241

میرا اپنڈکس کا کینسر اور لاہور میٹرو ۔۔۔۔ (میاں شہباز شریف)

تحریر: میاں شہباز شریف

مری سے ہمیں (میاں نواز شریف صاحب کو اور مجھے) کراچی منتقل کردیا گیا، جہاں خصوصی عدالت میں ہمیں بد نامِ زمانہ طیارہ ہائی جیکنگ کیس کا سامنا کرنا تھا۔ یہاں لانڈھی جیل ہمارا ٹھکانہ تھا۔ کیس کے دیگر شریک ملزمان شاہد خاقان عباسی، غوث علی شاہ، سیف الرحمان، رانا مقبول اور سعید مہدی بھی یہیں تھے۔ کیس کا فیصلہ اور پھر خاندان سمیت ہماری جلاوطنی، یہ ایک الگ طویل کہانی ہے (جو بعد میں بیان کریں گے)

جدہ میں 2003 کا آغاز تھاجب مجھے پیٹ میں شدید درد ہونے لگا۔ ڈاکٹر ز نے اپنڈکس میں (Fibrosis)سمجھ کر سرجری کی۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ تو کینسر ہے اور امریکا میں علاج کا مشورہ دیا۔ میرا پاسپورٹ ایکسپائر ہو چکا تھا اور جنرل مشرف کا حکم تھا کہ مجھے نیا پاسپورٹ جاری نہ کیا جائے۔ سنگین بیماری کے باعث ایک ایک دن قیمتی تھا۔ ولی عہد عبداللہ بن عبدالعزیز کے علم میں یہ بات آئی تو اُنہوں نے پیغام بھجوایا کہ مجھے پاکستانی پاسپورٹ جاری نہ ہوا تو سعودی حکومت سعودی پاسپورٹ جاری کر دے گی۔ اِدھر جدہ کے پاکستانی قونصل خانے میں ایک ایماندار اور نیک نام قونصل جنرل تھا، اس نے مجھے پاسپورٹ جاری کر دیا۔ میں نے ریاض میں سعد الحریری کو اس کی اطلاع کردی۔ یہاں میں ایک “دلچسپ” بات بھی بتاتا چلوں کہ میاں نوازشریف کے سوا گھر میں کسی کو میری بیماری کی سنگینی کا علم نہ تھا۔

مجھے جلدازجلد امریکہ پہنچنا تھا۔ میں نے رابرٹ اوکلے سے رابطہ کیا۔ وہ محترمہ بینظیر بھٹو اور پھر میاں نواز شریف کی پہلی وزارتِ عظمی کے دور میں اسلام آباد میں امریکی سفیر رہے تھے اور اسی دوران میری اِن سے دوستی ہو گئی تھی۔ وہ واشنگٹن میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کی” دلچسپی” سے جدہ میں امریکی قونصل خانے نے اُسی روز ویزا جاری کر دیا اور میں اُسی شب برٹش ائیرویز سے براستہ لندن نیویارک روانہ ہوگیا۔

نیویارک میں علاج کے لیے Saloane Kattering کا انتخاب ہواتھا جس کا شمار دنیا میں کینسر کے چند جدید ترین اور بڑے ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔ یہاں پیٹ کے امراض کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر Murray Brennen میرے معالج تھے۔ نیو کلیئر سکیننگ کے مختلف مراحل کے بعد دوبارہ سرجری کا فیصلہ ہوا. پہلی سرجری جدہ میں ہوئی تھی۔ الحمد للہ آپریشن کامیاب رہا لیکن اگلے پانچ سال بہت اہم تھے چنانچہ ہر چار ماہ بعدCT سکین ہوتا رہا۔

ایک سال امریکہ میں قیام کے بعد میں لندن آگیا۔ 11 جون 2004 ء کو میں لاہور ایئرپورٹ پہنچا۔ پاکستان میرا اپنا وطن تھا، ڈِکٹیٹرنے ہمیں جلاوطن کیا تھا، واپسی کے لئے ویزہ کی ضرورت نہیں تھی لیکن ایئرپورٹ پر مجھے دوسرے جہاز پر (زبردستی) بٹھادیا گیا جہاز کے عملے کے سِوا، میں واحد پسنجر تھا۔ تھوڑی دیر بعد میرے استفسار پر بتایا گیا کہ ہم جدہ جارہے ہیں۔ جد ہ سے طبی معائنے کے لیے دوبارہ امریکہ آ گیا اور وہاں سے لندن۔

امریکہ میں دریائے ہڈسن کے کنارے نیوجرسی میں، میرا قیام تھا۔ نیو یارک بھی آنا جانا لگا رہتا، طبی معائنے کے لیے، ڈاکٹر سے ملاقات کے لیے۔ یہاں شاہین بٹ صاحب کا کشمیر ریسٹورینٹ بھی تھا، پاکستانیوں سے گپ شپ کے لیے یہ اچھا ٹھکانہ تھا۔ میں کشتی پر دریائے ہڈسن عبور کرتا اور نیویارک کے لیے وہاں سے بس پکڑ لیتا۔ لندن میں بھی 90 فیصد سفر انڈر گراؤنڈ اور بس پر ہوتا، وقت کی بچت کے ساتھ یہ سستا بھی ہے، آرام دہ اور تیز رفتار بھی، روزانہ لاکھوں لوگ جسے اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں اپنے عوام کے لیے ایسا آرام دہ، سستا، باوقار، پائیدار اور قابلِ اعتبار ٹرانسپورٹ سسٹم میرا دیر ینہ خواب تھا۔ پنجاب میں 1997ء کی اپنی پہلی حکومت کے دوران ڈائیوو سے 700 ایئرکنڈیشنڈ بسوں کی فراہمی کا معاہدہ اس خواب کی تعبیر کی طرف عملی اقدام تھا۔ ان میں سے 50 بسوں کی پہلی کھیپ کی کہانی گزشتہ کالم میں بیان ہوچکی۔

26 نومبر 2007 ء کو میاں نواز شریف اور میں لاہور پہنچے لیکن جنرل مشرف نے ہمیں عام انتخابات کے لیے ڈس کوالیفائی کروادیا (8 جنوری کے انتخابات بے نظیر صاحبہ کے قتل کے باعث 18 فروری 2008 ء کو منعقد ہوئے) عدالت عالیہ نے اپیل پر ہمارے حق میں فیصلہ دے دیا۔ ضمنی الیکشن میں، میں راولپنڈی اوربھکر، دونوں جگہ سے پنجاب اسمبلی کا الیکشن جیت گیا۔ میں نے راولپنڈی کی نشست چھوڑ دی اور بھکر کی نشست رکھی (یہ نشست میرے کرم فرما سعید نوانی نے خالی کی تھی) اگست 2008 ء میں، میں دوبارہ وزیراعلی منتخب ہوگیا (یہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ہماری کولیشن تھی)۔

پنجاب میں تعمیرو ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے میرے ایجنڈے میں، ان خوابوں کی تعبیر اور ان منصوبوں کی تکمیل بھی تھی جو 12 اکتوبر 1999 ء کو مشرف ٹیک اوور کے بعد ادھورے رہ گئے تھے۔ اِ ن میں شہریوں کے لیے ٹرانسپورٹ کا جدید ترین نظام سرِ فہرست تھا تاکہ لوئر مڈل کلاس اور غریب طبقے کے بچوں، بوڑھوں، خواتین اور مردوں، کلرکوں، محنت کشوں، نرسوں اور کمپوڈروں کو دھواں چھوڑتی، خستہ حال اور تکلیف دہ، ویگنوں، بسوں اور چنگ چی جیسی خطرناک سواری سے نجات ملے۔ گزشتہ دس سال میں اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی، سوائے Daewoo کی 50 بسوں کی اس کھیپ کے، جس کا ذکر پہلے ہو چکا۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے جدید ائیر کنڈیشنڈ سسٹم کا آغاز، مَیں لاہور سے کرنا چاہتا تھا کہ یہ صوبے کا سب سے بڑ اشہر تھا، جہاں ٹرانسپورٹ کے مسائل سنگین تر ہو چکے تھے۔ تُرک بھائیوں کے ساتھ، صفائی کے جدید ترین نظام کے حوالے سے ہمارے معاملات کا آغاز ہو چکا تھا (لاہور ویسٹ مینجمنٹ کی سٹوری پھر کبھی بیان کروں گا) اب جدید ترین پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں رہنمائی اور تعاون کے لیے بھی ہماری نگاہیں تُرکوں کی طرف اُٹھیں جو تُرکی کے سب سے بڑے اور تاریخی شہر استنبول میں جدید میٹرو سسٹم کا کامیاب آغاز کر چکے تھے۔ 2 کروڑ آبادی کے استنبول میں اُس وقت سات لاکھ لوگ روزانہ اس سے استفادہ کر تے، اب یہ تعداد دس لاکھ کو پہنچ چُکی ہے۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے یہ بھی بتاتا چلوں کہ لاہور اور استنبول”سسٹر سٹی“ ہیں اور خوش قسمتی سے جناب طیب اُردوان (اُس وقت وزیر ِ اعظم) اور جناب قادر تو پاش (تب مئیر استنبول) استنبول کی مانند لاہور کو بھی جدید اور ترقی یافتہ بنانے میں ہر طرح کی مدداور تعاون کے جذبے سے سرشار تھے۔ لاہور کو جدید میٹرو سسٹم کی فراہمی میں فنی تعاون اور رہنمائی کے لیے ترک کمپنی ULACIAM کے ساتھ معاہدہ ہوا۔ ادھر اپنے ہاں نیسپاک اور پنجاب ماس ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو اس منصوبے کی ڈیزائننگ، تعمیر اور تکمیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ ساراکام قوائد و ضوابط کے مطابق صاف اور شفاف طریقے سے انجام پارہا تھا۔

2012 ء شروع ہو چکا تھا اور اگلے سال (2013ء)کے وسط میں الیکشن ہونا تھے۔ اِدھر ہمالیہ سے بھی بڑا کام تھا جو ہم نے اپنے ذمہ لے لیا تھا۔ ہم نے باقاعدہ سروے کروایا کہ لاہور کے کس علاقے میں اور کس روٹ پر اسکی سب سے زیادہ ضرورت ہے (لاہور کے سبھی علاقوں اور روٹوں پر اس سہولت کی فراہمی ہمارانصب العین تھا لیکن ظاہر ہے، یہ کام مرحلہ وا ر ہونا تھا) پہلے مرحلے کے لیے (فیروز پور روڈ پر) گجومتہ سے (راوی کے اُس پار) شاہدرہ تک روٹ کا فیصلہ ہوا۔ یہ 27 کلو میٹر بنتا ہے۔ (ابتداء میں پہلے مرحلے کے طور پر 10 کلو میٹر کی تجویز بھی آئی لیکن اتنے بڑے شہر میں یہ “اونٹ کے منہ میں زیرہ” والی بات ہوتی۔)

مئی 2012 ء میں ہم نے، اللہ کا نام لیکر کام کا آغاز کر دیا۔ اس میں زمین کا حصول (لینڈ ایکوزیشن)، تجاوزات کا خاتمہ، لٹن روڈ پر اور داتا دربار کے پہلو میں تنگ راستے، مسلم ٹاؤن سے راوی کے پل تک 9 کلومیٹر کے فلائی اوور کی تعمیر، (جس میں جین مندر کے چوک میں “روٹری” بھی شامل تھی) اوریہ بھی کہ میٹرو کے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ شہر کے اس مصروف ترین روٹ پر، روزمرہ ٹریفک کو بھی جاری و ساری رکھنا تھا۔

الیکشن قریب آ رہے تھے اور تعمیرات کے اپنے مسائل تھے، سڑک ادھڑی ہوئی، گردوغبار اور دیگر مشکلات۔ ہمارے انتخابی امیدوار (اور ورکر) میرے منہ کو آتے، لڑنے کو پڑتے کہ تُم نے ہمیں مروا دینا ہے۔ لیکن مجھے یقین تھا کہ ہم الیکشن سے پہلے، لاہور کے شہریوں کو یہ عظیم تحفہ دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

اسمیں ہماری پوری ٹیم صبح و شام ایک کئے ہوئے تھی۔ لاہور کے سابق لارڈ مئیر خواجہ احمد حسان چیف کوآرڈینیٹر تھے۔چیف سیکرٹری ناصر کھوسہ، چئیر مین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ جاوید اسلم، ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ، فواد حسن فواد، سبطین فضل حلیم اور ڈاکٹر توقیر شاہ۔ غرض کس کس کا نام لوں، لاہور شہر کی انتظامیہ، ٹریفک پولیس، کنٹریکٹر اور اس منصوبے پر کام کرنے والے محنت کش۔ چوبیس گھنٹے کا م ہو رہا تھا۔ شاید ہی کوئی رات ہو جب ہم میٹرو کے تعمیراتی کام کا چکر لگائے بغیر گھر گئے ہوں (سچ بات یہ ہے کہ مجھے خواب بھی میٹرو ہی کے آتے) اتوار کو ہم سب 6 بجے گھر سے نکل پڑتے اور پورے روٹ کا جائزہ لیتے۔

میٹرو کا منصوبہ تکمیل کو پہنچ رہا تھا جب جناب طیب اُردوان پاکستان تشریف لائے۔ اسلام آباد کے ہوٹل سیرینا میں، میاں نواز شریف کی زیرِ قیادت، ان سے ملنے والے وفد میں، میں بھی شامل تھا۔ یہ پُر تپاک لیکن بے تکلف ملاقات تھی۔ جناب طیب اُردوان نے میٹرو کا پوچھا تو میں نے بے تکلفانہ عرض کیا، جناب وزیر اعظم! جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ کبھی کبھی شاگرد استاد سے آگے نکل جاتا ہے۔ انہوں نے استفہامیہ نظروں سے دیکھا تو میں نے با ت کو آگے بڑھایا، استنبول کی میٹرو میں آپ کو اڑھائی، تین سال لگ گئے تھے اور ہم انشاء اللہ ایک سال سے بھی پہلے اسے مکمل کرنے جارہے ہیں۔ اردوان خوش ہوئے اورہنستے ہوئے کہا کہ آپ کا منصوبہ 27 کلو میٹر کا ہے جبکہ ہمارا استنبول کا منصوبہ 32 کلومیٹر کا تھا۔ قدرے توقف کے بعد انہوں نے بات کو آگے بڑھایا، ہم نے قاہرہ میں میٹرو کے لیے بھی اسی طرح کا تکنیکی تعاون اور مدد فراہم کی لیکن وہاں کام التوا میں پڑا ہوا ہے۔

اور پھر الیکشن سے ٹھیک تین ماہ پہلے 10 فروری 2013 ء کو شہر میں جشن کا سماں تھا، لاہور میٹرو کے افتتاح کا دن۔ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ترکی کے نائب وزیر اعظم اور مختلف ملکوں کے سفیر بھی گجومتہ میں تقریب افتتاح میں موجود تھے۔ ادھر گجومتہ سے شاہدرہ تک 27 کلو میٹر کے راستے میں، سڑک کے دو نوں طرف لوگ ہی لوگ تھے۔ شاید ہی کوئی مکان ہو جس کی چھت پر، خواتین اور بچوں کا ہجوم نہ ہو۔ نعروں کاشور، اور پھولوں کی بارش۔

مسرت کے اس موقع پر، میں کوئی تلخ بات نہیں کرنا چاہتا، قارئین کو یاد ہوگا کہ میٹرو کے اس عظیم الشان منصوبے کا کس طرح مذاق اُڑایا گیا، “جنگلہ بس”۔ اخراجات کے حوالے سے بھی مبالغہ آمیز الزام تراشی کی گئی، 70 اور 80 ارب تک کی باتیں۔ لیکن حقیقت موجودہ پنجاب اسمبلی میں بھی سامنے آگئی جب ایک سوال کے جواب میں، خود پی ٹی آئی کی حکومت نے کہا کہ اس پر 30 ارب سے بھی کم اخراجات ہوئے تھے۔ پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے۔

اب بھی لاہور میٹرو پر روزانہ ڈیڑھ لاکھ کے قریب لوگ سفر کرتے ہیں لیکن لوگ بتاتے ہیں کہ اب وہ پہلے والی بات نہیں رہی۔ بسوں کی ائیر کنڈیشننگ خراب رہتی ہے، ایکسیلیٹر بھی بیشتر وقت بند ہوتے ہیں، صفائی ستھرائی کی حالت بھی پتلی ہے۔ ٹریک بھی اچھی حالت میں نہیں۔

لاہور میٹرو کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں میں ہمارے خان صاحب بھی کم نہ تھے۔ پھر خود ان کی اپنی (گزشتہ) حکومت نے پشاور میں میٹرو منصوبے پر کام شروع کیا۔ اتنا وقت بیت گیا، لاگت بھی 100 ارب کو پہنچ گئی اور محاورے کے مطابق اب بھی “دلی دور است” والا معاملہ ہے۔ ایشین ڈویلپمینٹ بنک کی رپورٹ میں جا بجا بد عنوانیوں کا جوذکر کیا گیا، اس کی تفصیل میں جانے کی بجائے، میں آپ کو پشاور میٹرو کے حوالے سے ایک لطیفہ سناتا ہوں، جج نے مجرم کو سزائے موت سناتے ہوئے اس کی آخری خواہش پوچھی تو اس نے عرض کیا: جناب! مرنے سے پہلے میں پشاور میٹرو پر سفر کرنا چاہتا ہوں۔ جج نے ڈانٹتے ہوئے کہا، زیادہ چالاک بننے کی کوشش نہ کرو، اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ تم قیامت تک زندہ رہنا چاہتے ہو۔
(نوٹ: یہ تحریر اس سے قبل روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ پاکستان، روزنامہ جنگ، روزنامہ خبریں، روزنامہ دنیا،روزنامہ نئی بات کے صفحات کی زینت بھی بن چکی ہے.)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں