197

ہراسیت اور اس کا ناجائز استعمال ۔۔۔ (راو کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راو کامران علی، ایم ڈی

حسین (فرضی نام) واشنگٹن ڈی سی کا ابھرتا ہوا تاجر اور سیاسی طور پر متحرک نوجوان ہے۔ میرے کالمز کے ذریعے دوستی ہوئی اور خاصا قریب آگیا۔ رواں سال مئی میں ہم واشنگٹن ڈی سی میں افطار کے لئے جمع تھے کہ اس نے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ راوی کباب پر ملاقات ہوئی۔ اس کے ساتھ ایک اور دوشیزہ بھی تھی (جس کا نام ثمینہ فرض کر لیتے ہیں) جو کہ تھوڑے غصے میں تھی۔ حسین نے بتایا کہ کمیونٹی کی ایک خاتون نے ثمینہ کو کہا ہے کہ حسین پر ہراسیت کا الزام لگاؤ۔ میں نے پوچھا کیوں، اس نے بتایا کہ ایک کمیونٹی اجتماع میں حسین اور ثمینہ ہنسی مذاق کر رہے تھے اور خاتون اس کا بتنگڑ بنا کر حسین کو سبق سکھانا چاہ رہی تھی۔ میں نے ثمینہ کو کہا کہ کوئی بات ہوئی ہے تو بتنگڑ بنا ہے!!! بہتر یہی ہے کہ اس بات کو یہیں دفن کردو اور آئندہ نہ بھری محفل میں بے جا ہنسی مذاق کرو اور نہ موقع دو بتنگڑ بننے کا۔ حسین اپنا سا منہ لیکر رہ گیا! بات آئی گئی ہو گئی۔

تقریباً ایک مہینے کے بعد حسین کا پھر فون آیا اور اس نے لائن پر ایک اور جواں سال لڑکی کو لیا (جس کا نام رابعہ فرض کر لیتے ہیں) رابعہ نے بتایا کہ اسی خاتون نے حسین کے بارے میں برائی کی ہے اور رابعہ کو بتایا کہ حسین تم پر فقرے اچھال رہا تھا، اس سے بچ کر رہنا۔ رابعہ نے کہا کہ میں نے تو ایسا کچھ نوٹ نہیں کیا، خاتون نے اسے حسین اور ثمینہ کا قصہ سنایا اور کہا کہ حسین کی عام باتوں میں بھی “میسیج” ہوتا ہے ذرا غور کرو اسکی باتوں پر، وہ اشاروں کناروں میں تمھیں “اپروچ” کررہا تھا۔ رابعہ مزید ناراض ہوگئی کہ وہ کیسی باتیں کررہی ہے۔ اس نے حسین کو بتایا۔ حسین بے حد غصے میں تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ میں اس پر کالم لکھوں یا حسین فیس بُک لائیو پر جائے اور اسکے ساتھ ساتھ conspiracy criminal act کے تحت کیس فائل کرے گا، وہ ایک تگڑے وکیل سے بات کرکے آیا تھا۔ لیکن میں نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا کہ جب تک دوسری طرف کا موقف معلوم نہ ہو، ایسا مناسب نہیں۔

چند دن کے بعد میں نے خاتون کو فون کیا اور انھیں یہ سب بتایا۔ وہ پہلے تو گڑبڑا گئیں اور پھر کہا کہ وہ حسین کی خیر خواہ ہیں اور اسے MeToo سے بچا رہی تھیں۔ میری ہنسی نکل گئی۔ میں نے عرض کیا MeToo کا مطلب ہے “میرے ساتھ بھی زیادتی ہوئی ہے”- جب ایسا کچھ ہوا ہی نہیں اور کوئی MeToo کا الزام لگا دے اور ثابت نہ کرسکے تو وہ MeToo in law suit بن جاتا ہے۔ خاتون کا کانفیڈنس ہوا ہوگیا۔ ان کا خیال تھا تیر چل گیا تو چل گیا ورنہ خیر ہے۔ انھیں یہ سٹوری سوشل میڈیا پر آنے یا کورٹ میں جانے کا نہیں اندازہ تھا۔ میں نے ازراہ مذاق کہا کہ فرض کریں کوئی لڑکی آپکی باتوں میں آکر جھوٹا الزام لگادے اور حسین، کیس کردے تو اس لڑکی کے وکیل کی ڈیڑھ دو لاکھ ڈالر فیس آپ دیں گی یا وہ بیچاری خود؟ کوئی جواب نہیں تھا ان کے پاس۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ میں نے حسین کو یہ سب بتایا، اس نے خاتون کا اعتبار کرنے سے انکار کردیا لیکن کوئی کاروائی نہ کرنے پر راضی ہوگیا تاہم وکیل کو دیا ریٹینر واپس نہ لیا کہ کب ضرورت پڑ جائے۔

مجھے یہ واقعہ پاکستان میں لیکچرار محمد افضل کی خودکشی سے یاد آیا۔ ایک لڑکی کا ہراسیت کا جھوٹا الزام ایک شریف آدمی کی جان لے گیا۔ فرض کریں کہ لڑکی الزام لگاتی کہ ٹیچر نے لڑکی کا آئی فون چوری کرلیا، افضل شرمندہ ہوتا لیکن نہ اسکی بیوی چھوڑ کر جاتی اور نہ اسکی ماں کے سامنے منہ کالا ہوتا۔ ہراسیت الزام ہی اتنا گندا اور بھیانک ہے کہ شریف انسان کا مر جانے کو دل کرتا ہے۔ اس سے پہلے سنتے تھے لڑکی کو کاروکاری یا بدکرداری کا الزام لگا کر مار دیا۔ معاشرے نے عورت کے تحفظ کے لئے MeToo شروع کیا تو چند ایک نے اسے ذاتی “اسکور سیٹ” کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ ایسے الزامات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ جو لوگ کانوں میں جھوٹی پھسکریاں چھوڑتے ہیں، انھیں گھسیٹ کر سوشل میڈیا پر لائیں اور پوچھیں، “میرے لائق کوئی خدمت”؟ دوبارہ جرات نہیں کریں گے یہ گھٹیا لوگ۔ جو کسی کی عزت اچھالتا ہے وہ اپنی عزت بارے اتنا ہی حساس ہوتا ہے۔ سوچیں اگر افضل بھی حسین کی طرح، جھوٹا الزام لگانے والی کے خلاف ایکشن لیتا تو آئندہ کالج میں کسی کی جرات نہ ہوتی ایسا کرنے کی۔ تاہم اس واقعے کو لیکر چند ایک حضرات تمام خواتین کے پیچھے لٹھ لیکر پڑ گئے ہیں حالانکہ ایسا نہیں، اچھے برے ہر جگہ، ہر جنس میں ہوتے ہیں۔ جس لیکچرار نے افضل کو جھوٹے الزام سے بری کیا وہ بھی عورت ہے۔ ثمینہ اور رابعہ باتوں میں نہیں آئیں، وہ بھی عورتیں ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ فرد واحد کے عمل کو فرد واحد کا عمل سمجھا جائے اور جو غلط الزامات لگائے اسے سمجھایا جائے اور اگر کوئی باز نہ آئے تو اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے، سب کو اسکا اصل رنگ اور اصل شکل دکھائی جائے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں