389

افسانہ۔۔ دیکھو ذرا۔۔۔ (رانا اسامہ) ۔۔۔ قسط چہارم

تحریر: رانا اسامہ علی۔

(قسط چہارم)

اس افسانہ کی قسط سوم پرھنے کے لیے یہاں کلک کریں

یہ کہاوت سننے میں تو بہت بھلی معلوم ہوتی ہے، “کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے” اس کو چکھنا تو قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ لیکن بالفعل حقیقتاً یہ ایک مشکل امر ہے اور اس بات کا تجربہ آج سعدیہ بخوبی کر رہی تھی۔ جماعت نہم کا سالانہ نتیجہ نکلنے والا تھا اور وہ صبح سے ہی ابو کا موبائل لے کر بیٹھی اپنی دوست کے میسج کا انتظار کر رہی تھی۔ یہ چند گھنٹے سعدیہ کو صدیوں کے جیسے لگ رہے تھے۔ بار بار گھڑی دیکھتی اور ہر بار لب بھینچ کر رہ جاتی۔ تنگ آکر اس نے موبائل بیڈ سایئڈ پر رکھ دیا۔ اسی اثنا میں زعیم کمرے میں داخل ہوا اور سعدیہ کی موجودہ کیفیت سے انجان اسے تنگ کرنے لگا، وہ جو پہلے ہی تیار بیٹھی تھی زعیم کی اس حرکت پر تو مانو پھٹ پڑی۔ خدا خدا کر کے زعیم اپنی جان سلامت لے کر کمرے سے باہر نکلا۔ اچانک موبائل کی میسج ٹیون بجی اور سعدیہ نے لپک کر موبائل اٹھایا، میسج یقیناً اس کی سہیلی کا ہی تھا لیکن میسج میں جو کچھ لکھا ہوا تھا وہ سعدیہ کا موڈ اور زیادہ آف کرنے کے لیئے کافی تھا۔ رمشا نے اسے بتایا تھا کہ نتیجے کی تاریخ کل تک مؤخر ہو گئی ہے۔ یہاں تو چند گھنٹے سعدیہ کے لیے بہت بھاری تھے اور کہاں ایک اور پورا دن ۔۔۔ زعیم بے چارہ تو سارا دن دوبارہ اس کے پاس بھی نہیں پھٹکا تھا۔ اگلے دن وہ پھر اسی طرح بے صبری سے رزلٹ کا انتظار کر رہی تھی اچانک اس کی سہیلی کا میسج آیا کہ رزلٹ آ گیا ہے۔

میسج پڑھتے ہی اس نے فوراً موبائل پر اپنا رولنمبر لکھا اور انتظار کرنے لگی۔ کچھ ہی دیر بعد اسکا نتیجہ اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ نتیجہ یقیناً اس کی توقعات کے عین مطابق تھا۔ وہ تو خوشی سے جھوم اٹھی تھی۔ اس نے اپنے سکول میں سب سے اعلیٰ نمبر لیےتھے۔ اس کا دل چاہا کہ وہ بھاگ کر باہر جائے اور سارے گھر میں شور مچائے۔ وہ ایسا کرنے کے لیے ابھی اٹھی ہی تھی کہ اچانک واپس بیٹھ گئی ۔۔۔ دفعتاً اس کی ساری خوشی کافور ہو گئی۔ اس نے زعیم کو بلایا اور اسے اپنا نتیجہ بتا کر سب گھر والوں کو بتانے کے لیےکہہ دیا۔ اور خود بیڈ پر نیم دراز ہو کر سوچنے لگی کہ نجانے اور کتنے ایسے خوشیوں بھرے موقعوں پر اسے یوں ہی خاموش رہنا پڑے گا۔

گھر میں جشن کا سماں تھا۔ سکندر حیات نے سعدیہ کی اس کامیابی پر اپنے سب جاننے والوں کے لیے ایک شاندار دعوت کا انتظام کیا تھا۔ سبھی لوگ آگے بڑھ چڑھ کر سعدیہ کو مبارک باد دے رہے تھے، مگر سعدیہ کو نجانے کونسا سانپ سونگھ گیا تھا۔ چپ چاپ ایک کونے میں خاموش تماشائی بنے بیٹھی تھی۔ یوں لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ تمام انتظام اس کے اعزاز میں کیا گیا ہے۔ یوں جیسے اسے اس سب سے کوئی غرض ہی نہ تھی۔

فریحہ بیگم کافی دیر سے سعدیہ کو اسی طرح دیکھ رہی تھیں۔ وہ کافی دنوں سے سعدیہ کے بدلے ہوئے رویے کو محسوس کر رہی تھیں۔ وہ اچانک سے بہت خاموش رہنے لگی تھی۔ نہ تو کہیں آتی جاتی تھی اور نہ ہی کسی سے زیادہ بات کرتی تھی۔ اُنہیں اس کے اس بدلے ہوئے رویے کو دیکھ کر کافی اچنبھا ہوا لیکن وہ بعد میں اس سے بات کرنے کا سوچ کر نظر انداز کر جاتی تھیں۔ لیکن اس کا آج کا رویہ بہت ہی غیر معمولی تھا۔ سعدیہ کہاں ایسی رونق بھری محفل میں چپ کر کے بیٹھنے والی تھی۔ وہ کچھ نہ بھی کرتی تو بھی اُس کے چہرے کی مسکراہٹ سے صاف واضح ہوتا تھا کہ وہ محفل سے محظوظ ہو رہی ہے۔ لیکن آج وہ مسکراہٹ بھی ندارد۔ فریحہ بیگم کو کافی تشویش ہوئی اور اُنہوں نے آج ہر حال میں سعدیہ سے بات کرنے کی ٹھانی۔

کچھ دیر بعد سعدیہ طبیعت خراب ہونے کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ فریحہ حیات کے لیے یہ بات بھی ایک بہت بڑا جھٹکا تھی کیونکہ سعدیہ کی طبیعت لاکھ خراب ہوتی لیکن یوں وہ کبھی بھی محفل چھوڑ کر نہیں گئی تھی۔ بہر حال اُنہوں نے خود کو مہمانوں کی طرف متوجہ کیا۔ جب سب مہمان چلے گئے تو وہ سعدیہ کے کمرے کی طرف بڑھی تاکہ اس سے اس کی پریشانی کی اصل وجہ جان سکیں۔

لیکن جیسے ہی وہ سعدیہ کے کمرے کے پاس پہنچیں تو کمرے سے آنے والی آوازوں نے اُن کے قدم جامد کر دیے۔ یوں محسوس ہوا جیسے اُن کے قدموں تلے سے زمیں ہی نکل گئی ہو۔ اپنی لاڈلی اور عزیز از جان بیٹی کے متعلق تو ایسا سوچنا بھی اُن کے لیے سوہانِ روح تھا۔
(جاری ہے۔۔۔)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

افسانہ۔۔ دیکھو ذرا۔۔۔ (رانا اسامہ) ۔۔۔ قسط چہارم” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں