192

پیگ پیگ ۔۔۔ (رضوان علی)

تحریر: رضوان علی

دُنیا میں دو طرح سے کھانے کے طریقے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے گھر۔ دفتر۔ دوکان یا ہوٹل میں باوقار اور با عزت طریقے سے کھاتے ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ کی آپ کو گھر۔ دفتر۔ دوکان یا ہوٹل سے کھانا نہ مل سکے اور آپ انہی جگہوں پر پھینکے ہوئے کھانے کو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر سے اُٹھا کر کھانے پر مجبور ہو جائیں۔ دُنیا کی حالیہ اندازے کے مُطابق سات ارب آبادی ہے۔ جس میں 2.2 بلین عیسائی، 1.8 بلین مُسلمان، 1.2 بلین سیکولرز، 1.1 بلین ہندو اور دوسرے مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ ان سب کی عبادت کا انداز مُختلف ہو سکتا ہے لیکن کھانا اولین ضرورت ہے۔ کیونکہ بھوک انسان کی انسانیت اور مذہب کی عبادت کو بھُلا دیتی ہے۔ بھوک انسان کو جُرم کرنے اور ردی پہ بکھری ہوئی خُوراک کو بھی کھانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

دُنیا میں اس وقت تقریباً 1 بلین سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جن کو مُناسب مُقدار میں کھانا نہیں ملتا جس کی وجہ سے یہ لوگ دفتروں۔ دوکانوں۔ ہوٹلوں کے باہر پھینکے ہوئے بچے کُچے کھانے پہ پیٹ کی بھوک مٹانے پر مجبور ہیں۔ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر سے کھانا اُٹھانے اور اس کو ری کُک کر کے کھانے کا رُجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ جس کو پیگ پیگ کہا جاتا ہے۔ فلپائن سمیت دُنیا کے مُختلف پسماندہ ممالک میں بڑھتی ہوئی غُربت کے باعث لوگ پیگ پیگ کھانا کھانے پر مجبور ہیں۔ یہ لوگ کوڑے کے ڈھیر سے بکھرے ہوئے کھانے کو اُٹھا کر گھر لے جاتے ہیں اور اس بدبو دار جراثیم سے بھرپور کھانے کو پانی میں اُبال کر صاف کر لیتے ہیں۔ پھر اس کو دوبارہ پکایا جاتا ہے۔ کوئی بھی انسان اس بچی اور ردی کے ڈھیر سے اُٹھائی ہوئی خُوراک کو کھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن فلپائنی نہ صرف اس کھانے کو کھاتے ہیں بلکہ اس کو ٹھیلوں پہ رکھ کر بیچتے ہیں جن سے ان کی گُذر بسر ہوتی ہے۔ قومی انسداد غُربت کمیشن نے اس خُوراک کو مُضر صحت قرار دیا ہے جو کہ یرقان۔ ٹائیفائیڈ۔ ڈائریا اور ہیضہ کا باعث بن رہی ہے۔

اب ہم ایک لمحے کے لئیے دوسری طرف چلتے ہیں دُنیا میں تقریباً 1.3 بلین ٹن خُوراک ضائع کردی جاتی ہے۔ تقریباً 680 بلین ڈالر کی ترقی یافتہ جبکہ 310 بلین ڈالر کی پسماندہ ممالک میں خُوراک ضائع کی جاتی ہے۔ زندہ اجسام کے اس جم غفیر میں کُچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس ضائع شُدہ خُوراک کو کھانے پر مجبور ہیں۔ دُنیا میں خُوراک کی پیداوار دن بدن کم ہو رہی ہے یہ نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے لیئے بھی خطرے کی علامت ہے۔ دُنیا کو خُوراک کی قلت و اہمیت کا احساس دلانے کے لیئے ہر سال 16 اکتوبر کو خُوراک کا علمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ مُختلف ممالک میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جن کے اختتام پر بڑی مُقدار میں کھانا مہیا کیا جاتا اور وہیں پر خُوراک کو لوگ ضائع کر کے چلے جاتے ہیں۔ اگر خُوراک کو ضائع کرنے کا عمل اسی طرح جاری رہا تو بہت جلد ترقی یافتہ ممالک بھی خُوراک کی قلت کا شکار ہوجائیں گے۔

ماہرین کے اندازے کے مُطابق 2050 میں دُنیا کی آبادی 9.1 بلین ہو جائے لیکن زرعی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے لاکھوں انسانوں کو بھوک سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ترقی پزیر ممالک میں گھریلو خُوراک کو ضائع کرنے کا باعث زیادہ تر خواتین ہیں جو وافر مُقدار میں کھانا بنا کر ضائع کر دیتی ہیں۔ اس وقت دُنیا میں زرعی پیداوار کی صلاحیت سب سے زیادہ چائنہ، امریکہ، فرانس روس اور برازیل کے پاس ہے۔ جو اپنی پیداوار کا زیادہ تر حصہ دُنیا میں برآمد کرتے ہیں۔ امریکہ مکئی میں 51.1 فیصد، چائینہ مچھلی میں 9.2 فیصد، انڈونیشیاء پام آئل 51 فیصداور تھائی لینڈ 34.5 فیصد چاول کی برآمدات میں نمایاں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کو خُوراک کے حصول میں مُشکلات کا سامنا ہے۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2018ء کی موجودہ رپورٹ کے مطابق خوراک کی کمی کے شکار دنیا کے 119 ممالک میں سے پاکستان 106ویں نمبر پر ہے۔ خطے کے دیگر ممالک میں ہندوستان 103، بنگلادیش 86، جبکہ افغانستان 111 ویں نمبر پر ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں غذائی قلت کا اس سطح پر ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔

خوراک میں کمی کی ایک بڑی وجہ غربت کی شرح میں دن بدن اضافہ بھی ہے، مہنگائی کے باعث غریب افراد اپنی آمدنی کا 70 فیصد خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستانی عوام ایک ایسے استحصالی اور شرمناک نظام میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں، جہاں اُنہیں IMF ، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ملک کے وسائل پر مسلط چند فیصد مافیا نے شکنجے میں جھکڑ رکھا ہے۔ نہ علاج کرانے کےلیے پیسے ہیں اور نہ پیٹ بھرنے کا کوئی مستقل سہارا۔

عالمی بینک کی ایک رپورٹ ”ورلڈ ڈویلپمنٹ انڈیکیٹر“ کے مطابق پاکستان کے 60 فیصد افراد کی آمدن یومیہ دو ڈالر یا اڑھائی سو روپے سے بھی کم ہے، جبکہ 21 فیصد آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں پسماندہ ممالک میں لاکھوں افراد ایک ایک روٹی کو ترستے ہو۔ فلپائنی پھینکے ہوئے کھانے کو اُٹھا کراستعمال کرنے پر مجبور ہوں ایسے حالات میں انسانوں کو انسانیت اور خُوش اخلاقی کا سبق دینا فضول ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں