226

میرے استاد ۔۔۔۔ (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

میری زندگی کا سب سے پہلا استاد خدا وند تعالی کی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا اور عقل و شعور کی صلاحیت سے مالا مال کیا۔ اس کے بعد میری ماں اور میرے باپ نے استاد کا فریضہ سر انجام دیا۔ جو بظاہر ان پڑھ تھے مگر زمانے سے کشید کیے گئے تمام علوم انہوں نے سلیس بنا کر میرے اندر پیوست کردیے۔ زندگی گزارنے کا روڈ میپ دیا۔ صبح سویرے اس وقت جگانا جہاں نیند اپنے جوبن پر ہوتی تھی اور ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی ہم پر ظلم کر رہا ہو مگر درحقیقت یہ ہم پر والدین کا سب سے بڑا احسان تھا۔ جو احباب اپنے والدین کا جگانا نامناسب سمجھتے اور دیر تک سوئے رہتے، وہ آج زندگی کی دوڑ میں کافی پیچھے رہ گئے ہیں۔ امی ابو کا پیار سے نام لیکر جگانا، نماز اور قرآن پڑھنے مسجد بھیجنا، تیاری کرانا اور مکھن سے تیار کردہ دیسی کھانا کھلا کر سکول بھیجنا یادہے سب ذرا ذرا۔ سب سے بڑھ کر والدین کے روپ میں ان عظیم اساتذہ کی دعائیں ہیں جن کے بغیر کامیابی کا تصور بھی محال ہے۔ پرائمری سکول علی دی بستی جہاں باقاعدہ تعلیم کا آغاز کیا وہاں استاد رحیم بخش صاحب، استاد صادق صاحب، استاد اعظم صاحب جیسے شفیق استاد ملے۔ استاد رحیم بخش صاحب کے کھیتوں میں کام کرتے، بھوسے کو ایک کمرے میں محفوظ کرتے، ایک مزدور کی طرح کام کرتے اور استاد کا یہ کام کرکے جو سرشاری ملتی وہ ناقابل بیاں ہے۔ استانی صاحبہ جب گڑ والے چاول کھلاتیں تو محنت کا فوری پھل بھی مل جاتا اور استاد اور استانی کی انمول دعائیں بھی۔ مڈل سکول قطب انبڑیند میں استاد ربنواز صاحب، استاد اسلم صاحب، استاد اشرف صاحب جیسے محنتی اور علم دوست استاد ملے۔ ربنواز صاحب کیساتھ مجھے بہت انس تھا، وہ انتہائی خوش لباس، خوش گفتاراور نرم مزاج تھے، روزانہ دس کلو میٹر کا سفر سائیکل پر طے کر کے ٹیوشن پڑھنے ان کیساتھ ان کے گھر عثمان کوریہ جاتا۔ اسلم صاحب انگریزی کے استاد تھے، سخت طبیعت مگر دل کے بہت اچھے۔

ہائی سکول شاہ جمال میں استاد اسلم صاحب، استاد عباس صاحب، استاد فاروق صاحب، استاد عابد اعوان صاحب، استاد رمضان صاحب، استاد وزیر صاحب، پی ٹی اکرم صاحب، استاد عاشق صاحب، استاد کریم بخش صاحب، استاد اقبال صاحب جیسے طلبہ کو اولاد کی طرح سمجھنے والے اساتذہ ملے۔ فاروق صاحب اور اسلم صاحب کے پاس سکول کے بعد ٹیوشن پڑھنے جاتا اور دونوں اساتذہ سے بہت زیادہ لگا و تھا اور اساتذہ کرام بھی بچوں سے بڑھ کر پیار دیتے اور خیال رکھتے۔ استاد فاروق صاحب کے گاوں کپاس کی فصل کی لکڑیاں کاٹنے جاتے اور خوب محظوظ ہوتے۔ کبھی بھی ذرا برابر بھی کام کرکے ماتھے پر شکن نہ آئے۔ یہاں بھی استانی صاحبہ ہماری خوب خاطر مدارت کرتیں۔ اسلم صاحب نے غالبا آرٹس میں تعلیم حاصل کر رکھی تھی مگر اپنی محنت سے انہوں نے کیمسٹری اور میتھ پر اس قدر کمانڈ حاصل کر لی تھی کہ یہ مشکل مضمون ہمارے لیے حلوہ بن گئے تھے۔ حالانکہ ایف ایس سی میں بھی کیمسٹری پڑھی مگر آج بھی یاد وہی میٹرک کی کیمسٹری ہے۔

کالج کے الگ رنگ تھے۔ یہاں امین صاحب، سجاد حیدر صاحب، دھمرایا صاحب جیسے اساتذہ ملے۔ مگر کالج میں اساتذہ سے وہ اپنائیت اور پیار نہ ملا جو سکول کے اساتذہ سے ملتا۔ اس لیے اکثر اساتذہ کے نام بھول گئے ہیں۔ اللہ تعالی امین صاحب کی مغفرت فرمائیں، ایف ایس سی کے دو سالوں میں دوبار میری شرارتوں کی وجہ سے انہوں نے میرا نام کلاس سے خارج کردیا تھا۔ بعد میں جاکر منا لیتا اور وہ مان بھی جاتے۔ کیا عظیم استاد تھے۔ کاج دور میں بشیر لطیف صاحب، حسین بخش صاحب، شوکت صاحب، زاہد صاحب، غفار صاحب سے ٹیوشن پڑھتے، پیسے کا کرشمہ تھا یا کچھ اور ٹیوشن کے اساتذہ زیادہ خیال رکھتے اور محنت بھی کراتے۔

کچھ عرصہ SFDAC انجینئرنگ کالج کراچی میں گزارا مگر یہاں کے اساتذہ کے نام یاد نہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایم بی اے کی چند ماہ کلاسز لیں اور یہاں عظیم استاد عامر شاہد صاحب سے ملاقات ہوئی جو میرے لیے زندگی کا سرمایہ ثابت ہوئی۔ ان کے ساتھ محبتوں بھرا رشتہ آج بھی قائم و دائم ہے، یہ اور بات ہے کہ وہ استاد کیساتھ ساتھ اب بہترین دوست بھی ہیں۔

انسٹیٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ڈاکٹر مغیث الدین شیخ، ڈاکٹر احسن اختر ناز، میڈم بشری، وقار ملک صاحب، میڈم نوشینہ سلیم۔ ڈاکٹر عاشق ڈوگر، سر خالد رشید، ڈاکٹر شفیق، وقار سعید صاحب، منصور ملک صاحب، رانا نوید صاحب، اعجاز بٹ صاحب، میڈم حفصہ جیسے قابل اور وژنری اساتذہ ملے۔ میری پوری زندگی کا حاصل ایک طرف اور ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کیساتھ گزارے پل ایک طرف۔ ڈاکٹر صاحب آئی سی ایس کے ڈائریکٹر تھے اور میں کلاس کا سی آر، جس کی بدولت اکثر ان سے ملاقات رہتی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری سوچ اور وژن کورا کاغذ تھا جس میں رنگ ڈاکٹر صاحب نے بھرا۔ انہوں نے خودی اور خودداری کا درس دیا اور یہ نسخہ کیمیا آخری سانس تک میرے ساتھ رہے گا۔

گجرات یونیورسٹی سے ایم فل کے دوران پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم، ڈاکٹر زاہد یوسف، ڈاکٹر اسلم ڈوگر، ڈاکٹر ثوبیہ عابد، ڈاکٹر عدنان ملک جیسے عظیم اساتذہ ملے۔ ڈاکٹر زاہد یوسف سے بڑا موثر کمیونیکیشن کا حامل اور طلبہ کیلئے معاون استاد میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ ان جیسے استاد ہوں تو دیکھیں طلبہ کیسے اساتذہ پر گرو نہیں کرتے۔ ڈاکٹر ثوبیہ عابد کی کتابوں کے ساتھ ساتھ سماج کی تعلیم کامشن بھی قابل قدر ہے۔ وہ دنیا کو بہت قریب سے دیکھتی، مشاہدہ کرتی اور اپنے طلبہ کے ساتھ شیئر کرتی ہیں۔ اس لیے ان کے طلبہ تعلیم کیساتھ ساتھ دنیاوی علوم کے بھی ماہر ہوجاتے۔ ڈاکٹر عدنان استاد کیساتھ ساتھ بہترین دوست بھی ثابت ہوتے ہیں۔

زندگی میں بس ایک استاد سے نفرت ہوئی وہ تھے بہاولدین زکریا یونیورسٹی میڈیا سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ڈاکٹر اشرف۔موصوف طلبہ دشمنی میں خاصی مقبولیت رکھتے اور میں بھی ان متاثرہ طلبہ میں شامل ہوں۔ ان کی وجہ سے میرا ایم فل دو سال تاخیر کا شکار ہوا اور فیس بھی الگ۔ مگر وہ اپنی ضد انا اور ہٹ دھرمی پر ڈٹے رہے۔ بی زیڈ یو ماس کمیونیکیشن سٹیڈیز کی تباہی میں بھی ان کا بھرپور کردار ہے۔ مگر استاد کے عالمی دن کے موقع پر میں ڈاکٹر صاحب کے حوالے سے اپنے اندر موجود ساری کدورتیں ختم کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اگر مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہو تو اللہ مجھے معاف فرمائے۔

پروفیشنل زندگی کی بات کریں تو اپنا ٹی وی میں محمد علی صاحب جیسے شریف النفس ، ایماندار اور محنتی استاد کی صحبت نصیب ہوئی۔ انہوں نے میڈیا کی فیلڈ میں صحیح معنوں میں چلنا سکھایا۔ میڈم خالدہ یوسف انتظامی سربراہ تھیں مگر ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ رضوان باجوہ صاحب سے بھی کافی کچھ سیکھنے، سمجھنے کا موقع ملا۔ چند دن بیوروچیف اب تک کرم الہی گوندل صاحب سے بھی صحافت کے رموزو اوقاف سیکھنے کا موقع ملا۔

روزنامہ پاکستان میں نعیم مصطفی صاحب، عباس صاحب، فاروق صاحب، تقویم شاہ صاحب، ساجد شیرازی صاحب، بشیر صاحب، طور صاحب اور عمران بھائی سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔

نوائے وقت میں خالد بہزاد ہاشمی صاحب ہمارے انچارج تھے۔ ان جیسی شفیق، مدبر، ایماندار، تاریخ پردسترس اور صوفیاء کرام سے دلی رغبت، کھلے دل اور وسیع ذہن کی حامل شخصیت میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ صحافتی دنیا میں جو دو چار لفظ سیکھے اور جو ایک دو سیڑھیاں عبور کیں وہ صرف خالد بہزاد ہاشمی صاحب کی مرہون منت ہے۔ انسان اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ میں نے خالد صاحب اور انکی زوجہ مرحومہ سے سیکھا۔ اللہ مرحومہ کی مغفرت فرمائے، کامل، متقی اور خداترس خاتون تھیں۔ ان سے بہتر اگر کوئی مہمان نواز ہونے کا دعویدار ہے تو وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ مگر سب سے بڑھ اگر میڈم عنبرین فاطمہ کی سپورٹ حاصل نہ ہوتی تو شاید میں ابھی اس میدان میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہوتا۔ میڈم میری ایسی محسنہ ہیں جس پر انسان ساری زندگی فخر کرتا رہتا ہے۔ سعید آسی صاحب، نعیم صاحب، خالد یزدانی صاحب، مظہر شیخ صاحب، فرزانہ چودھری صاحبہ، طارق ستی صاحب سے بھی صحافت کے کئی رموزو اوقاف سیکھے۔

خداوند تعالی کا کرم اور میری خوش بختیوں کاستارہ یونہی جگمگاتا رہا۔ 92 نیوز جوائن کیا تو سید ارشاد احمد عارف جیسے استاد ملے جس پر صرف صحافی ہی نہیں بلکہ شعبہ صحافت بھی فخر کرتا ہے۔ غلطی انسانی شعار کا حصہ ہے مگر میں نے ان سے بہتر خوش اخلاق، متقی، پرہیز گار شخص آج تک نہیں دیکھا۔ تین سال کی رفاقت میں ابھی تک کسی سے غصہ ہوتے یا ناراض ہوتے نہیں دیکھا۔ بڑی سے بڑی غلطی پر بھی پیار سے سمجھا دیتے ہیں۔ ماتحتوں سے انتہائی خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔ کامیاب زندگی کیلئے ایسی ہستیاں مشعل راہ ہیں۔ میری یہ بھی خوش قسمتی رہی کہ اشرف شریف صاحب کی قیادت میں کام کرنے کا موقع ملا۔ صحافت کے شعبہ میں غصہ، چڑچڑاپن، ہائی بلڈ پریشر اور پیٹھ پیچھے طنز اور تنقید کے نشتر چلانا من پسند مشغلہ سمجھا جاتا ہے۔ اشرف شریف صاحب نے اتنی کم عمری میں ان پر قابو پاکر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج وہ اس سیٹ پر براجمان ہیں جو کئیوں کو بالوں میں چاندی آجانے کے بعد بھی نصیب نہیں ہوتی۔ ان جیسا شفیق استاد شعبہ صحافت میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔ عبدالرحمان جامی صاحب میرے کولیگ ہیں۔ مگر وہ نہ صرف صحافت بلکہ دنیا میں جتنے بھی علوم ہیں ان پر خوب دسترس رکھتے ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے ان کو اپنا استاد، گرو تسلیم کیا ہے۔ جامی صاحب جیسے لوگوں کو دیکھ کر ہی اس بات کا اندازا ہوتا ہے کہ انہی لوگوں کی وجہ سے ہی اس شعبہ کی آج بھی کچھ تکریم باقی ہے۔ عامر خاکوانی صاحب دنیا کی بیشتر کتابیں کھنگال چکے ہیں اور عملی طور پر بھی دنیا کی تہہ در تہہ چھپی حقیقتوں کا ادراک رکھتے ہیں۔ جامع اور دلیل سے بات ان سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا۔ نعیم مسعود صاحب سے بہتر بات کرنے کا ڈھنگ، سلیقہ شاید کسی میں موجود ہو۔ محمد کامران سے میں نے وژن، کمٹنٹ اور مقصد کے حصول کیلئے ڈٹ جانے کا جذبہ سیکھا۔ قاسم علی شاہ بھائی سے میں نے زندگی کی طلاطم خیز موجوں پر کمند ڈالنے کا ڈھنگ سیکھا۔

آخری میں سلام اپنے استاد محترم بابا بلھے شاہ صاحب پر جن کی بدولت میں نے خدا تک شناسائی حاصل کی۔
اس تحریر میں،میں نے اپنے تمام اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنے کی کوشش کی جن سے میں نے پڑھا، سیکھا یا متاثر ہوا اگر کسی ذی وقار استاد محترم کا نام یہاں درج ہونے سے رہ گیا ہو تو ان سے معزرت۔
میرے سب اساتذہ کو میری طرف سے محبتوں چاہتوں اور عظمتوں بھرا سلام۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں