357

پاکستان میں سرکاری پبلک لائبریریوں کی حالت زار ۔۔۔ (پیر فیضان چشتی)

ازقلم: پیر فیضان چشتی

علم ایک ایسی لازوال نعمت ہے کہ جب انسان کے پاس آتی ہے تو اسے اچھائی اور برائی میں تمیز اور اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے. قوموں کے عروج کےاسباب میں سے ایک سبب علم بھی ہے، جس کے باعث قومیں ترقی کی شا ہراہوں کی طرف گامزن ہوتی ہیں۔ علم چاہے فلکیات کا ہو یا معاشیات کا سائنسیات کا ہو یا ریاضیات کا الغرض دینی علوم ہوں یا دنیوی دونوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے لائبریریاں اہم کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ لائبریریاں دینی و دنیوی کتب سے مزین ہوتی ہیں اوراگر ایک جہت سے دیکھا جاے تو کتب خانے علم کے قلعے اور آماجگاہیں ہوتے ہیں جہاں سے محقق کو اپنی تحقیق اور مصنف کو اپنی تصنیف میں مدد ملتی ہے، علم اور کتب خانوں کا ساتھ ہمیشہ سے چولی دامن کا رہا ہے. کتب خانوں کی تاریخ بہت پرانی ہے اسلام پسند بادشاہوں اور ہمارے اسلاف نے علم کی روشنی کو عام کرنے کے لیے وسیع و عریض پیمانے پر سیکڑوں کتب خانے بنائے جن میں لاکھوں کے حساب سے کتب موجود تھی اور ہر فن پر سینکڑوں کتب دستیاب ہوتی تھیں.

قرون وسطی میں عیسائیوں نے جب مسلمانوں کےکتب خانے جلا دئیے اور مسلمانوں کی چھ سو سالہ محنت ضائع کر دی گئی، مؤرخین نے لکھا کہ اس وقت ساٹھ لاکھ کتابیں جلا دی گئی، سات لاکھ اسکندریہ میں، پندرہ لاکھ سپین میں، تیس لاکھ طرابلس میں ، تین لاکھ سسلی میں اور کئی لاکھ قسطنطنیہ میں، ایشائے خورد، فلسطین، دمشق، میں جلائی گئی اور یورپ میں جو کسر باقی رو گئی تھی تو تیرھویں صدی میں تاتاریوں نے پوری کر دی۔ انہوں نے بغداد، کوفہ، بصرہ، حلب، دمشق، نیشاپور، خراسان، خوارزم اور شیراز کی سینکڑوں لائبریریاں جن میں مجموعی کتب کی تعداد تین کڑوڑ سے زیادہ تھی نذر اتش کردیں. اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مسلمان بادشاہوں اور علوم و فنون کے ماہرین علماء کرام نے کس قدر کتب تصنیف کیں اور پھر اسلام کے محب بادشاہوں نے کس طرح ان کے علم و فن کے موتیوں کو کتب خانوں کی صورت میں محفوظ رکھا اور پھر ان کتب خانوں سے سینکڑوں مفکرین، مدبرین، محققین اور مصنفین نے استفادہ کر کے اپنے اپنے علم و فن میں ایجادات کی مگر بدقسمتی سے کچھ نا عاقبت اندیش بادشاہوں اور غیر مسلموں نے مسلمانوں کے یہ اثاثہ جات بھسم کر دئیے۔ یہ صورتحال کیوں بنی؟ کسے بنی؟ یہ ایک طویل موضوع ہے۔

پاکستان میں سرکاری لائبریریوں کی حالت کچھ اس طرح کی صورتحال اختیار کر چکی ہے کام وہی عیسایوں والا ہے مگر طریقہ کار مختلف ہے فقیر کو حوالہ جات وغیرہ دیکھنے کے لیے اکثر لائبریریوں کا رخ کرنا پڑھتا ہے مگر وہاں پر بڑی عجیب سی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے کہ کتابیں بڑھنے کی بجاے کم ہو رہی ہیں ایک مرتبہ جائیں تو کتاب موجود ہوتی ہے دوسری بار لائبریری کا چکر لگے تو غائب اور یہ اتفاق نہیں اکثر اس طرح ہوتا ہے اور کتابوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے اور بعض لائبریریوں میں ضخیم جلدوں والی کتب بھی دوسری مرتبہ نظر نہیں آتیں۔ یہاں پر ایک اعتراض کا جواب بھی دیتا چلوں کہ کوئی کہہ سکتا ہے کی چشتی صاحب یہ پبلک لائبریریاں ہیں لوگ پڑھنے کے لیے کتب گھر بھی لے جاتے ہیں اس لیے آپ کو دوبارہ جانے پر وہ نظر نا آئی ہوں یہ بات ٹھیک ہے مگر بزرگوں کی کتب کے قلمی نسخے اور پرانی کتب جن کی اشاعت اپ ناپید ہے وہ بھی اکثر لائبریریوں سے غائب ہیں فہرست میں نام موجود ہوتا ہے مگر الماری میں سے غائب ایسی صورتحال رہی تو لائبریریاں اسلاف کی کتب سے خالی ہو جائیں گی. جو ہمارے لیے قیمتی سرمایہ ہیں اور دوسرا طریقہ کتب غائب کرنے کا یہ اختیار کیا گیا ہے کہ بزرگوں کے قلمی نسخے اور بڑی بڑی جلدوں میں موجود کتب کو غائب کر کے ان کی جگہ عام کتب مارکیٹ سے لا کر رکھ دی جاتی ہیں تاکہ محسوس بھی نا ہو کہ کتب غائب ہوئی ہیں اور نا ہی لائبریری خالی خالی نظر آے اورپاکستان کی بیشتر لائبریریوں میں یہی صورتحال ہے، اس واسطے حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے اور بااثر علماء کرام کی توجہ کی ضرورت ہے کہ از سر نو لائبریریوں کاجائزہ لیا جاہے کہ کتب کہاں جا رہی ہیں اور کون لے جا رہاہے کس کے کہنے پر جا رہی ہیں.

لائبریریاں قوم کا سرمایہ ہوتی ہیں اور ہر مصنف، محقق، ریسرچ اسکالر کتب خانوں سے استفادہ کرتا ہے اور اپنی تحقیق اور تصنیف عوام الناس کے سامنے پیش کرتا ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو ہمارے پاس اپنے اسلاف کا جو علمی خزانہ باقی رہ گیا ہے اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے، لہذا اپنے بزرگوں کے علمی ورثہ کو محفوظ رکھنے کے لیے لائبریریوں کی چھان بین کرنے کی ضرورت ہے، کہ اندر ہی اندر کیا ہو رہا ہے اور چونکہ ہماری قوم کا علم سے لگاؤ برائے نام رہ گیا ہےاس لیے اس حساس بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دےرہا اور اگر کوئی صاحب بصیرت کتب خانوں سے استفادہ کرتا بھی ہے تو اس زاویہ سے کبھی اس نے دیکھا نہیں ہو گا کہ آخر کتب کہاں جاتی ہیں۔ اس کی چھان بین کرنا آئینی اور شرعی طریقہ کار کے مطابق بلکل ٹھیک ہے.

مصدق ۔
علامہ نقیب اللہ المدنی صاحب
ایم فل سکالر بہاولپور یونیورسٹی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں