220

پاکپتن: ڈینگی قابل علاج مرض ہے، ڈینگی سے گھبرانے کی نہیں بلکہ احتیاط کی ضرورت ہے، محکمہ بہبود آبادی کے زیر انتظام واک کے شرکاء سے ڈپٹی کمشنرکا خطاب.

پاکپتن (حکیم ولی محمد سے) ڈینگی قابل علاج مرض ہے، ڈینگی سے گھبرانے کی نہیں بلکہ احتیاط کی ضرورت ہے، ڈینگی سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، اپنے ماحول میں کہیں پانی کھڑا نہ ہونے دیں، صفائی ستھرائی کا خاص خیال کریں، کچرا لازمی صاف کریں، بروقت تشخیص اور علاج کرانے سے مریض جلد اور مکمل طور پر صحت یاب ہوجاتا ہے، ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر احمد کمال مان نے ڈینگی سے بچاؤ آگاہی مہم کے سلسلہ میں محکمہ پاپولیشن ویلفیئر کے زیر انتظام کی جانے والی واک کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

ریلی میں پریس کلب پاکپتن کے صدر وقارفرید جگنو، افضل بشیر مرزا ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر، ڈاکٹر ریاض احمد ڈی ایچ او، میاں عبدالرحمن وٹو کسان راہنما، حکیم عبدالمجید شامی صدر پاکستان طبی کانفرنس، ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی صدر انجمن فلاح مریضان، رانا مہران اکبر، چوہدری کرم علی کیفی، حکیم ماجد رضا نے خطاب کیا. حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے کہا کہ ڈینگی بخار ایک وائرل بیماری ہے جو ایک مخصوص مچھر کے کاٹنے کی وجہ سے ہوتی ہے، یہ مچھر گھریلو مچھر کہلاتا ہے، ہمارے گھروں کے اندر اور آس پاس موجود پانی اور ذخیرہ کیے صاف گئے پانی میں پرورش پاتا ہے، مادہ مچھر مختلف جگہوں، گھروں، سکولوں اور دفاتر وغیرہ میں رکھے پانی کے برتن ڈرم ریفریجریٹر کی ٹرے، روم کولر، اے سی کے ڈرین، گملے، پانی کی ٹینکیاں اور جہاں بارش کا پانی جمع ہو وہاں انڈے دیتی ہیں، جوکہ 5 سے 10دن میں مکمل مچھر بن جاتے ہیں. CEO ہیلتھ ڈاکٹر اطہر اقبال نے کہا کہ ڈینگی بخار کی خاص علامات شدید سر درد، بخار، فلو، کمر، جسم اور جوڑوں میں درد، آنکھوں میں درد، جسم پر سرخ دھبوں کا ظاہر ہونا، شدید بیماری ڈی ایچ ایف ڈینگی، ہیمریجک فیورکی صورت میں جسم کے مختلف حصوں اور ناک منہ سے خون جاری ہوتا ہے، ڈینگی بخار کی تشخیص کے سلسلہ میں مریض کو فوری طور پر کسی قریبی ہسپتال پہنچائیں. DPWO محمد لطیف بھٹی نے کہا کہ ڈینگی کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا لیکن اگر احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے تو اس سے بچا جاسکتا ہے. اس کے لئے لوگوں میں آگاہی پھیلانا ضروری ہے، جس کیلئے محکمہ بہبود آبادی، محکمہ صحت اور سماجی تنظیموں کے ساتھ ملکر لوگوں کو ڈینگی سے متعلق آگاہی دے رہے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں