213

مولانا کا آزادی مارچ، درپردہ حقائق ۔۔۔۔ (صابربخاری)

تحریر: صابر بخاری

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

اپوزیشن کا آزادی مارچ اور دھرنا بنیادی طور پر تین نکات پر محیط ہے۔ ان تین نکات کو کھنگالنے سے پہلے ایک مثال جو مولانااور باقی اپوزیشن کے موجودہ کردار اور اطوار پر خوب فٹ بیٹھتی ہے۔ ہم میں سے اکثر کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے، اگردیہات سے تعلق نہیں بھی تو بھی ملک کی اکثریت دیہات کے رسوم و رواج اور ثقافت سے آشنا ہے۔ دیہاتی کلچر میں مال مویشی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور مال مویشی میں ”کٹا“ (بھینس کا کٹڑا) خاص اہمیت رکھتا ہے، یہ زور آور جانور جب تک اچھا چارہ اور لوازمات سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے، تب تک خوش و خرم اور توانا رہتا ہے۔ اگر چارے میں تھوڑی سی دیر یا کمی ہوجائے تو کٹڑے کی حالت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ اس پر احتجاج ریکارڈ کرانا شروع کردیتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس احتجاج میں زیادہ تر نقصان ”کٹے“ کا ہی ہوتا ہے۔ وہ اپنے سینگوں کو اس کلہ کیساتھ مارنا شروع کردیتا ہے، جس کے ساتھ اسے باندھا گیا ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو وہ اپنا سر پاس دیوار اور دوسری بھاری چیز سے ٹکراکر سر کو زخمی کر لیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کا سر زخمی ہوجاتا ہے اور بعض اوقات تو سر سے خون بھی بہنا شروع ہوجاتا ہے۔ کٹا اپنی خاطر مدارت میں کمی کو کسی صورت برداشت نہیں کرتا اور اس احتجاج کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کٹے کے شور پر اسکے ساتھی کٹے اور بھینسیں شورو غوغا شروع کر دیتے اور تب تک کرتے رہتے ہیں جب تک مالک پہنچ کر ان کی داد رسی نہیں کرتا۔

مولانا صاحب اور اپوزیشن کی دوسری جماعتوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ ہر صورت اپنا سر دیوار کیساتھ دھنسانے کے موڈ میں ہیں۔ صاف ظاہر ہے پہلی دفعہ مفت کا مال پانی بندہوا ہے جو اپوزیشن خاص طور پر مولانا کو کسی صورت چین نہیں لینے دے رہا اورمولانا کو اقتدار کی دوری نے ایسا گھاو لگایا ہے کہ اب وہ بھوکے کٹے کی طرح حواس باختہ ہوئے پھرتے ہیں اور بعین کٹے ہی کی طرح وہ اپنا احتجاج بھی اسی طرح ریکارڈ کرا رہے ہیں کہ سر کو کلے اور دیوار کے ساتھ شدت سے ٹکرا رہے ہیں، جس میں سر کے لہو لہو ہونے کا خطرہ بھی پوری طرح موجود ہے، سراسر نقصان بھی مولانا کو سامنے نظر آرہا ہے مگر وہ ہر حال میں اپنی آواز ”مالک“ تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

اب آتے ہیں ان تین پہلووں کی طرف جو مولانا اور اپوزیشن کا محور ہیں۔ مولانا سمیت ساری اپوزیشن اس وقت گہری کھائی میں ہے۔ مولانا کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ اپنی آبائی سیٹ بھی اس وقت ہار چکے ہیں۔ اب وہ کٹے کی طرح منمنا رہے ہیں اور اقتدار سے دوری نے انہیں گہرے گھاو لگائے ہیں جس سے مولانا کی حالت پتلی ہوگئی ہے۔ وہ شدید غصے میں کٹے کی طرح دیوار کیساتھ سر ٹکرانے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔ جب خدائے برتراپنے فیصلے کرتا ہے تو بڑے بڑے زیرک لوگ بھی حیران و پریشان اور ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ یہی حال آجکل مولانا کا ہے۔ مجھے ان لوگوں پر افسوس ہوتا ہے کہ جو مولانا کی ذہن و فراست کیلئے زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے تھے مگر جس بے مقصد مشن کووہ نامناسب وقت پر لیکر اٹھے ہیں، اسے سیاست میں ”بونگی“ مارنا ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ مولانا کا یہ مشن نہ صرف ناکام ہوگا بلکہ جاوید ہاشمی کی طرح عزت سادات بھی گنوا بیٹھیں گے۔ شیخ رشید درست کہتے ہیں کہ مولانا کے آگے اور پیچھے کھائی ہے اور یہ کھائی مولانا نے اپنے لیے خود کھودی ہے۔ حکومت کے جانے کا تو دور تک امکان نہیں، یہ اور بات ہے کہ اس احتجاج سے مولانا کچھ فوائد ضرور سمیٹ لیں گے۔ یہ احتجاج مولانا کی زندگی کیلئے بقاءکا معاملہ ہے۔ مولانا اگر یہ سٹیپ نہ لیتے تو نیب نے اپنے شکنجے کس رکھے تھے۔ آخر مولانا نے جو برسوں ملکی خزانہ ڈکارا اس کاحساب بھی تو دینا تھا، اس لیے مولانا نے یہ سب کھایا پیا ہضم کرنے کیلئے مارچ اور دھرنے کی دھمکی دی۔ اب قوی امکان ہے کہ مولانا احتساب سے بچ جائیں گے جو ان کے دھرنے کا سب سے بڑا مقصد ہے۔

مولانا اور اپوزیشن کے جلد احتجاج کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت نے آتے ہی چند بڑے فیصلے کیے جس سے رائے عامہ حکومت کے خلاف گئی، اب ان کڑے فیصلوں کے ثمرات ملک او ر قوم تک پہنچنے اور عوام میں حکومت کی ساکھ بہتر ہونے سے پہلے ہی مولانا اوراپوزیشن کھڑاک کرنا چاہتے ہیں۔ مہنگائی ہی واحد ایشو ہے جس کو لیکر اپوزیشن چل رہی ہے۔ کچھ عرصہ میں مہنگائی کا ایشو بیٹھ جائے گا اور عوام میں حکومت کے حوالے سے خدشات دور جائیں گے، ایسا وقت آنے سے پہلے ہی اپوزیشن حکومت کوچلتا کرنا چاہتی ہے۔

میری رائے میں اپوزیشن صرف مارچ کرے گی، ایک یا دو روزہ مارچ میں اپوزیشن عوام کی خاصی تعداد اکٹھا کر سکتی ہے، حکومت بھی زیادہ روڑے نہیں اٹکائے گی۔ اس طرح اپوزیشن، حکومت کو پاور شو دکھانے میں کامیاب ہوجائے گی، جس کو مستقبل میں حکومت پر دباو رکھنے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ حکومت کو ڈرایا دھمکایا جاتا رہے گا کہ اپوزیشن نے تب جلسہ کیا تھا اب دھرنا کیا تو حکومت جاتی رہے گی۔ اس طرح بلیک میلنگ کی سیاست سے حکومت، اپوزیشن کے دباو میں رہے گی۔

دھرنے کی صورت میں ایک تو اپوزیشن زیادہ عوام اکٹھانہیں کر پائے گی اور حکومت بھی سخت فیصلے کرے گی اور اس حد تک حالات کو لے جانا نہ تو حکومت اور نہ اپوزیشن کے حق میں ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس میں نقصان سراسر اپوزیشن کا ہوگا، اپوزیشن اسکا نتیجہ سینٹ الیکشن میں دیکھ چکی ہے۔ ابھی تو حکومت کو بلیک میل کرنے کا آپشن موجود ہے تب وہ بھی جاتا رہے گا۔

اس مارچ یا دھرنے کا ایک پہلو حکومت کو کھل نہ کھیلنے دینا بھی ہے۔ اس سے پہلے کہ عمران خان کچھ زیادہ اڑیں، اس احتجاج کی آڑ میں اڑنے سے پہلے ہی ان کے پر کاٹ دیے جائیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملک کو لوٹنے والے مافیا کا بھی براحال ہے اوروہ بھی کٹے کی طرح پریشان ہیں اور موجودہ حکومت سے چھٹکارہ کیلئے مولانا کو”کالا دھن“ فراہم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں