251

حویلی لکھا: پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بھی منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان باعثِ تشویش ہے۔ ڈاکٹر شاہد مرتضی چشتی.

حویلی لکھا (محمد احمد ساجد سے) پنجاب کے تعلیمی اداروں میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے، پابندی نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے عائد کی گئی ہے، پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بھی منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان باعثِ تشویش ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 76لاکھ افراد منشیات کا استعمال کرتے ہیں جن میں 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین شامل ہیں۔ جن میں سے ہرسال ڈھائی لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انجمن فلاح مریضاں پاکپتن کے صدر وانٹرنیشنل چشتی اتحاد کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر شاہد مرتضی چشتی نے گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر ا حویلی لکھا میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری حکیم لطف اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام نشوں کا آغاز تمباکو نوشی سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں 13 سے 16 قسم کا کینسر سگریٹ تمباکو نوشی اور گٹکا سے ہورہا ہے نظر کی کمزوری ہونٹ تالو کٹے اور نابینا بچے تمباکو کے دھواں کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 63 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کہ اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتےہیں، نشے کی لت میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں۔ منشیات استعمال کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد چوبیس سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں اور ملک کی دیگر یونیورسٹیز اور انکے کیمپس میں اس کا ملنا مشکل نہیں۔ تعلیمی اداروں میں استعمال ہونے والی منشیات میں چرس، بھنگ، ہیروئین، کرسٹل، افیون، شراب، کوکین، آئس، کپی، گٹکا، گردہ وغیرہ اورمختلف طرز کے انجیکشن شامل ہیں۔

پرنسپل میاں رفیق احمد وٹو نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کی یہ حالت ہوچکی ہے کہ ہر ہفتے نشے میں مبتلا کسی نہ کسی نوجوان کی لاش برآمد ہوتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال ایک فیشن بنتا چلا جارہا ہے اور بعض اساتذہ کرام بھی تمباکو نوشی کے عادی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ انسداد منشیات، پولیس فورسز اور دیگرمتعلقہ اداروں میں بھی تمباکو نوشی پر سخت پابندی عائد کی جائے۔ کیونکہ یہ معاشرے میں منشیات کا پھیلاؤ اور ختم نہ ہونیکی بنیادی اور بڑی وجہ ہے۔ اس کی بروقت روک تھام نہ ہوئی تو معاشرتی اخلاقیات کا جنازہ نکل جائے گا۔ اسکی روک تھام کیلئے منشیات سے آگاہی کے لئے ماؤں اور اساتذہ کے ساتھ مکالمہ کیا جائے۔ واک اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور آگاہی مہم شروع کی جائے۔ نوجوان نسل اس ملک کا قیمتی سرمایہ ہے۔ انکی اخلاقی تربیت کرکے انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانا ہوگا۔ منشیات فروشوں کو عبرت کا نشان بنا کر ہم اپنا مستقبل محفوظ کر سکتے ہیں۔ ڈرگ مافیا نے معاشرتی نظام کو مفلوج کرکے رکھ دیاہے۔

ایم ایس ٹی ایچ کیو حویلی لکھا ڈاکٹر شبیر چشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ایک دہشتگرد خودکش دھماکا کرکے چندافرادکوقتل کرتا ہے۔جبکہ منشیات فروش پورے معاشرے اور انسانیت کے قاتل ہیں اور یہ لوگ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انسدادمنشیات کے حوالے سے موجودہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنابھرپور کردارادا کرتے ہوئے منشیات فروشوں کیخلاف سخت اقدامات کرے۔ سگریٹ کی تشہیر، انعامی سکیموں اورکم عمر بچوں کو بیچنے پرپابندی عائد کی جائے اور تشہیر میں نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔ ٹرانسپورٹ اور ان کے اڈوں، ریلوے اسٹیشن، ائیرپورٹ سکول کالجز دفاتر اور تمام پبلک مقامات پر اس کے استعمال اور فروخت پر مکمل اور موثر پابندی عائد کی جائے۔ حکومت کو چاہئے کہ کھیل کے میدان آباد کرے اور کھیلوں کو فروغ دے تاکہ نوجوان غلط سوسائٹی کی بجائے کھیلوں میں دلچسپی لیں۔ جس ملک کے کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں اس ملک کے ہسپتال ویران ہو جاتے ہیں۔

اس موقع پر پرنسپل میاں رفیق احمد وٹو کو گران قدر تعلیمی خدمات کے اعتراف کے طور پر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کی طرف سے قائد اعظم ایوارڈ بدست سیکرٹری جنرل حکیم لطف اللہ، ڈاکٹر شاہد مرتضی چشتی وڈاکٹر شبیر چشتی دیا گیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں