261

ختم نبوت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔ (محمد انوارالحق)

تحریر۔۔۔۔ محمد انوار الحق

یہ بزنس کے لحاظ سے بہت کامیاب ایک کمپنی کے مرکزی دفتر کا منظر تھا ۔۔۔ وہ نوجوان اپنے ایک دوست کے توسط سے یہاں انٹرویو کے لیے آیا تھا ۔۔۔ خلاف توقع وہاں اسے اپنے علاؤہ اور کوئی امیدوار نظر نہیں آیا ۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ ریسیپشن پر اپنا نام اور آنے کا مقصد بتانے کے بعد اسے کچھ دیر انتظار کا کہہ کر سامنے لگی نفیس کرسیوں کی طرف بیٹھنے کا کہا گیا ۔۔۔

بیٹھ کر اس نے ایک نظر آفس کے ماحول پر ڈالی ۔۔۔ اسے یہ منظر فلموں اور ڈراموں میں دکھائے جانے والے کسی شاندار آفس جیسا لگا ۔۔۔ وہ پل بھر کو جیسے مرعوب سا ہوا تھا ۔۔۔ وہ ایک قابل نوجوان تھا جو ماسٹرز میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے کے باوجود عرصہ دراز سے بےروزگار تھا ۔۔۔ بہت جگہ دوڑ دھوپ کرنے کے بعد اب وہ مایوس ہوچکا تھا ۔۔۔ اس کے دوست نے اسے بہت امید دلا کر اسے یہاں بھیجا تھا ۔۔۔
“اگر اس شاندار آفس میں مجھے جاب مل جائے تو زندگی بہت آسان ہو جائے گی”
اس کی آنکھوں کے سامنے اپنی بوڑھی ماں اور دو بڑی بہنوں کا عکس لہرا رہا تھا ۔۔۔ اس کے مرحوم باپ کی پنشن سے گھر کا خرچہ بڑی مشکل سے چلتا تھا ۔۔۔ جبکہ بہنوں کی شادی کی عمر نکلی جارہی تھی۔

“شاہد صاحب آپ اندر جاسکتے ہیں”
ریسیپشن پر موجود لڑکی کی آواز سن کر وہ ایک دم ہی خیالات کی دنیا سے باہر آیا تھا۔
“اس طرف”
اس کے کھڑا ہوتے ہی لڑکی نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا تھا۔
کمرے کے دروازے تک پہنچتے ہی اس کے دل کی دھڑکن کچھ تیز ہوئی تھی ۔۔۔
دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر اس نے دروازہ کھولا تھا۔
“مے آئی کم ان سر؟”
اس نے پوچھا۔
“جی جی شاہد صاحب آجائیے”
بڑے سے خوبصورت میز کے پیچھے نشست پر بیٹھے ادھیڑ عمر آدمی نے مسکرا کر شگفتہ انداز میں کہا۔
“بیٹھئے پلیز”
وہ ان کے اخلاق اور چہرے پر سجی مسلسل مسکراہٹ سے بہت متاثر ہوا تھا۔
اس ادھیڑ عمر آدمی نے ایک سرسری سی نظر سے اس کی فائل میں موجود ڈاکیومنٹس کا جائزہ لیا ۔۔۔
“آپ کا تعلیمی ریکارڈ تو بہت شاندار ہے ۔۔۔ مجھے حیرت ہے کہ آپ جیسا قابل نوجوان ابھی تک بیروزگار کیسے ہے”
ستائشی نظروں سے اس کی تعریف کی گئی تھی۔
“تھینک یو سر”
ان الفاظ کو سننے کے بعد امید بھرے دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اتنا ہی کہہ سکا تھا۔
“اور ویسے بھی آپ کی سفارش اتنی تگڑی ہے کہ ہم انکار کر ہی نہیں سکتے ۔۔۔ ہم آپ کو یہ جاب دے رہے ہیں”
مسکراتے ہوئے اچانک ہی یہ دھماکہ کیا گیا تھا۔
وہ تو خوشی اور حیرت کے مارے کچھ بول ہی نہیں سکا تھا۔
“پچاس ہزار آپ کی سیلری ہوگی ۔۔۔ کنوینس کے لیے گاڑی بھی آپ کو دی جائے گی اور اچھی کارکردگی دکھانے پر سیلری میں اضافہ بھی کیا جاتا رہے گا”
“تھینک یو ۔۔۔ تھینک یو سو مچ سر۔۔۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے”
جذبات سے لبریز آواز اس کی اندرونی کیفیت کی عکاسی کررہی تھی ۔۔۔ اسے اپنے ہاتھ کانپتے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔ دل کی دھڑکن کی آواز اسے اپنے کانوں میں محسوس ہورہی تھی۔

“شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں شاہد صاحب۔۔۔ ہماری کمپنی آپ جیسے قابل اور معاشرے کے ہاتھوں ٹھکرائے ہوئے نوجوانوں کے لیے کچھ اچھا کرنے پر خوشی محسوس کرتی ہے”
“آپ واقعی عظیم ہیں سر۔۔۔۔ مجھے واقعی سمجھ نہیں آرہی کہ آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں”
اس نے تشکرانہ انداز میں کہا تھا۔
“آپ کے دوست احسان صاحب کے توسط سے ہمیں آپ کے بارے میں علم ہوا تھا کہ آپ کو جاب کی کتنی شدید ضرورت ہے ۔۔۔ اور آپ گھر والوں کو سپورٹ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں ۔۔۔ بلکہ اس نے تو یہ بھی بتایا تھا کہ آپ معاشی حالات کے ہاتھوں تنگ آکر مذہب سے بھی کافی دور ہوچکے تھے”
سوالیہ انداز میں دریافت کیا گیا۔
“بالکل سر۔۔۔ یہاں ہم جیسے نوجوانوں کا بری طرح سے استحصال کیا جاتا ہے ۔۔۔ ہر طرف سے دھتکارا جاتا ہے ۔۔۔ اور تو اور مجھے یوں لگتا تھا جیسے ہم لوگوں کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں”

اس نے مایوسی کے عالم میں کہا تھا ۔۔۔ اسے یاد بھی نہیں تھا کہ اس نے آخری بار کب نماز پڑھی تھی۔
“اگر میں کہوں کہ آپ کو ایک لاکھ تنخواہ دی جائے گی اور زندگی کی ہر وہ سہولت بھی جو کسی بھی نوجوان کا خواب ہوسکتی ہے تو کیا آپ ہماری ایک شرط مانیں گے۔۔۔؟’
یہ دوسرا دھماکہ تھا جو وہاں سے کیا گیا تھا۔
“کیوں نہیں سر۔۔ آپ جو کہیں گے میں کرنے کو تیار ہوں”
شاہد نے فوراً ہی جواب دیا تھا
“آپ کو احسان صاحب نے ہماری شرط کے بارے میں یقیناً کچھ بتایا ہوگا”
استفسار کیا گیا۔
“جی جی سر انھوں نے اشارہ تو دیا تھا اور کہا تھا کہ سلیکٹ ہونے پر باقی تفصیلات سے آگاہ کردیا جائے گا”
اس نے کہا۔
“بالکل۔۔۔ ہماری ایک شرط ہے اس کے بعد دنیا کی ہر سہولت آپ کے پاس موجود ہوگی ۔۔۔ اور وہ شرط یہ ہے کہ ۔۔۔”
بات کو ادھورا چھوڑا گیا تھا ۔۔
اس کے سارے حواس کان بن گئے تھے ۔۔۔ دل۔کی رفتار یکدم بہت بڑھ چکی تھی ۔۔
“آپ کو احمدیت قبول کرنا پڑے گی”
فقرہ مکمل کیا گیا تھا۔
مذہب سے اس کا تعلق تو کب سے کمزور پڑ چکا تھا ۔۔۔ اس کا ذہن سیکولرازم کی طرف کافی مائل ہوچکا تھا ۔۔ ایک بار اس کا ہاں کہنا تھا اور دنیا کی ہر آسائش اس کی دسترس میں ہوتی ۔۔
“ویسے بھی اس مذہب نے مجھے دیا ہی کیا ہے ۔۔۔ مجھے ان کی بات مان لینی چاہیے”
اس نے دل ہی دل میں سوچا تھا۔
“آپ احمدیت قبول کرلیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مان لیں ۔۔۔۔ اس کے بعد اگر آپ کسی یورپی ملک میں سیٹل ہونا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو وہاں سیٹل کردیتے ہیں اور جس لڑکی سے چاہیں گے آپ کی شادی بھی کرادی جائے گی۔”
اسے سوچوں میں گم دیکھ کر ایک اور پتہ پھینکا گیا۔
“کیا کہا انھوں نے ۔۔۔ کیا نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی ہوسکتا ہے ۔۔۔؟”
آخری نبی کے لفظ نے اس کے دل پر جیسے بری طرح سے ضرب لگائی تھی۔
“میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا”
برسوں پہلے کسی کتاب میں پڑھی گئی حدیث شریف جیسے آواز بن کر اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
وہ اندر تک لرز کر رہ گیا۔

“شاہد صاحب ۔۔۔۔ کن سوچوں میں گم ہیں ۔۔۔ دنیا کی ہر آسائش آپ کی ایک ہاں کی منتظر ہے”
سامنے بیٹھے اس شخص کی آواز اسے سنائی دی۔
لیکن وہ تو جیسے کسی اور جہاں میں ہی پہنچ چکا تھا ۔۔۔ برسوں پہلے پڑھا اور سنا جا نے والا اسلامی لٹریچر ایک دم ہی اس کے ذہن میں تازہ ہوگیا تھا۔ سب کچھ جیسے اس کی نگاہوں کے سامنے تھا۔
اپنے مرض الموت میں بھی شدید نقاہت کے عالم میں عرب کی غضب ناک گرمی میں نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹنی پر سوار ہیں اور دونوں ہاتھوں کو اٹھائے اپنے پروردگار سے اس امت کی بخشش کی التجا کررہے ہیں ۔۔۔ نقاہت کی وجہ سے ہاتھ بار بار نیچے آرہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمت کرکے دوبارہ ہاتھ اٹھا کر رو رو کر اس امت کے لیے دعا کررہے ہیں ۔۔۔ آنسو مبارک سے ریش مبارک پوری طرح سے تر ہے۔
منظر بدلتا ہے ۔۔۔۔

حشر کا میدان ہے ۔۔۔ ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے ۔۔۔ ہر کوئی نفسی نفسی پکار رہا ہے ۔۔ حتیٰ کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے لبوں پر بھی اللہ کے حضور یہی فریاد ہے ۔۔۔ اچانک ایک آواز سب پر حاوی ہوجاتی ہے ۔۔۔
“یاربّ امتی امتی ۔۔۔ یا ربّ امتی امتی ۔۔۔ اے رب میری امت ۔۔۔ اے رب میری امت”
دکھ درد میں بھری آواز کو جیسے وہ اپنے کانوں سے سن رہا تھا ۔۔۔ وہ بری طرح سے کانپ کر رہ گیا۔
نبی کریم آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت سے شفقت و محبت کا ہر ہر پہلو جیسے اس کی نگاہوں کے سامنے تیزی سے گزر رہا تھا ۔۔ ارد گرد کے سارے مناظر ۔۔۔ وہ آفس اور ٹیبل کے پیچھے بیٹھے اس مکروہ شخص کی موجودگی سب کچھ جیسے اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوچکی تھی۔

اسے یاد آیا کہ مرض الوفات کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسنین کریمین رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گلے لگا کر کس طرح سے روئے تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔۔۔ لیکن آخری وقت میں بھی انھوں نے اپنے نواسوں کے لیے سفارش نہیں فرمائی کیونکہ انھیں پتا تھا کہ ان کی قربانیوں سے ہی اسلام کو نئی زندگی ملے گی ۔۔۔ اس دین کی خاطر انھوں نے اپنے خاندان کی قربانی کو گوارا کرلیا لیکن جاتے جاتے بھی اپنی امت کی آسانی کے لیے سب کچھ کرگئے ۔۔۔
“کیا میرے معاشی مسائل نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکالیف سے بڑھ کر ہیں ۔۔۔ کیا آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس دین کے لیے قربانیاں میری عارضی مشکلات سے بڑھ کر ہیں ۔۔۔ وہ نہیں جھکے تو ان کی پیروی کرتے ہوئے میں کیوں جھکوں۔۔۔۔۔؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا اور آخرت میں بھی ہمیں یاد رکھا تو میں اگر انھیں چھوڑ کر کسی اور کو اپنا لیتا ہوں تو مجھ سے بڑھ کر بدنصیب کون ہوگا ۔۔۔۔ یا اللہ مجھے معاف فرما دے ۔۔۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے معاف فرما دیجئے ۔۔۔ آخری نبی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں ۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا”
“شاہد صاحب کیا سوچا پھر آپ نے۔۔۔؟”
اس کی مسلسل خاموشی کے بعد تشویش زدہ انداز میں پھر سے پوچھا گیا تھا۔
وہ یکدم ہی جیسے دوبارہ ہوش میں آیا تھا۔
کچھ دیر پہلے ہی جس کی شخصیت سے وہ بے حد متاثر ہوا تھا اب اسی ادھیڑ عمر شخص کا چہرہ اسے انتہائی مکروہ نظر آرہا تھا ۔۔۔
“تم جیسے غلیظ شخص نے سوچ بھی کیسے لیا کہ ایک مسلمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی اور کو نبی مان سکتا ہے۔۔۔؟”
وہ اس پر بری طرح سے پھٹ پڑا تھا ۔۔۔ اس کی رگوں کا سارا خون جیسے چہرے میں سمٹ آیا تھا ۔۔۔
اس نے آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑا تھا۔
“اگر دوبارہ تم نے ایسی بات کی تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے بڑھ کر ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے ۔۔۔ ایک مسلمان جان دے سکتا ہے لیکن اپنے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے الگ نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔ سمجھے تم۔۔۔؟”
زور سے جھٹکا دے کر اس نے اس مکروہ شخص کو اس کی نشست پر دھکیلا تھا۔
آنسوؤں کی ایک جھڑی تھی جو اس کے گالوں سے ہوتی ہوئی اس کے اب اس کے گریبان تک پہنچ چکی تھی۔
ایک جھٹکے سے اس نے دروازہ کھولا اور تیزی سے باہر نکل گیا ۔۔۔

مسجد میں بیٹھے ہوئے اسے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے اللہ اس سے بہت خوش ہے ۔۔۔۔ اور نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکراتے ہوئے اسے شاباش دے رہے ہیں ۔۔۔ فرطِ جذبات سے اس کے آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔۔ وہ بے اختیار اللہ کے حضور سجدے میں گرا تھا ۔۔۔ جس نے اسے بہت بڑی گمراہی سے بچا لیا تھا ۔۔
اسے یہ بھی احساس ہوچکا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق میں کتنی طاقت ہوتی ہے ۔۔۔۔ اور یہ بھی کہ ایک مسلمان چاہے کتنا ہی گنہگار اور دین سے دور کیوں نہ ہو جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اسے گمراہی سے بچا کر دوبارہ کھینچ کر ایمان کے راستے پر چلا دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ختم نبوت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔ (محمد انوارالحق)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں