215

لنگر خانے کی حقیقت ۔۔۔۔ (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

حضرت عمر کا دور حکومت مثالی کہا جاتا ہے اور وہ بھی سب کو معلوم ہے کہ جب بڑھیا کو راشن کی ضرورت تھی تو راشن گھر تک پہنچایا۔ کیا وہ بھیک تھی؟ اسلامی تاریخ میں حقداروں کو وظیفے نہیں دیے گئے؟ اگر سب مسلمان امیر ہیں تو پھر زکوٰة کا حکم کیوں دیا گیا؟ جب تک دنیا ہے امیر اور غریب کا فیکٹر موجود رہے گا اور کامیاب وہ ہوں گے جو غریب کی حاجات پوری کریں گے اور خدا کے نزدیک بھی ضرورتمند کی حاجات پوری کرنا سب سے احسن اقدام ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ خدا نے ہمیں ملک کا بھلا سوچنے والا، غریبوں اور ضرورتمندوں کا احساس کرنے والا وزیر اعظم دیا۔ ماضی میں حکمران صرف امیروں کو نوازتے تھے اور بدلے میں وہ اپنے “مقاصد” پورے کرتے تھے۔ جب کہ موجودہ حکومت کی جانب سے ابھی تک جتنے بھی منصوبے شروع کیے گئے یا کیے جا رہے ہیں وہ سب غریبوں اور ناداروں کے لیے ہیں۔

چین اور دبئی بھی ہماری طرح غریب ملک تھے، ایماندار وژنری قیادت آئی، ایک سال میں نہیں ہاں چند سال لگے وہ ملک ٹریک پر آگئے اور پھر وہاں بھیک مانگنے والا کوئی نہ رہا۔ وزیر اعظم کی بھی یہی سوچ ہے کہ جب تک ہم ملک کی معیشت بہتر نہیں کر لیتے، معاشرے کے کمزور افراد کی مدد کی جائے گی، جس بات کو یار کسی حال میں مطمئن نہ ہونے والے لوگوں نے سینگوں پر اٹھا لیا۔

حیران کن امر تو یہ ہے کہ ہم مخلوق خدا کے لئے شروع کیے گئے منصوبے پر عمران خان کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اس بات کی پروا بھی نہیں کر رہے کہ ہم انجانے میں خدا کے غضب کو دعوت تو نہیں دے رہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں