کریم ﷺ نے جہاں ارشاد فرمایا کہ :
“جس نے ایک شخص کی جان بچائی گویا ، اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی”
وہیں اگر تصویر کا دوسرا پہلو دیکھا جائے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس نے ایک شخص کی جان لی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان لی۔
قوانین پر عملدرآمد کر لینے سے کسی کی بھی عزت یا شان میں فرق نہیں آتا، ہاں! البتہ اتنا ضرور ہو جاتا ہے کہ اس وجہ سے ہماری اور ہمارے اِرد گرد لوگوں کی زندگیاں محفوظ رہتی ہیں۔ درج بالا حادثات میں بھی اگر قوانین کی پاسداری کی جاتی تو بہت سی جانیں بچ سکتیں تھیں۔
اس لیے براہِ کرم جس قدر ہو سکے قوانین کی پاسداری کیجیئے اور حکومت اور دیگر قومی اِداروں کی جانب سے مختلف مواقع پر لگائی جانے والی پابندیوں پر عمل کریں اور اپنی اور اپنے ہم وطنوں کی سلامتی میں بطور ذمّہ دار شہری اپنا کردار ادا کریں۔
اللہ پاک وطن عزیز کو اور اس کے باسیوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔
آخر میں ایک ہی دعا ہے کہ:

خدا کرے کہ میرے ایک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں