242

ٹیچرز ڈے اور پرائیویٹ ٹیچرز ۔۔۔ (احمد آفاق ۔ ایڈووکیٹ)

تحریر: احمد آفاق، ایڈووکیٹ

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

یہ تحریر تو مجھے “ٹیچرز ڈے” کے دن ہی لکھنی چاہیئے تھی مگر کچھ نجی مصروفیات کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا اور ویسے بھی میرے نزدیک ایک اُستاد کے لیے کوئی ایک دن مختص کرنا کہیں کا انصاف نہیں۔ میرے لیے تو ہر دن اُستاد کا ہی ہوتا ہے کہ جس کی بدولت انسان آسمان کی بلندیوں کو چُھوتا ہے۔ ایک اُستاد بہت زیادہ عزّت اور احترام کا مستحق ہوتا ہے۔ اس کی جتنی بھی توقیر کی جائے وہ کم ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اُستاد کو ‘سر’ کہا جاتا ہے جس کی توقیر اُن ممالک میں وقت کے منسٹرز اور ججز سے زیادہ ہوتی ہے۔ ایک اُستاد کو جب عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو وقت کا جج اپنی کُرسی سے اُٹھ کر اُستاد کے احترام میں کھڑا ہو جاتا ہے اور اُستاد کے لیے کٹہرے میں کُرسی رکھی جاتی ہے۔ وقت کے ججز جب احتجاج کرتے ہیں کہ ہماری تنخواہیں اساتذہ سے کم ہیں۔ زیادہ کی جائیں۔ مگر انہیں یہ کہا جاتا ہے کہ ہم آپ لوگوں کی تنخواہیں اُن سب سے بھلا کیسے زیادہ کر دیں کہ جن کی بدولت آپ سب آج اس مرتبے پہ ہیں۔

والدین بچے کو اس دنیا میں لانے کا سبب بنتے ہیں مگر ایک استاد ہی وہ ہستی ہے کہ وہ اس بچے کو آسمان کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔ دنیا بھر میں بڑے ناموں کو اگر دیکھا جائے تو ان کی کامیابی کے پیچھے استاد کا ہی ہاتھ ہے۔ ہم اگر پاکستان میں بھی دیکھیں تو بڑے نام اسی لیے بنے کیونکہ انہوں نے اپنے اساتذہ کی تکریم کی۔ علّامہ اقبال کو جب برٹش راج کی طرف سے ‘سر’ کا خطاب ملا تو انہوں نے یہ کہہ کر یہ خطاب لینے سے انکار کر دیا کہ اس کے مستحق میرے اُستاد ہیں۔ اس خطاب کے اصل حقدار بھی وہی ہیں۔ انگریز حکومت بمشکل اس بات پر رضامند ہوئی مگر بات یہاں تک ختم نہ ہوئی۔ اقبال اپنے استاد کی اس قدر توقیر کرتے تھے کہ انہوں نے کہا کہ یہ لقب ان کے گھر جا کر انہیں دیا جائے۔ مجھے یہ بات ناگوار گزرے گی کہ انہیں یہاں بلایا جائے۔ پھر ایسا ہی کیا گیا۔ اس کے علاوہ علامہ اقبال کبھی اپنے استاد کے گھر کی طرف ٹانگیں کر کے نہ سوتے تھے۔ بس یہی وجہ بنی کہ آج ان کا چرچا دنیا بھر میں ہے۔ اس کے علاوہ بھی تاریخ ایسی ان گنت مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید کے بچوں کی مثالیں بھی آپ نے سُن رکھی ہوں گی کہ وہ اپنے استاد کے جوتے لانے کے لیے کس قدر پہل کرتے تھے۔ خیر کچھ بات کرتے ہیں اب اپنے معاشرے کی کہ یہاں استاد کا کیا مرتبہ ہے۔ یہ ایک پیغمبری پیشہ ہے کیونکہ ہر پیغمبر بحثیت استاد ہی اس معاشرہ کی اصلاح کے لیے آئے۔

ہمارے تعلیمی نظام میں جہاں دیگر بےبہا خامیاں ہیں وہیں اس نظام کی تباہی اور معاشرے کے اندر بگاڑ کی میرے نزدیک وجہ اُستاد کا احترام نہ کرنا ہے۔ سرکاری اداروں کی حد تک اگر دیکھا جائے تو حالات قدرے بہتر نظر آتے ہیں کیونکہ وہاں غریب غربا ٕ کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں اور جن کی اچھی تربیت والدین بھی اچھی طرح کرتے ہیں۔ میری اپنی تعلیم مکمل طور پر سرکاری اداروں سے ہے۔

تو سرکاری اداروں میں اساتذہ کا وقار کافی حد تک بحال رہتا ہے اور اساتذہ اس کو بحال رکھنا بھی جانتے ہیں کیونکہ ان کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے اور انہیں نوکری سے نکالے جانے کا ڈر بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں روزمرہ کی بنیادوں پر عبس چھوٹی چھوٹی باتوں پر ذلیل کرنے کے بہانے تلاش کیے جاتے ہیں۔ المختصر سرکاری استاد عزت و وقار سے اپنی سروس پوری کرنے کے بعد ساری عمر پنشن وصول کرتا ہے۔ جو کہ اُس کا حق بھی ہے۔ مگر اس کے برعکس نہایت افسوس ہوتا ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے جب ہم پراٸیویٹ اساتذہ کی حالتِ زار پر نظر دوڑاتے ہیں۔ میں بھی ایک پراٸیویٹ ادارے کا حصہ رہا اور انہیں بتایا کہ استاد کا احترام کیا ہوتا ہے۔ ان کا بس نہ چلا وگرنہ وہ مجھے آج اس دنیا سے بھی رُخصت کر دیتے۔ نام اس لیے بھی نہیں لیتا کہ سب کو معلوم بھی ہے۔

تو بات ہو رہی تھی پرائیویٹ اساتذہ کی حالت زار پہ۔ پرائیویٹ استاد کا درد پرائیویٹ استاد ہی سمجھ سکتا ہے۔ پرائیویٹ استاد کے ساتھ ہر ادارے میں ظلم ہو رہا ہوتا ہے، اس کا استحصال ہو رہا ہوتا ہے، اس کی تذلیل ہو رہی ہوتی ہے اور اُس کی مجبوریوں سے فاٸدہ اٹھایا جا رہا ہوتا ہے۔ یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ ایک طالب علم کی وقعت سب اساتذہ سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہ پیسے دیتا ہے اور استادوں کو دینے پڑتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر نوکریوں سے نکالے جانے کی دھمکیاں معمول ہوتی ہیں۔ ایک استاد جو کہ لاکھوں لگا کر تعلیم حاصل کرتا ہے۔ یہ سوچ کر کہ تعلیم حاصل کر کے اسی اچھی نوکری ملے گی مگر وہ ان ظالموں کے ہتّھے زیادہ سے زیادہ 10 یا 12 ہزار میں چڑھ جاتا ہے اور پھر اُس سے گدھے کی طرح کام لیا جاتا ہے بدلے میں اُجرت ایک دیہاڑی دار مزدور سے بھی کم۔ وہ اپنی بے عزتی اس لیے بھی برداشت کرتا ہے کیونکہ اس نے گھر خرچہ بھیجنا ہوتا ہے یا اپنی زندگی کے معاملات بھی چلانے ہوتے ہیں۔

اُستاد کی جاسوسی طالب علموں کے ذریعے کروائی جاتی ہے اور ریکارڈنگ والے کیمرے بھی لگائے جاتے ہیں کہ یہ آپس میں کیا باتیں کرتے ہیں۔ اب جس قوم کے بچے اپنے استاد کی جاسوسی پہ معمور ہوں تو خاک ترقی کرنی ہے ایسی قوم نے۔ ایسے بچے 1000 نمبر لے کر بھی کبھی کامیاب انسان نہیں بن پاتے اور نہ ہی میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے۔ پراٸیویٹ اداروں میں ہونے والے کس کس ظلم کا ذکر کروں اب، ان لوگوں کو استاد سے کوئی غرض نہیں۔ بس رزلٹ اچھا ہو۔ یہ بات بھی سو فی صد درست ہے کہ اگر کوئی استاد مر بھی جائے تو انہیں کوئی دکھ نہیں۔ کیونکہ CVs کا ڈھیر ان کے پاس موجود ہوتا ہے۔ استاد مرتا ہے یا اس کے ساتھ اور کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو ایسی صورت میں مالکان کی جانب سے اس کی کوئی مدد نہیں کی جاتی اور نہ ہی ایسا کوٸی قانون موجود ہے جس کی وجہ سے یہ ادارے بے لگام ہیں۔ سکول سے کسی بھی وقت بغیر کسی وجہ کے نکالا جا سکتا ہے اور بعد میں کسی قسم کا تحفظ نہیں دیا جاتا۔ کنٹریکٹ کرواتے وقت ناجائز شرائط رکھ کر استاد کو باندھ دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ایسے کسی بھی کنٹریکٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ کیونکہ قانون کسی کے باپ کی جاگیر تو ہے نہیں کہ جو اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لے۔ جہاں قانون کے اندر Unskilled person کی 15 ہزار آمدن مقرر ہے وہاں پرائیویٹ اداروں میں 6 ہزار سے 13 ہزار تک تنخواہ دی جاتی ہے جو کہ ایک استاد کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے۔ فی میل اساتذہ کے بارے پھر کبھی تفصیل سے لکھوں گا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک فیصلے میں قرار دیا (2018 SCMR 736) کہ “پرائیویٹ ادارے بھی ملازم کی پنشن ادا کریں” مگر کون سنتا ہے سپریم کورٹ کی بھی۔ یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا راج ہے۔ یہاں مافیہ کا راج ہے۔ پینشن تو درکنار یہاں اساتذہ کی سیکیورٹیز بھی ہڑپ کر لی جاتی ہیں۔ بچوں سے ماہانہ مختلف حیلے بہانوں سے کئی ہزار روپے بٹورے جاتے ہیں اور بھکاریوں کی طرح صبح سویرے کھڑے ہو کر جرمانے وصولے جاتے ہیں اور آپس میں بانٹ لیے جاتے ہیں۔

سمجھ میں نہیں آتی کہ بچوں کے والدین یہ سب ظلم کیوں سہتے ہیں اور کیوں چپ رہتے ہیں۔ اساتذہ بے چارے بھی مارے ڈر کے خاموشی سے سب کچھ سہتے اور اندر ہی اندر کُڑھتے رہتے ہیں۔ وہ سب بھی اگر ایک ہوں تو یہ ظلم ختم ہوتے دیر نہ لگے۔ اسی طرح والدین بھی جاگیں اورمعاملات کو باریک بینی سے دیکھیں تو حالات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔ آج اس تحریر کے ذریعے میری تمام بچوں اور والدین سے گذارش ہے کہ خدارا استاد کی عزت کریں۔ دنیا میں کامیابی تمہارے پیچھے بھاگے گی اور اساتذہ اور دیگر لوگوں سے گذارش ہے کہ اس ظلم کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں اور میرا ساتھ دیں۔ آنے والے وقتوں میں ایک بہت بڑا قدم بھی اُٹھانے جا رہا ہوں جس کے لیے آپ سب کا ساتھ لازمی ہو گا۔
خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو
آخر میں پھر وہی نعرہ کہ … “پرائیویٹ ٹیچرز کو عزّت دو”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں