227

سچی خوشی … (اسامہ زبیر)

تحریر: اسامہ زبیر

”دوسروں کی نظر میں میری زندگی کامیابیوں سے بھری ہوئی ہے لیکن ان سب کے ہوتے ہوئے بھی میں نے زندگی میں بہت تھوڑی خوشی محسوس کی ھے اور آخر میں میرے پاس سوائے اس دولت کے کچھ نہیں جس کی خاطر میں نے یہ ساری بھاگ دوڑ کی ھے. اس لمحے بیمار اور بستر پر لیٹے تیزی سے قریب آتی ہوئی موت کے سامنے مجھے اپنی ساری دولت اور شہرت بے معنی لگ رہی ہے کیونکہ آپ پیسوں سے ایک ڈرائیور تو خرید سکتے ہیں جو آپ کی گاڑی چلائے ملازم تو رکھ سکتے ہیں جو آپ کے لیے پیسہ کمائے مگر ایسا کوئی نہیں جو آپ کی بیماری اپنے اوپر لے کر آپ کی زندگی بچا سکے. زندگی چلی جائے تو اسے واپس ڈھونڈنا نا ممکن ہے ”

یہ آخری الفاظ ھیں اس نابغہ روزگار کے جسے دنیا سٹیو جابز کے نام سے جانتی ہے 24 فروری 1955 میں سان فرانسسکو امریکہ میں پیدا ھونے والا سٹیو جابز، لارا اور پال جابز کا لے پالک تھا جس نے کمپیوٹر کی دنیا میں بہت بڑا نام پیدا کیا،
وہ ایپل کمپنی کا شریک بانی، آئی پوڈ، آئی پیڈ اور ایپل فون کا شریک موجد ھونے کے ساتھ ساتھ بہت سی آرگنائزیشنز کا چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی رہا، 5 اکتوبر 2011 کو جب وہ لبلبے کے کینسر کے سبب فوت ہوا تو اس کی عمر صرف چھپن برس تھی اور وہ اربوں ڈالر کا مالک تھا، مگر پھر بھی اس کی زندگی میں خوشیوں کی تعداد بہت کم تھی جس کا اعتراف اس نے خود بستر مرگ پر کیا. ثابت ہوا کہ صرف دولت یا شہرت کا حصول ہی آپ کی سچی اور حقیقی خوشی کا ضامن بالکل بھی نہیں ہے بلکہ یہ تو آپ کے باطن سے پھوٹنے والی وہ لہر ھے جس کا سر چشمہ شاید چھوٹی چھوٹی باتوں میں ھے جنہیں ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں.

جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے ویسے ویسے وہ زیادہ سیانا اور ذہین ہو جاتا ہے اور اسے آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگتا ہے کہ چاہے آپ قیمتی ترین گاڑی میں سفر کریں یا ایک سستی کار میں منزل پر دونوں ہی پہنچائیں گی، آپ کے ہاتھ میں قیمتی گھڑی بندھی ھو یا بہت سستی رسٹ واچ وقت دونوں نے ایک جیسا ہی بتانا ھے اسی طرح انتہائی مہنگا آئی فون ہو یا چائنہ برانڈ سستا موبائل اس سے صرف آپ کی ذاتی انا کی تسکین تو ہو سکتی ہے وگرنہ بات تو دونوں ہی سے کی یا سنی جا سکتی ہے. جہاز کی بزنس کلاس میں سفر کرنے والے مسافر ہوں یا اکانومی کلاس والے خدانخواستہ جہاز کریش ہونے کی صورت میں جان سبھی کی جاتی ہے، ان باتوں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مادی اشیاء کا حصول اور ان سے فیض یاب ہونا زندگی کا ایک رخ ضرور ھے مگر قطعی مقصد ہرگز نہیں. ظاہراً یہ آپ کے لیے کچھ آسانیاں تو لا سکتا ہے مگر قلبی سکون اور سچی خوشی بالکل نہیں.

دراصل ہماری بے سکونی اور اضطراب کی وجہ ہمارا دوسروں کے ساتھ کمپیٹیشن ھے. یہ زندگی ہے اس میں لازماً کوئی نہ کوئی آپ سے آگے ہو گا کسی کے پاس اچھی نوکری ہو گی یا کسی کے پاس آپ سے اچھی گاڑی، کسی کے پاس اچھی بیوی ہو گی تو کسی کے پاس آپ سے ہینڈسم شوہر، اسی طرح فرمانبردار اولاد، اچھا گھر یا اچھا ماحول. آپ کو اللہ نے جیسے قد کاٹھ اور خدوخال کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ خوب ھے آپ خود میں بہت زبردست ہیں بس دوسروں کے ساتھ مقابلہ بازی میں اپنا سکون غارت نہ کریں اور اپنے قریبی رشتوں اپنے گردونواح میں پھیلی قدرتی خوبصورتی کو محسوس کریں تو ساری دنیا آپ کو اچھی لگنے لگے گی اور آپ ہر پل سے لطف اندوز ہو سکیں گے. ہم پاکستانی نفسیاتی طور پر بہت پیچیدہ ذھنیت کے حامل ہیں. جہاں ایک طرف ہم بغض و عناد سے بھرے ہوئے ہیں اور کسی کی کامیابی اور ترقی پہ بے جا حسد کا مظاہرہ کرتے ہیں وہیں دوسری جانب کسی کو تکلیف میں مبتلا دیکھ کر ہمارے اندر کا انسان فوراً بیدار بھی ہو جاتا ہے.

کسی بھی قدرتی آفت میں بطور قوم ہمارا جذبہ دیدنی ھے، اسی طرح صدقہ و خیرات دینے میں بھی ہم ٹاپ کے ممالک میں شمار ہوتے ہیں. یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ ہم سب کے اندر ایک انتہائی رحمدل دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے والا انسان موجود تو ہے بس اسے ڈھونڈنا اور اپنی شخصیت پر طاری کرنا ہی کٹھن مرحلہ ھے اور اگر وہی اندر کا انسان ہمارے بیرون پہ قابض شیطان پر قابو پا لے تو یقین جانیں یہی سچی اور حقیقی خوشی کی معراج ہے. آج دنیا میں اگر ایک طرف بالا دست طاقتیں اسلحے اور بارود کے ڈھیر لگا کر اپنی حاکمیت قائم رکھنے میں تلی بیٹھی ہیں تو دوسری جانب ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو دولت کے ڈھیر اکٹھے کرنے کے بعد سچی اور قلبی خوشیوں کی خاطر اسی دولت کو غربت کے خاتمے، طلباء کی تعلیم، بیماریوں کے خلاف جنگ اور ماحول کی بہتری کے لئے خرچ کر رہے ہیں. لہذا روح کی تازگی اور سچی خوشی کے حصول کے لیے یہ چند اصول ضرور اپنائیے :

یہ کہ اپنے بچوں کو امیر ہونے کی تعلیم مت دیں بلکہ انہیں خوش رہنا سکھائیں تاکہ بڑے ہوں تو انہیں اشیاء کی قیمت سے زیادہ ان کی قدر کا علم ھو.
یہ کہ اپنی خوراک کو دوا سمجھ کر کھائیں وگرنہ کل کو دوا آپ کی خوراک کا حصہ ہو گی.
یہ کہ اگر آپ تیز دوڑنا چاہتے ہیں تو اکیلے بھاگئیے مگر آپ دور تک جانا چاہتے ہیں تو دوسروں کو ساتھ لے کر چلئے
یاد رکھیں جو آپ سے پیار کرتا ہے اس کے پاس آپ کو چھوڑنے کی اگر سو وجوہات ہوں اور ٹھہرنے کی صرف ایک وجہ تو بھی وہ آپ کو نہیں چھوڑے گا سو اپنے اقرباء، اپنے دوستوں اور اپنے ہر رشتے کی قدر کیجئیے اور ان کے ساتھ ہنسیں کھیلیں ان کے ساتھ وقت گزاریں اور محبتیں بانٹیں.
کہ یہی سچی خوشی اور من کی تازگی ھے.
خوش رہیں اور خوش رکھیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں