279

امریکیوں سے میری “تلخی، ترشی” اور چوتھا منصوبہ ۔۔۔ (میاں شہباز شریف)

تحریر: میاں شہباز شریف

آج ایک دلچسپ بات سے آغاز کرتے ہیں،جنرل الیکٹرک سے معاہدے کے بعد ان کے چیئرمین / سی ای او Jeff Immelt نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ انہی دنوں لاہور میں امریکی قونصل جنرل Zack سے ملاقات ہوئی، میں نے اُنہیں چیئرمین جنرل الیکٹرک کی پاکستان آمد کا بتایا تو اُن کا کہنا تھا، چیف منسٹر! مجھے اس کا علم نہیں، مگر وہ تو صدر اوباما سے بھی زیادہ مصروف آدمی ہے۔ وہ پاکستان آنے کا وقت کیسے نکال سکتا ہے جبکہ یہاں سیکیورٹی کے مسائل بھی ہیں۔ مسڑ جیف نومبر 2015 میں پاکستان آئے۔ اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف سے ان کی ملاقات میں، دیگر شرکاء کے ساتھ میں بھی موجود تھا۔ مسٹر جیف کی یہ بات ہم سب کے لیے بے پناہ مسرت کا باعث تھی۔ وزیرا عظم صاحب کا چہرہ بھی خوشی سے کھِل اٹھا جب انہوں نے کہا، مسٹر پرائم منسٹر! میرے پاکستان آنے کا مقصد آپ کا شکریہ ادا کرنا تو تھا ہی مگراس سے بڑھ کر میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ جنرل الیکٹرک نے دنیا بھر میں ہزاروں میگا واٹ کے پلانٹ فروخت کئے، اِ ن میں مڈل ایسٹ میں بڑے بڑے پراجیکٹس بھی تھے، مگر شفاف بولی (Transparent Bidding) کا جو نظام آپ کے ہاں دیکھا اور قیمتیں کم کروانے اور اپنے ملک و قوم کے لیے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے جو کاوشیں آپ لوگوں کی طرف سے بروئے کار آئیں، ایسی مثال میں نے دنیا میں کہیں نہیں دیکھی۔ آپ کی زیر قیادت آپ کی ٹیم نے جس لگن اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا، اس سے متاثر ہو کر میں نے فیصلہ کیا کہ خود پاکستان جا کر اپنے تاثرات سے آپ کوآگاہ کروں۔ یہ بلا شبہ پاکستان کے لیے بے پناہ اعزاز اور وقار کی بات تھی کہ دنیا کی اتنی بڑی کمپنی کا سربراہ پاکستان آکر ہماری کاوش کا اعتراف کر رہا تھا۔

دوپہر کے کھانے پر مسٹر جیف نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا، چیف منسٹر! جنرل الیکٹرک نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم؛ Corporate Social Responsibility (CSR) کے ساتھ صنعتی میدان میں سرمایہ کاری کے طور پر50 ملین ڈالر (اُس دور کے تقریباً 5 ارب روپے) پاکستان میں خرچ کریں گے۔ اس پر میں نے اپنے ایک ساتھی سے مذاقاً کہا کہ چونکہ جنرل الیکٹرک کوایک دھیلا بھی “نذرانے” کے طور پر دینا نہیں پڑااس لیے انہوں نے سوچا ہوگا کہ جو رقم “نذرانے” کی مد میں رکھی تھی، اس میں سے کچھ رقم کا CSR کے طور پر اعلان کر دیں۔

یہاں میں امریکیوں کے ساتھ اپنے دلچسپ مکالمے کا ذکر بھی کرتا چلوں۔ جنرل الیکٹرک کے پلانٹ جدید ترین تھے اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کے آغازمیں کچھ ٹیکنیکل مسائل بھی سامنے آتے ہیں (جن کا پہلے اندازہ نہیں ہوتا) تکنیکی زبان میں انہیں Teething Problems کہا جاتا ہے مگر ان منصوبوں میں کچھ زیادہ ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے فوری حل کے لیے دن رات میٹنگز ہوتیں۔ ضروری پرزوں کی جلد از جلد فراہمی کے لیے (جنرل الیکٹرک کے خرچ پر) جہازچارٹر کرانے سے بھی گریز نہ کیا جاتا۔ بسا اوقات میں اس صورتحال پررنجیدہ بھی ہو جاتا۔ ایسے میں امریکیوں کے ساتھ “تلخی ترشی” بھی ہو جاتی۔ ایک بار مجھے یہ کہنے میں بھی عار نہ تھی کہ امریکی دوستوں نے پاکستان کواسلحہ سے لے کر بجلی کے منصوبوں تک “ٹیسٹنگ گراؤنڈ” سمجھ لیا ہے۔

بجلی کے منصوبوں کے لیے، میں نے تُرک سرمایہ کاروں کو بھی پنجاب میں سولر پاور پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی اورانہیں ان پراجیکٹس پر، فی یونٹ 6 سینٹ سے بھی کم ریٹ پر آمادہ کر لیا۔ یہ 2017 کی بات ہے جب سولر پروجیکٹ میں نیپرا کا ٹیرف 10.5 سینٹ فی یونٹ تھا۔ اس کے مقابلے میں، ٹیرف میں فی یونٹ 4.5 سینٹ کی کمی سے، فی 100 میگا واٹ یہ 45 ملین ساڑھے چارارب ڈالر کی بچت تھی۔ ترک کمپنیوں نے سرمایہ کاری شروع کردی، مگر سیاسی حالات کی تبدیلی کے بعد یہ شاندار منصوبہ سرخ فیتے کی نذر ہو گیا اور میری معلومات کے مطابق اب کام بند پڑ ا ہے جس سے تُرک سرمایہ کاروں کو نقصان اُٹھانا پڑا اور جس سے پاکستان کی نیک نامی متاثر ہو ئی۔

CPEC کے تحت ساہیوال کول پراجیکٹ میں میرے اصرار پر چینی کمپنی اپنے منافع سے سالانہ 2 فیصد پنجاب میں تعلیم اور صحت کے منصوبوں کے لئے عطیہ کرنے پر آمادہ ہو گئی۔ یہ رقم سالانہ تقریبا پچیس، تیس کروڑ روپے بنتی ہے، جو اس پلانٹ کی مد ت (تقریباً تیس سال) تک ملتی رہے گی (یعنی تیس سال میں تقریباً 7.5 ارب روپے)۔ کسی سرمایہ کار کی طرف سے اپنے خالص منافع میں سے اتنی بڑی رقم کا عطیہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال تھی۔

یہ منصوبے، تمام تر مشکلات اور غیر متوقع مسائل کے باوجود تاریخ کی مختصر ترین مدت میں مکمل ہوئے۔ (ہمارے اپنے وسائل سے بننے والے گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے دنیا کی حالیہ تاریخ میں سستے ترین بھی تھے) CPEC کے تحت ساہیوال کول پاور پروجیکٹ نے جون 2017 ء میں سپلائی شروع کردی تھی اورپورٹ قاسم نے بھی 2018ء میں پیداوار شروع کردی۔ بھکی شیخوپورہ، بلوکی اور حویلی بہادر شاہ کے (تینوں) گیس پاور پراجیکٹس بھی 2018 ء میں بجلی پیدا کرنے لگے۔ بہاولپور میں CPEC کے تحت 300 میگاواٹ کا سولر پروجیکٹ بھی تھا۔ اس پر بھی”دیوانوں” کی طرح کام ہوا۔ کچھ سامان چین سے ( چینی سرمایہ کار کے خرچ پر) ہوائی جہازوں پر بھی لایا گیا جس کی کلیئرنس کے لیے کسٹم والوں نے عید کی چھٹیوں میں بھی کام کیا تا کہ بجلی کی پیداوار شروع ہونے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہ ہو۔

یہاں نندی پور کے المیے کا ذکر بھی ہو جائے۔ تیل اور گیس سے بجلی پیدا کرنے کے 500 میگاواٹ کے اس منصوبے پر اخراجات کا ابتدائی تخمینہ 30 ارب روپے تھا (جسے بولی (Bidding) کے بغیر غیر شفاف طریقے سے ایوارڈ کر دیا گیا تھا) اس کا سامان تین سال تک کراچی کی بندرگاہ پر گلتا سڑتا رہا۔ قیمتی ترین پُرزے چوری ہوتے رہے۔ اس کی فائل اُس دور کی وزارتِ قانون کی الماری میں کہیں بہت نیچے پڑی رہی۔ جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل سپریم کورٹ کے کمیشن نے اُس دور کے وزیر قانون بابر اعوان کو اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف صاحب نے نندی پور کے اِس مُردے کو زندہ کرنے کی ذمہ داری بھی میرے سپرد کی۔ تین برسوں کی تاخیر اور اس دوران سامان کی تباہی و بربادی کے باعث یہ منصوبہ 27 ارب روپے کی اضافی لاگت کے ساتھ تقریباََ 57 ارب روپے میں مکمل ہوا۔ یہ غریب پاکستانی قوم کے ساتھ سخت ظلم اورزیادتی تھی، نہایت تکلیف دہ اور شرم ناک بات۔ نندی پور کے مردے کو نئی زندگی دینے میں متلقہ وفاقی و صوبائی وزراء اور افسران کے ساتھ، اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیپٹن (ر) محمود احمد کی شبانہ روز محنت کا بھی اہم کردار تھا۔

اب میں حویلی بہادر شاہ میں حکومت پنجاب کے بجلی کے دوسرے منصوبے کی کہانی سُناتا ہوں۔ جیساکہ گزشتہ کالم میں بیان ہوچکا کہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے میری تجویز کی سخت مخالفت کے بعد بالآخر اسکی منظوری دیدی، لیکن ان مجوزہ منصوبوں کو 5000 کی بجائے 3600 میگا واٹ کر دیا۔ (گیس پاور پلانٹس کے ان 3 منصوبوں میں سے 2 کے لیے وفاقی حکومت نے اور ایک کے لیے پنجاب نے وسائل فراہم کرنا تھے۔ میرے ذہن میں 5000 میگا واٹ کا ٹارگٹ موجود رہا۔ اس کی دو تین وجوہات تھیں، کسی بجلی گھر میں بڑی فنی خرابی کی صورت میں پھر لوڈ شیڈنگ کے عذاب کا سامنا ہو گا۔ کئی دہائیوں پرانے، تیل سے چلنے والے بجلی گھرناکارہ ہو چکے ہیں۔ یہ تیل زیادہ پیتے اور بجلی کم پیدا کرتے ہیں۔ (ان کی تبدیلی بھی وقت کی ضرورت ہے)۔ چنانچہ میں نے وزیراعظم اور کابینہ کمیٹی کو چوتھے گیس پاور پلانٹ کی تجویز پیش کی جو منظور کر لی گئی۔ ماضی قریب و بعید میں گیس سے چلنے والے ایسے منصوبوں کے مقابلے میں ان منصوبوں کی قیمت آدھی جبکہ ان کی صلاحیت (Efficiency) کہیں زیادہ تھی۔ قیمت میں کمی سے ان 3 منصوبوں میں 112ارب روپے کی بچت ہوئی۔ یہ چوتھا منصوبہ وفاقی حکومت کے سپرد ہوا لیکن کچھ ابتدائی اقدامات کے بعد مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔ 2017ء میں کابینہ کمیٹی کی منظوری کے ساتھ یہ منصوبہ بھی پنجاب نے اپنے ذمے لے لیا اور اللہ کا نام لیکر کمر کس لی۔

گزشتہ منصوبے امریکہ کی جنرل الیکٹرک کمپنی کے سپرد ہوئے تھے اور آغاز میں کافی Teething Problems کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب میری خواہش تھی کہ اس چوتھے منصوبے کی “بولی” (بڈنگ) جنرل الیکٹرک کی ہم پلہ کوئی اور بین الا قوامی کمپنی میرٹ پر (اور شفاف مسابقت کے ساتھ) جیت لے۔ اس سے یہ بھی ہوگا کہ (انگریزی محاورے کے مطابق) ہمارے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں ہوں گے۔ لیکن ہوا یہ کہ چوتھے منصوبے کی بولی بھی جنرل الیکٹرک نے جیت لی جس نے گزشتہ منصوبوں والی”قیمتوں” ہی کی پیشکش کر دی۔

یہ چوتھا منصوبہ1250 میگا واٹ کا تھا (بھکی منصوبے سے 100 میگا واٹ زیادہ)۔ میں نے جنرل الیکٹرک سے بھکی منصوبے والی شرائط اور اُسی قیمت کا مطالبہ کیا، حالانکہ یہ منصوبہ اس سے 100 میگا واٹ زیادہ تھا اور یوں اس کی قیمت 10 ارب روپے مزید کم ہو جانا تھی۔ میں نے اس کے لیے جنرل الیکٹرک کو 24 گھنٹے کا وقت دیا۔ اُنہوں نے اپنی جوائنٹ وینچرپارٹنر (JV Partner)، چینی کمپنی سے مشاورت کے لیے 48 گھنٹے مانگے۔ چینی کمپنی کے انکار پر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی چنانچہ ہم دوبارہ ٹینڈرنگ کی طرف چلے گئے۔ اس بار جرمن کمپنی سیمنز(SIEMENS) نے سب سے کم بولی پر ٹینڈر جیت لیا۔ لیکن ان سے بھی میرا وہی مطالبہ تھا، جو جنرل الیکٹرک سے تھا۔ میرے لیے یہ بات خوشگوار حیرت سے کم نہ تھی کہ سیمنز (SIEMENS) ہماری شرائط مان گئی۔ بھکی منصوبے کی قیمت 4 لاکھ 55 ہزار ڈالر فی میگا واٹ تھی جبکہ حویلی بہادر شاہ،پنجاب حکومت کا یہ دوسرا منصوبہ (1250میگا واٹ)ہمیں 4 لاکھ 15 ہزار ڈالر فی میگا واٹ میں پڑا۔

سیمنز(SIEMENS)نے CSR کے طور پر ایک ٹیکنیکل کالج بنانے کا بھی اعلان کیا۔ ڈیڑھ سال میں شروع ہونے والے 4 منصوبوں میں 162 ارب روپے کی بچت کیا تاریخ کا عجوبہ نہ تھا؟ ملک کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نجات دلانا وقت کی اہم ترین ضرورت تھی ایسے میں قیمت ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے لیکن اللہ کے فضل وکرم سے یہ منصوبے کم ترین مدت میں اور کم ترین قیمت میں مکمل ہوئے۔

مزید یہ کہ یہاں اس افسوسناک حقیقت کا اظہار بھی کرتا چلوں کہ ہماری حکومت سے پہلے کے منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوئے، نہ مقررہ قیمت میں۔ مثلاً970 میگا واٹ کے نیلم جہلم منصوبے کی اصل قیمت 800 ملین ڈالر اور مقررہ مدت 6 سال تھی لیکن یہ 19 سال میں 5 بلین ڈالر(اُس دور کے پانچ سو ارب روپے میں مکمل ہوا)۔ نندی پور منصوبے کی اصل قیمت 30 ارب روپے تھی اور مدت 3 سال تھی، یہ 8 سال میں 57 ارب روپے میں مکمل ہوا۔

ہر حساس دل یہ سوچ کر تڑپ اُٹھتا ہے کہ مملکت خداداد اور اسکے عوام کے ساتھ کیا کیا ظلم ہوتے رہے۔ یہ المیہ بھی اپنی جگہ کہ سستے ترین منصوبوں سے حاصل ہونے والے بجلی کے بل اب ہر ماہ غریب گھرانوں پر بجلی بن کرگرِ رہے ہیں۔ آئیے! ہم سب اپنے رب کے حضور مغفرت کی التجا کے ساتھ، ملک و قوم کی خدمت کے لیے مزید توفیق اور استطا عت کی دُعا کریں۔

(نوٹ: یہ تحریر اس سے قبل روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ نوائے وقت اور روزنامہ جنگ کے صفحات کی زینت بھی بن چکی ہے.)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

امریکیوں سے میری “تلخی، ترشی” اور چوتھا منصوبہ ۔۔۔ (میاں شہباز شریف)” ایک تبصرہ

  1. پی ٹی آئی وہ جماعت ہے جس نے ایک سال میں ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا، بھٹو صاحب کے بعد شریف برادران کے کام ملک میں نظر آتے ہیں۔آج مجھے افسوس ھے کہ میں پی ٹی آئی کی اتنی وکالت کرتا رہا

اپنا تبصرہ بھیجیں