198

اسلام آباد: ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر تعینات نہیں ہوتا جیسے آرمی چیف کو کیا جا رہا ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر تعینات نہیں ہوتا جیسے آرمی چیف کو کیا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار ریاض حنیف راہی عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے آج دو بار عدالت سے اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی جسے عدالت نے دونوں بار مسترد کردیا۔ وہ گزشتہ روز سماعت میں پیش نہیں ہوئے تھے اور اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی تھی جسے مسترد کردیا گیا تھا۔

دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے تین امور ہیں، پہلا تقرری کی قانونی حیثیت کا ہے، دوسرا تقرری کے طریقہ کار کا ہے، تیسرا تقرری کی وجوہات ہیں، وزیر اعظم کسے آرمی چیف لگاتے ہیں یہ ہمارا مسئلہ نہیں، حکومت کل تک اس معاملے کا حل نکالے، کل کے بعد وقت نہیں رہ جائے گا پھر فیصلہ کرنا پڑے گا، اگر معاملہ غیر قانونی ہوا تو پھر ذمہ داری ہم پر آ جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے پاس وقت نہیں ملک میں ہیجان برپا ہے، اگر آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہوا تو پھر ہم نے حلف اٹھا رکھا ہے اللہ کو جواب دینا ہے، کل کے بعد مہلت ختم ہو جائے گی، جس کے بعد ہم کو بھی فیصلہ کرنا پڑے گا اور حکومت کو بھی۔ ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم اس کیس کا فیصلہ کریں گے، ملک میں ہیجانی کیفیت نہیں ہونی چاہیے اور ابہام دور ہونا چاہیے، ہم شام تک بیٹھ کر مقدمے کو سنیں گے، ہمیں پاک فوج کا بہت احترام ہے لیکن پاک فوج کو پتا تو ہو ان کا سربراہ کون ہوگا۔

آج سماعت شروع ہوئی چیف جسٹس نے کہا کہ ریاض حنیف راہی صاحب آپ کہاں رہ گئے تھے، کل آپ تشریف نہیں لائے، ہم نے آپ کی درخواست زندہ رکھی۔ ریاض حنیف راہی نے کہا کہ حالات مختلف پیدا ہو گئے ہیں اور اپنی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم انہی حالات میں آگے بڑھ رہے ہیں،آپ تشریف رکھیں۔ دوران سماعت بھی ایک موقع پر ریاض حنیف راہی نے پھر اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ آپ بیٹھنا چاہیں تو بھی آپ کی مرضی جانا چاہیں تو بھی، ہو سکتا ہے اٹارنی جنرل کے دلائل کے بعد آپ کو آرمی چیف لگا دیا جائے۔

حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل انورمنصور خان اور آرمی چیف کی طرف سے سابق وزیر قانون فروغ نسیم عدالت میں پیش ہوئے تاہم آرمی چیف کے حق میں زیادہ تر دلائل اور کیس کی تقریبا پیروی اٹارنی جنرل نے ہی کی۔ سماعت شروع ہونے سے قبل وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل امجد شاہ نے کہا تھا کہ فروغ نسیم کی وکالت کا لائسنس معطل ہے، اگر وہ معطل شدہ لائسنس کے ساتھ پیش ہوئے تویہ قابل سزا جرم ہے جس پر اعتراض اٹھائیں گے۔ امجد شاہ نے دوران سماعت بھی فروغ نسیم پر اعتراض اٹھائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔ ایک موقع پر دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جسٹس کیانی کہہ دیا جس پر چیف جسٹس نے انہیں ٹوکا کہ وہ جسٹس نہیں جنرل کیانی تھے۔ اس پرعدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کردیا

اٹارنی جنرل نے کابینہ کی نئی منظوری عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 243 کے مطابق صدرمملکت افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں جو وزیراعظم کی سفارش پرافواج کے سربراہ تعینات کرتے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ آرٹیکل 243 میں تعیناتی کا ذکر ہے، کیا تعیناتی کی مدت کابھی ذکر ہے اور کیا ریٹائرڈ جنرل کوآرمی چیف لگایا جاسکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ شاید ریٹائر جنرل بھی بن سکتا ہو لیکن آج تک ایسی کوئی مثال نہیں، جبکہ مدت تعیناتی نوٹیفکیشن میں لکھی جاتی ہے جو صوابدید ہے اور آرمی ریگولیشن آرمی ایکٹ کے تحت بنائے گئے ہیں۔ 5،7 جنرل دس دس سال توسیع لیتے رہے، کسی نے نہیں پوچھا. چیف جسٹس نے کہا کہ انتہائی اہم معاملہ ہے اور اس میں آئین خاموش ہے، 5،7 جنرل دس دس سال تک توسیع لیتے رہے، کسی نے پوچھا تک نہیں، آج یہ سوال سامنے آیا ہے، اس معاملے کو دیکھیں گے تاکہ آئندہ کے لیے کوئی بہتری آئے، تاثر دیا گیا ہے کہ آرمی چیف کی مدت 3 سال ہوتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اگر آرمی چیف کو دوبارہ تعینات کیا ہے تو صاف بتائیں۔ اٹارنی جنرل نے آرمی چیف کی تعیناتی کا نیا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ آرمی چیف کو مدت مکمل ہونے پر دوبارہ تعینات کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ نوٹیفکیشن کے مطابق آرمی چیف کو توسیع دی گئی ہے اور ریٹائرمنٹ کو محدود کیا گیا ہے، پرانے نوٹیفکیشن میں تعیناتی کا ذکر تھا لیکن نئے میں توسیع کا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سمری کے مطابق وزیراعظم نے توسیع کی سفارش ہی نہیں کی، سفارش نئی تقرری کی تھی لیکن نوٹیفکیشن توسیع کا ہے، کیا کسی نے سمری اور نوٹیفکشن پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کی، کل ہی سمری گئی اور منظور بھی ہو گئی، آرٹیکل 243 کے تحت تعیناتی ہوتی ہے توسیع نہیں۔ اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ جو سمری صدر کو بھجوائی گئی تھی اس میں آئین کے آرٹیکل 243 کا ذکر ہے، صدر نے دستخط دوبارہ تعیناتی کے ہی کیے ہیں، وزارت کی سطح شاید نوٹیفکیشن میں توسیع لکھا گیا۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ 29 نومبر کو جنرل باجوہ آرمی اسٹاف کا حصہ نہیں ہونگے اور نوٹیفکیشن کے مطابق 29 نومبر سے دوبارہ تعیناتی ہو گی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمانڈ کی تبدیلی تک جنرل باجوہ دوبارہ ریٹائر نہیں ہونگے۔ اس پر چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ سمری میں تو لکھا ہے 29 نومبر کو جنرل باجوہ ریٹائر ہو جائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دوبارہ تعیناتی کا مطلب ہے کہ پہلے تعیناتی ختم ہو گئی، پاک فوج کا معاشرے میں بہت احترام ہے، وزارت قانون اور کابینہ ڈویژن کم از کم سمری اور نوٹیفکیشن تو پڑھیں، فوجیوں نے خود آ کر تو سمری نہیں ڈرافٹ کرنی، ایک ریٹائرڈ جج کو چیئرمین نیب لگایا گیا تھا، جسٹس ریٹائرڈ دیدار شاہ کو وزارت قانون نے رسوا کیا، اسی کی وجہ سے دیدار شاہ کی تعیناتی کالعدم ہوئی، اب بھی وقت ہے حکومت دیکھے یہ کر کیا رہی ہے، اعلی ترین افسر کے ساتھ تو اس طرح نہ کریں۔ اٹارنی جنرل بولے یہ کوئی نیا کام نہیں ہو رہا، ماضی میں بھی توسیع ایسے ہی ہوتی تھی۔ جس پر جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ماضی میں کسی نے کبھی توسیع کا عدالتی جائزہ نہیں لیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج آرمی چیف کے ساتھ یہ ہو رہا تو کل صدر اور وزیراعظم کے ساتھ ہو گا، ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی نہیں ہوتی جیسے آرمی چیف کو کیا جا رہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی کو بغیر کمانڈ کے نہیں چھوڑا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی نہیں چاہتا آرمی کما نڈ کے بغیر رہے، لیکن وزارت قانون کی پوری کوشش ہے کہ آرمی کو بغیر کمانڈ رکھا جائے، ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی نہیں ہوتی جیسے آرمی چیف کو کیا جا رہا ہے، کل تک کوئی حل نکال لیں، ناجائز کسی کو کچھ نہیں کرنا چاہیے، اگرکوئی غیرقانونی کام ہوا ہے تو اسےکالعدم قراردینےکاحلف اٹھایاہے، ججز صرف اللہ کو جوابدہ ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آرمی چیف کو شٹل کاک کیوں بنایا گیا، آرمی بغیر کمانڈ ہوئی تو ذمہ دار کون ہو گا، آج آرمی چیف کے ساتھ یہ ہو رہا تو کل صدر اور وزیراعظم کے ساتھ ہو گا، آپ خود کہتے ہیں توسیع اور تعیناتی الگ چیزیں ہیں، نوٹیفکیشن جاری کرنے والوں کی ڈگریاں چیک کروائیں، آئینی اداروں میں روز ایسا ہوتا رہا تو مقدمات کی بھرمار ہو گی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ ہم نے کل چند سوالات اٹھائے تھے، کل جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی وفاقی کابینہ نے ان کو تسلیم کرکے تصحیح کی۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ حکومت نے کہیں بھی نہیں کہا کہ ان سے غلطی ہوئی، میں کچھ وضاحت پیش کرنا چاہتا ہوں، کل کے عدالتی حکم میں بعض غلطیاں ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ صرف 11 ارکان نے کابینہ میں توسیع کی منظوری دی، کابینہ سے متعلق نکتہ اہم ہےاس لیے اس پربات کروں گا، رول 19 کے مطابق کابینہ ارکان کے جواب نہ آنے کا مطلب بھی ہاں ہی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کابینہ کے ارکان نے مقررہ وقت تک جواب نہیں دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو حکومت اس کارروائی سے آگے جا چکی ہے، رول 19 میں وقت مقرر کرنے کی صورت میں ہی ہاں تصور کیا جاتا ہے، اگرکابینہ سرکولیشن میں وقت مقررنہیں تھا تواس نکتے کو چھوڑ دیں، اگر حالات پہلے جیسے ہیں تو قانون کے مطابق فیصلہ کردیتے ہیں۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ نے آج بھی ہمیں آرمی ریگولیشنز کا مکمل مسودہ نہیں دیا، جو صفحات آپ نے دیئے وہ تو صرف نوکری سے نکالنے کے حوالے سے ہیں۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت 3 سال کہاں مقرر کی گئی ہے، کیا وہ 3 سال بعد خود ہی گھر چلا جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی چیف کی مدت تعیناتی کا کوئی ذکر نہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا آپ نے جو دستاویزات جمع کرائیں ان کے ساتھ آرمی چیف کا اپائنٹمنٹ لیٹر ہے، جنرل قمر باجوہ کی بطورآرمی چیف تعیناتی کا نوٹیفکیشن کہاں ہے، کیا پہلی بارجنرل باجوہ کی تعیناتی بھی 3 سال کے لئے تھی، آرمی چیف کی مدت تعیناتی طے کرنے کا اختیار کس کو ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت پرقانون خاموش ہے اور آرٹیکل 243 کے تحت کابینہ سفارش نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کابینہ کی سفارش ضروری نہیں تو 2 بار معاملہ کابینہ کو کیوں بھیجا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریٹائرمنٹ 2 اقسام کی ہوتی ہے، ایک مدت ملازمت پوری ہونے پراوردوسری وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ، ہمیں بتائیں آرمی چیف ریٹائرکیسے ہوگا، نارمل ریٹائرمنٹ توعمر پوری ہونے پرہوجاتی ہے، آرمی ریگولیشن کی شق 255 کوریٹائرمنٹ کے معاملے کےساتھ پڑھیں تو شاید صورتحال واضح ہوسکتی ہے۔

اس موقع پر سابق وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ جنگی صورتحال میں کوئی ریٹائرہورہا ہو تو اسے کہتے ہیں آپ ٹھہر جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 255 اے کہتا ہے اگر جنگ لگی ہو تو چیف آف آرمی اسٹاف کسی کی ریٹائرمنٹ کوروک سکتا ہے، یہاں تو آپ چیف کو ہی سروس میں برقراررکھ رہے ہیں، قانون کے مطابق آرمی چیف دوران جنگ افسران کی ریٹائرمنٹ روک سکتے ہیں، لیکن حکومت آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کو روکنا چاہتی ہے، آپ کا سارا کیس 255 اے کے گرد گھوم رہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ 1948 سے آج تک تمام آرمی چیف ایسے ہی تعینات ہوئے اور ریٹائرمنٹ کی معطلی عارضی نہیں ہوتی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا 3 سالہ مدت کے بعد آرمی چیف فوج میں رہتا ہے یا گھر چلاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فوجی افسران سروس کی مدت اور مقررہ عمر کو پہنچنے پرریٹائر ہوتے ہیں، قانون سمجھنا چاہتے ہیں ہمیں کوئی جلدی نہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تو رات تک دلائل دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کو آئینی عہدے پرتوسیع آئین کے تحت نہیں بلکہ عارضی سروس رولز کے تحت دی گئی، بظاہر تعیناتی میں توسیع آرمی ریگولیشنز کے تحت نہیں دی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے جس آرمی ریگولیشنز کی سیکشن 255 میں کل ترمیم کی گئی وہ آرمی چیف کے متعلق ہے ہی نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کو فوج کی کمانڈ اور سروس کے حوالے سے رولز بنانے کا اختیار ہے۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں سپہ سالارکی مدت تعیناتی کے متعلق کچھ نہیں، اگر آرمی ایکٹ میں مدت تعیناتی نہیں تورولز میں کیسے ہو سکتی ہے؟ آرمی ایکٹ میں صرف لکھا ہے کہ آرمی چیف فوج کی کمانڈ کرینگے۔

سماعت میں چند گھنٹوں کے لیے وقفہ ہوا جس کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی آرٹیکل 243 کے تحت ہوتی ہے، مدت مقرر نہ ہو تو کیا آرمی چیف تاحیات عہدے پر رہیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ قانون کی عدالت ہے یہاں شخصیات معنی نہیں رکھتیں، جو کام قانونی طور پر درست نہیں اسے کیسے ٹھیک کہہ سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو قانون پر اتنا سخت نہیں ہونا چاہیے، بعض اوقات سختی سے چھڑی ٹوٹ جاتی ہے، مدت تعیناتی میں توسیع کا ذکر رولز میں ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اصل مسئلہ آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کا ہے، آرمی ایکٹ میں کسی افسر کی مدت تعیناتی کا ذکر نہیں، ان تمام باتوں کو چھوڑ کر سوال بار بارمدت کے تعین کا آرہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رولز ہمیشہ ایکٹ اور قانون کے تحت ہی بنتے ہیں، ایکٹ میں ایسا کچھ نہیں کہ کسی بہت قابل افسر کو ریٹائر ہونے سے روکا جائے، آرمی ایکٹ میں مدت اور دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا بھی ذکر ایکٹ میں نہیں، آرمی آفیسر کے حلف میں ہے کہ اگر جان دینا پڑے تودے گا، یہ بہت بڑی بات ہے، میں خود کو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کروں گا، یہ جملہ بھی حلف کا حصہ ہے، بہت اچھی بات ہے اگر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیا جائے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جرم کرنے والے افسران پر آرمی ایکٹ کی سیکشن 292 کا اطلاق ہوتا ہے، ایکٹ میں واضح ہے کہ ریٹائرڈ افسر کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، فور اسٹار جنرل کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں سزا یافتہ تینوں سابق اعلی فوجی افسران کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ تفصیلات دیکھ کر جائزہ لیں گے سزا کس قانون کے تحت ہوئی، قوائد میں یہ نہیں لکھا کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے ریٹائرمنٹ معطل ہو سکتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آرمی چیف کو وفاقی حکومت نہیں وزیراعظم کی سفارش پر صدر تعینات کرتے ہیں، جسے تعینات وفاقی حکومت نے نہیں کیا اسے حکومت چھیڑ بھی نہیں سکتی، آرمی چیف پر سیکشن 255 کا اطلاق نہیں ہوتا، کہاں لکھا ہے کہ آرمی چیف خود اپنی مدت میں توسیع کر سکتے ہیں، عدالت کے سامنے سوال آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا ہے، کوئی چاہے ساری عمر جنرل رہے اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں۔ اٹارنی جنرل نے جنرل قمر باجوہ کی بطور آرمی چیف تقرری کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ نوٹیفکیشن میں کہیں آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت کا ذکر نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی چیف کو توسیع کی ضرورت ہی نہیں، نوٹیفکیشن کے مطابق وہ ہمیشہ آرمی چیف رہیں گے، کیا جنرل باجوہ کو آگاہ کیا گیا کہ انہیں کتنے سال کے لیے تعینات کیا گیا۔

چیف جسٹس نے فروغ نسیم کو روسٹر پر بلاکر پوچھا کہ کیا آرمی چیف کل ریٹائر ہو رہے ہیں؟ فروغ نسیم نے جواب دیا کہ آرمی چیف کل نہیں پرسوں رات 12 بجے ریٹائر ہونگے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہتے ہیں وہ ریٹائر ہو رہے لیکن اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ جنرل ریٹائر نہیں ہوتا۔ فروغ نسیم کے روسٹرم پر آنے پر وائس چیئرمین پاکستان بار امجد شاہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ فروغ نسیم کا لائسنس پاکستان بار معطل کر چکی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ ابھی فروغ نسیم کو دلائل کیلئے نہیں بلایا، وقفے کے بعد اس معاملے کو بھی دیکھیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کاحکم نامہ معطل کردیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں