196

بین الاقوامی صورت حال اور مسئلہ کشمیر کا مستقبل ۔۔۔ (میجر ر ساجد مسعود صادق)

تحریر: میجر (ر) ساجد مسعود صادق
(منتخب تحریر)

سن 1871 تک دنیا کا ورلڈ آرڈر چین کنٹرول کرتا تھا، آج کی طرح چین اُس وقت بھی ایک معاشی سُپر پاور تھا پھر آہستہ آہستہ مغربی اقوام نے چین سے یہ اسٹیٹس یوں چھینا کہ پہلے برطانیہ سُپر پاور بنا اور جنگ عظیم دوم کے بعد امریکہ برطانیہ سے بھی آگے نکل کر پوری دُنیا پر حکومت کی کوشش میں مصروف ہوگیا۔ مغربی آرڈر ایک سیکولر جمہوری ماڈل تھا جس میں معیشت پر گورنمنٹ کی بجائے افراد کی اجارہ داری تھی اس کے مقابلے میں سوشلسٹ ری پبلک چین میں معیشت اور انڈسٹری پر گورنمنٹ کا کنٹرول تھا۔ جنگ عظیم دوم تک چین کو دبانے کے بعد مغربی طاقتیں روس کے پیچھے لگ گئیں کہ اس کو کسی بھی طرح سے توڑا جائے۔ مغرب کی قوت کا یہ عالم تھا کہ امریکہ نے بیسویں صدی کی چھٹی دہائی تک چین کو ایک آزاد مُلک بھی تسلیم نہیں کیا تھا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد جب چین اور رُوس قریب ہوئے تو مغربی طاقتوں بالخصوص امریکہ کو فکر پڑگئی کہ اُس سے دُنیا کا کنٹرول چھن جائے گا۔ پاکستانی صدر جنرل ایوب کی مدد سے چین روس اتحاد کو توڑا گیا اور پھر بیسویں صدی میں اسی کی دہائی میں پاکستان کی مدد سے ہی روس کو افغان روس جنگ میں توڑا گیا۔

بیسویں صدی کی اسی کی دہائی تک بھارت روس کا اتحادی تھا اور روس بھارت کا حمایتی۔ نوے کی دہائی کے شروع میں روس کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ ایک بار پھر دُنیا کا بے تاج بادشاہ بن گیا، تاہم تب تک چین کسی بین الاقوامی جھگڑے میں پڑے بغیر اپنی معیشت کو اتنا مضبوط کرچکا تھا کہ امریکہ کو پوری دُنیا میں معاشی محاذ پر چین ایک رقیب کےطور پر نظر آنے لگا۔ پاک چین مضبوط تعلقات، بھارت روس اتحاد ٹوٹنے کے بعد خطہ ایشیاء کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر امریکہ اور بھارت چین کو ایک مُشترکہ دُشمن سمجھ کر قریب ہونے لگے۔ یہاں واضح رہے کہ روس کو افغانستان میں گھیرنے سے پہلے سن 1962 میں مغربی طاقتیں ایک بار روس چین اتحاد سے خائف ہوکر چین کو تبت کے دلائی لامہ کی چین سےبغاوت کے ذریعے بھارت کے ساتھ لڑانے کی کوشش میں قریب قریب کامیاب ہوگئی تھیں مگر چین نے سازش کے کُھلنے پر اپنی فوجوں کو بھارت سے خود ہی واپس بُلا کر یہ سازش ناکام بنادی۔

روس کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ نے مغربی ممالک کے ساتھ نائن الیون کی آڑ میں چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا لیکن چین کی معاشی برتری کی وجہ سے امریکہ اور اُس کے اتحادی ہر میدان میں چین سے پٹنے لگے۔ اس سارے کھیل میں مغرب کی ناکامی کی ایک اور وجہ روس کی صدر پیوٹن کی قیادت میں شاندار پالیسی بھی تھی جس کے تحت روس نے چین سے اپنے تمام اختلافی مسائل نہایت سُرعت کیساتھ حل کرکے ایشیاء میں چین کی اول پوزیشن کو تسلیم کرتے ہوئے لگا تار چین سے چند ہی ماہ میں کئی معاہدے کیئے جن میں بارڈر ایڈجسٹمنٹ اور معاشی و عسکری تعاون بھی شامل تھا۔ امریکی صدر بل کلنٹن پر مغربی دباؤ انتہاء تک پہنچ گیا کہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے قدم کسی طرح روکے یوں امریکی فارن پالیسی میں تبدیلی آئی اور بھارت پر امریکہ آس لگا کر بیٹھ گیا کہ وہ چین کے خلاف اُس کا ساتھ دے گا مگر بھارتی سمجھدار نکلے انہوں نے دوسال کی اسٹڈی کے بعد ایک جامع تجزیہ سے اپنی پالیسی بنائی جس کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ بھارت چین سےجنگ جیت نہیں سکتا۔ اسی دور میں ہزاروں کی تعداد میں مغربی مفکروں نے کتابیں لکھ کر بھارت کو چین پاکستان اتحاد سے ڈرایا دھمکایا۔ بھارت کو قائل کرنے میں ناکامی پر امریکہ اور مغربی طاقتوں نے مُودی جیسے دہشت گرد کو اقتدار میں لانے میں مدد کی۔

چین سے نپٹنے کے لیئے ساؤتھ ایشیاء میں بھارت اور نارتھ ایسٹ ایشیاء میں جاپان کو ایٹمی قوت بننے کے لیئے ڈالر بھی دیئےاورایٹمی ٹیکنالوجی تک ٹرانسفر کی۔ اسی دوران چین اور روس نے ساؤتھ افریقہ اور برازیل کو اپنے ساتھ ملا کر بھارت کو ایک معاشی اتحاد “BRICS” اتحاد میں باندھ کر مغربی طاقتوں کا آلہ کار بننے سے روک لیا۔ اس سارے تناظر میں مغربی طاقتیں جن کی قیادت امریکہ کررہا تھا نے مل کر خُود کُچھ کرنے کا فیصلہ کرلیا اور یہی وجہ ہے کہ پہلے نائن الیون کا شو اسٹیج کرکے دہشت گردی کی جنگ چھیڑ کر اس خطے کے “سافٹ ٹارگٹس” مُسلمانوں پر قبضہ کیا اور چین کے مُستقبل کے ممکنہ اتحادی ہونے کی بناپر بُری طرح سے اسے نشانہ بنایا جس میں پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلانے سے لیکر اس کی معیشت کو تباہ کرنا اور پاکستان کی واحد قوت فوج کو متنازعہ بنانا اور ایٹمی اثاثوں کے خلاف پراپیگنڈا شامل تھے۔

اوبامہ دور میں پاکستان سے فارغ ہوکر امریکہ کی قیادت میں مغربی اتحاد بھارت کے عقب میں نارتھ ایسٹ ایشیاء میں چین کے تجارتی جہازوں کو روکنے کے لیئے پہنچ گیا لیکن چین نے ناصرف اس خطہ کے ممالک کو ڈرا کر امریکی مُہرے بننے سے روکا بلکہ پاکستان کے راستے “سی پیک” بنا کر ایک بار پھر امریکہ کو مات دے دی۔ پھر جاپان کو چین سے لڑانے کی کوشش ناکام ہوئی، چین کے عین بارڈر پر ساؤتھ اور نارتھ کوریا میں امریکی جنگ چھیڑنے کی کوشش بھی ناکام ہوئی اور اب پاک بھارت جنگ آخری امریکی آس ہے جو کہ سب سے آسان کام ہے لیکن یہاں مشکل یہ ہے کہ دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور اس جنگ کی شکل کیا ہوگئی امریکہ خود بھی مخمصے میں ہے کہ اس جنگ کا انجام کیا ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ دُنیا بھی پریشان ہے۔ امریکہ کے پاس چین کو پوری دُنیا پر چھا جانے سے روکنے کے لیئے وقت کم ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ پاکستان سے طوطہ چشمی کرکے آخری کارڈ “پاک بھارت ایٹمی جنگ” بھی کھیل دینے کے لیئے بیتاب اور محوِ کوشش ہے۔

بین الاقوامی حالات کے تناظر اور اس تبدیل ہوتے ہوئے ورلڈ آرڈر اور چین امریکہ مقابلہ کے اہم ترین موڑ پر بھارت نے بہت سوچ سمجھ کر اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے پورے کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت کو علم ہے کہ چین جنگ ایشیاء میں اپنے پراجیکٹس (OBOR, CPEC اور گوادر پورٹ) بچانے کے لیئے جنگ نہیں چاہے گا۔ مزید بھارت یہ جانتا ہے کہ اُسے امریکہ کی دوستی سے کہیں زیادہ چین کی دُشمنی سے بچنے کی بھی ضرورت ہے یونکہ کسی قسم کے چین کے ساتھ ٹکڑاؤ میں پاکستان موقعہ سے فائدہ آٹھائے گا اور چین بھی پاکستان کو ڈُوبنے سے بچانے ضرور آئے گا کیونکہ پاکستان ڈُوبا تو چین کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ اگرچہ گواردر پورٹ ایران اور عرب ممالک جن میں یو اے ای اور سعودی عرب بھی شامل ہیں کے لیئے ایک بہت بڑا معاشی مدِ مقابل ہے مگر چین نے روس اور تُرکی کے ذریعے ایران کو اتحاد میں باندھ رکھا ہے اور پاکستان کے ساتھ اس کے اختلافات کو ختم کرانے کی کوششوں میں بھی مصروف ہے ایسے میں امریکی قربت اور معاشی مُفادات کے پیش نظر عرب ممالک نے اپنا وزن بھارتی پلڑے میں ڈال دیا ہے۔

عمران خان کے چار بیانات بڑے اہم اور معنی خیز ہیں جو پاکستان کی انتہائی پریشانی، بے بسی اور بیچارگی اور ٹیشن کا باعث ہیں اور مُستقبل کی کشمیر پالیسی کو بھی واضح کرتے ہیں۔ ایک بات انہوں نے بھارت کے آرٹیکل 370 کے منسوخ کرنے کے فوراً کہی کہ “میں کشمیر کا سفیر بنوں گا” دوسری بات انہوں نے یو این او میں تقریر کے دوران کی کہ “کشمیر میں کرفیو ہٹنے کے بعد بلڈ باتھ ہوگا” اور تیسری بات جو انہوں نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر دہرا کر اور زور دیکر اپنی مُختصر سی تقریر میں کی کہ “جدوجہد میں مُشکل وقت آئے گا گھبرانا نہیں”۔ ایک بات انہوں نے یو این اسمبلی سیشن سے بھی پہلے پاکستان میں کسی تقریر یا محفل میں کی جس کے الفاظ تو شاید یہ نہ ہوں مگر مُدعا یہی تھا کہ “بھارت نے اگر آزاد کشمیر میں کوئی حرکت کی تو اُس کی اُس کو بھاری قیمت چُکانی پڑے گی۔”

اس ساری بین الاقوامی تبدیل ہوتی صورتحال میں بھارت نے بس یہ کیلکُولیٹ کرنا تھا کہ اگر “جس کے پاس جتنا کشمیر ہے وہ رکھ لے” کے مفروضہ پر کام کیا جائے تو کشمیریوں کو وہ کیسے کنٹرول کرے گا کیونکہ اُسے پتا ہے کہ چین جنگ نہیں چاہتا اور اکیلا پاکستان بھی کشمیر پر ایٹمی جنگ کا رسک نہیں لے گا اور چین کو کیا اعتراض کہ ایک تو اُس کے پاس پہلے ہی کشمیر کا حصہ ہمیشہ کے لیئے اُس کا ہوجائے گا اور دوسرا اُسے چند کشمیریوں کی خاطر ڈیڑھ ارب چینیوں کے مُستقبل کو داؤ پر لگانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہی وہ ٹینشن اور بے بسی ہے جو پاکستان کے اربابِ اختیار اور عمران کی یو این او تقریر میں نظر آئی۔ اگرچہ عمران خان کی یو این او میں تقریر بڑی دبنگ ہی سہی مگر ایسے لگتا ہے کہ پاکستان اس مسئلہ کو صرف ڈپلومیسی سے ہی حل کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے اور تقریروں اور تحریروں کے علاوہ کسی عملی قدم اُٹھانے سے گریزاں ہے۔ اس مفروضے کی توثیق عمران خان کے اوپر دیئے گئے بیانات میں ایک خاص ربط اور تسلسل سے بھی ہوتی ہے۔ پاکستان میں تبدیلی کا نعرہ تو مقبول ہی سہی مگر بین الاقوامی لیول پر تبدیلی ساری کی ساری بھارت کے حق میں ہے اور پاکستانیوں اور کشمیریوں کے لیئے کہیں سے بھی روشنی کی کوئی کرن یا حوصلہ افزاء خبر ایک غلط فہمی تو ہوسکتی ہے مگر حقیقت نہیں. کیونکہ آج تک دُنیا میں کوئی قابض ڈپلومیسی سے کبھی قائل نہیں ہوا جب تک اُسے بھاری نقصان سے مُجبور نہ کردیا جائے۔ کم از کم بوسنیا، روہنگیا، چیچنا اور فلسطین کے مُسلمانوں کے “ہولو کاسٹ” سے ہمیں یہی سبق حاصل ہوتا ہے۔

تبدیل ہوتی بین الاقوامی صورتِ حال کے تناظر میں چند سوال بڑے اہم ہیں، جن کے جوابات کی روشنی میں پاکستانی اربابِ اختیار کو اپنی حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی مایوس کُن صورتِ حال میں کشمیر کا مُستقبل کیا ہے؟ پاکستان ان ناموزوں حالات میں کیا کرے؟ کیا اس مُفاد پرستی کی دنیا اور دور میں بین الاقوامی برادری کو بے حسی اور اُنکی ماضی کی غلطیوں کے طعنے دینے کے بعد پاکستان کشمیر کے لیئے اپنی طرفداری پر محض انسانیت کے ناطے قائل کرلے گا؟ کیا خوبصورت تقریریں اور مظاہرے بھارت کو کشمیر میں دوسرا فلسطین بننے سے روکیں لیں گے؟ تمام دُنیا سے مُنقطع اور روٹی کو ترستے کشمیری بغیر کسی بیرونی مدد کے کس طرح نو لاکھ بھارتی فوجیوں کا اکیلے مقابلہ کریں گے؟ ہمیشہ کی طرح عمران کے ون مین شو منقعد کرکے اُن پر تکیہ کرنے کی بجائے اس مشکل صورتِ حال میں “ڈائمنڈ پالیسی” کے تحت پانچ طرح کے درج ذیل اقدامات کی انتہائی ضروری ہیں:

• پورے پاکستانی (الیکٹرانک اور پرنٹ) میڈیا کا ایک ہی ایجنڈا ہونا چاہیئے اور کشمیر کے علاوہ کوئی اور موضوع میڈیا میں ہر گز نہیں آنا چاہیئے فلموں اور ڈراموں میں کشمیر کو موضوع بنایا جائے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی سخت مانیٹرنگ کرنی ضروری ہے تاکہ افواہیں پھیلانے اور کشمیر کے خلاف کام کرنے والوں کو بلاک کرنا اُن کو سزائیں دینا ممکن ہو۔

• ڈپلومیسی کے لیئے ایک بڑے پیمانے پر اندورن و بیرونی مُلک ٹیموں کو موبلائز کیا جائے اور ان ٹیموں کی باقاعدہ تربیت کا انتظام ہونا چاہیئے تاکہ وہ کشمیر کے مسئلہ کو بہتر طور پر اُجاگر کرسکیں۔ تمام ممالک میں کشمیر کے نام پر وفد بھیجے جائیں۔

• سارے بھارتی سفارتی عملے کو فوراً مُلک بدر کرنا، بھارت ملٹری ہاٹ لائن کے علاوہ تمام رابطے اور تعلقات جن میں ثقافتی، تجارتی، سفارتی شامل ہیں فوراً منقطع کردیے جائیں۔ بالخصوص ہوائی راہداری بند کرنا بھارتی مصنوعات اور میڈیا پر پاکستان میں پابندی کے علاوہ جس بین الاقوامی فورم یا ایونٹ میں بھارت شامل ہو پاکستان کشمیر میں کرفیو اُٹھنے تک اُس کا بائیکاٹ کردے۔

• مُلکی اور بین الاقوامی سطح پر احتجاج اور دھرنوں کا ایک باقاعدہ منصوبہ بنایا جائے۔ بالخصوصی بیرون ممالک بھارتی، امریکی، برطانوی اور اسرائیلی ایمبیسیوں اور کونسلیٹس کے سامنے دھرنے دیے جائیں احتجاج کیا جائے اور بھوک ہڑتال کیمپ لگائے جائیں۔

• یو این او جب تک کشمیر پر اپنی ریزولیشنز پر عمل درآمد نہیں کراتا اس کے تمام اداروں کے زیر انتظام پروگرام اور ایونٹس میں پاکستانی وفد کالی پٹیاں باندھے اور علامتی واک آوٹ بھی کرے۔

• بھارت اور بیرونی دُنیا پر دباؤ ڈالنے اور کشمیری مورال ہائی کرنے کے لیئے فوری طور پر کشمیر میں ایک میجر ملٹری موو کی جائے اور وہاں فوجی مشقیں کرائی جائیں اور خاص طور پر پاکستان کو سٹرائیک کورز کو فوری طور پر بین الاقوامی بارڈرز پر لانا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں