210

سیاسی ٹک ٹاک ۔۔۔۔ (رضوان علی)

تحریر: رضوان علی

اداکارہ ترانہ کا تعلق ایران سے تھا اور وہ 60/70 کی دہائی کی پاکستانی فلموں کے مشہور ویمپ / ڈانسروں میں سے ایک تھی۔ وہ اپنی “غیر ملکی” شکل کی وجہ سے فلم انڈسٹری میں اپنا نام پیدا نہ کر سکی، وہ زیادہ تر اعلی طبقے کی ماڈل گرل یا فلموں میں مغربی رقص پیش کرنے کے طور پر کاسٹ کی جاتی تھی۔ وہ 70 کی دہائی کے آخر میں پاکستان چھوڑ گئی۔
لیکن اس کے باوجود مُلک کی معروف سیاسی شخصیات کی منظور نظر رہی۔ وہ مختصر طور پر سابق پاکستانی صدر کے ساتھ شامل ہوگئی۔ صدر کے ساتھ جب علیک سلیک بڑھی تو اُن کے آفس میں آنا جانا شروع ہو گیا۔

ایک شام اداکارہ ترانہ صدارتی محل میں پہنچی اور یہ کہ کر اندا داخل ہونے کا مُطالبہ کیا کہ میں اداکارہ ترانہ ہوں۔ سیکیورٹی گارڈ نے جواب دیا آپ جو بھی ہو لیکن اس طرح اندر جانے کی اجازت نہیں ملے گی جب تک آپ کے پاس خصوصی اجازت نامہ نہ ہو۔ اداکارہ بضد رہی اور اے ڈی سی سے بات کرنے کا مُطالبہ کیا۔ اے ڈی سی نے اندر آنے کی اجازت دے دی۔ اداکارہ جب دو گھنٹے بعد واپس لوٹی تو گارڈ نے سیلوٹ کیا اور معذرت کی۔ روئیے میں تبدیلی کی وجہ پوچھی تو کہا پہلے آپ ترانہ تھیں۔ اب قومی ترانہ بن گئی ہیں۔

کُچھ دن پہلے ایک سستی شُہرت کی حامل ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کو وزارت خارجہ کے دفتر میں مرکزی نشست پر براجمان دیکھا گیا تو بے اختیار بات یاد آگئی کہ جب حُکمران حُسن پرست ہوں تو کسی بھی حسینہ کی دربار خاص تک رسائی مُشکل نہیں اور سابقہ روایت ابھی تک برقرار ہیں۔ حریم شاہ ایک پاکستانی ٹک ٹاک گرل ہے۔ جو مُختلف سیاستدانوں کی منظور نظر ہے۔ کسی بھی سیاسی و حکومتی شخصیت کو اپنے جال میں لانا اُس کے لئیے معمولی کام ہے۔ وزارت خارجہ تک رسائی کوئی عام بات نہیں۔ یہ ایک اہم حکومتی ادارہ ہے جس کا سربراہ موجودہ وزیر ہوتا ہے۔ یہ ادارہ بیرونی معاملات کو دیکھتا ہے۔ وزیر خارجہ امور کابینہ کا اہم رُکن ہوتا ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ بیرون ملک اس کے سفارتی مشن کو برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے۔

موجودہ وقت میں شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ امور پاکستان کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کا ایک حساس ادارے کے دفتر میں بلا جواز داخل ہونا مُشکل ہی نہیں نا مُمکن بھی ہے، جب تک آپ کو خصوصی اجازت نہ دی جائے۔ کیونکہ کسی بھی مُلک کی وزارت خارجہ کا دفتر انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے جس میں فرد عام کا داخلہ معمولی بات نہیں۔ جس دفتر میں مُلک و قوم کی سلامتی کے فیصلے کیئے جاتے ہوں۔ بیرونی دُنیا سے روابط قائم کرنے کے معاہدے ہوتے ہوں، خُفیہ اجینسیوں کے ریکارڈذ کی فائلز مجود ہوں۔ جہاں بیرونی ممالک کے نمائیندوں کی دستاویزات محفوظ ہوں وہاں سستی شُہرت کی خاطر مُلکی مفاد کو داؤ پر لگانا قومی جُرم ہی نہیں غداری کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ جہاں ایک طرف دُشمن اسلام و پاکستان پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے وہاں مُخالف مُلک کے بے ہودہ موسیقی پر ٹک ٹاک بنانے اور اجازت دینے والے کسی معافی کے حقدار نہیں۔ کسی بھی ادارے کی سلامتی کو نقصان پہنچانا ناقابل معافی جُرم ہے۔

سابقہ ادوار میں بھی حُکمرانوں کی عیاشیاں اور فیاضیاں عروج پر رہی ہیں۔ جنہوں نے اپنی محبوباؤں کی خاطر مُلکی مُفاد کو بھی داؤ پر لگایا۔ ایسے حُکمران بھی تھے جنہوں نے مُختلف اداکاراؤں کی خاطر مُلکی راز تک دُشمنوں کے حوالے کئے۔ لیکن آج تک اُن کا احتساب نہ ہو سکا۔ یہ لوگ کمال مہارت سے سیاسی عشق رچاتے ہیں اور معینہ مُدت ختم ہونے کے بعد کسی نئی نشست پر نظر ٹکا لیتے ہیں اور یہ کھیل یا تو کھلاڑی کے عُہدے کے ساتھ ختم ہوتا ہے یا نئے شکار پر۔ اگر اسی طرح صورت حال جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب حریم شاہ جیسی ٹک ٹاک ماڈلز تمام حکومتی و سیاسی دفاتر پر قبضہ جما لیں گی اور حُکمران مذمتی بیانات سے عوام کو تسلیاں دیتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں