466

جنرل رانی سے حریم شاہ تک کا سفر اور نعیم الحق کی خدمات ۔۔۔ (آفتاب نزیر) .. منتخب تحریر

تحریر آفتاب نذیر
(منتخب تحریر)

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

میں ایک طوائف سے ملا اور اسکا انٹرویو کیا، رمضان کا مہینہ تھا ، چونکہ محرم اور رمضان میں یہ دھندہ نہیں کرتیں لہذا کافی وقت ملا اور ظہر کی نماز سے لیکر افطار تک میں صرف اسے سنتا رہا، اس نشست میں پہلی بار اس طبقے کو دیکھنے جاننے کا موقع ملا اور جو ہوشربا انکشافات مجھ پر ہوئے انہیں سن کر کئی دن تک خود اپنے مرد ہونے پہ مجھے شرمندگی سی ہوتی رہی۔

سیاستدان ہوں، تاجر ہوں،مذہبی طبقہ یا کسی بھی فیلڈ کے پروفیشنلز جو کہ بظاہر انتہائی ڈیسینٹ، نفیس اور اچھے بچے نظر آتے ہیں انکی رالیں سولہ اور اٹھارہ سال کی بچیوں کو دیکھ کر کتے کی طرح ٹپکتی ہیں اور میں نے ٹپکتی دیکھی بھی ہیں مشرف سے لیکر طاہر اشرفی تک کو انٹرٹین کرنے والے آج بھی میرے اسی فیسبک آئی ڈی پہ ہیں اور یہ مضمون پڑھ کر یقینا مسکرا بھی رہے ہونگے۔

پہلے پہل تو اس دھندے میں صرف خاندانی طوائفیں اور خانگی مائیں ہوا کرتیں کہ جو اپنی بچیوں کو اس کام پہ لگاتیں مگر اب حالات یہ ہیں کہ خاندانی لڑکیاں بھی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئیے یہ پیشہ اختیار کرتی ہیں، کیونکہ ہمارا سماج جس گھر میں تین بیٹیاں ہوں انکے گھر سے پھینکے جانے والے کچرے پر تو نظر رکھتا ہے اور ان کی آمد و رفت کے اوقات تک پہ محلے کے شرفاء اور لونڈے نظر رکھے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن ان کے گھر کبھی پاؤ دودھ یا دو روٹی کس طرح سے آتی یے اور اس کے لئیے کتنی اذیتیں جھیلنی پڑتی ہیں اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔

مانا کہ وہ غلط کرتی ہیں اور بہت ہی غلط ہیں لیکن اس غلط کو غلط بنانے والا بھی یہی سماج ہے کہ بوڑھی ماں کی دوا کے لئیے اگر کوئی بچی آپ کے سامنے آنسو بہائے تو حاجی صاحب کی جیب سے ہزار روپیہ نہیں نکلتا لیکن اگر وہی لڑکی حضرت جی کا پانی بہائے تو باچھیں بھی کھلتی ہیں رالیں بھی ٹپکتی ہیں اور دوبارہ کے وعدے پر ہزار کے بجائے دو ہزار بھی دئیے جاتے ہیں۔

پھر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے وہ مجبور اور بے بس لڑکی ان بڈھے ٹھرکیوں کی نفسیات سے کھیلنا شروع کردیتی ہے اور اپنے کام میں اتنی ماہر ہوجاتی ہے کہ پھر ایک وقت ایسا آتا یے کہ وہ اسی گند اور غلاظت میں لتھڑے سماج پر جوابی وار کر کے ایک ایک اذیت اور محرومی کا سود سمیت حساب لیتی ہے۔

جرنل رانی سے حریم شاہ تک کئی داستانیں بھی کچھ ایسی ہی ہیں اور ہرا یک کی ہیں، قصور ان کا نہیں جو سراپا گالی بن چکیں قصور انہیں گالی بنا کر گالی دینے والے کنجروں کا ہے، کہ جو اپنی بہن یا بیٹی کی بابت تو غیرت کا پیکر ہوتے ہیں لیکن کسی اور کی مجبوری خریدتے وقت ناصرف غیرت مر جاتی ہے بلکہ اندر کا جانور بھی جاگ جاتا ہے۔

عمران خان صاحب یہ حرکتیں کرنے والے نا تو کوئی پہلے حکمران ہیں اور نا ہی آخری، زرداری صاحب کی ایان علی سے لے کر شہباز شریف اور حمزہ کی مشترکہ گرل فرینڈ تک سب کی لسٹ موجود ہے لیکن چونکہ خان صاحب ریاست مدینہ کا نعرہ اور دعوی لیکر اٹھے اور جو کچھ وہ کر ریے ہیں ان حرکات سے ریاست مدینہ تو نا بنی پر دبئی مرینہ کے خدوخال بنتے مجھے واضح طور پر نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

جناب نعیم الحق صاحب کی واحد اور اکلوتی ذمہ داری خان صاحب کے لئیے لڑکیاں ارینج کرنا ہے، تقریبا قریبی لوگ جانتے بھی ہیں کہ اسلام آباد سے کراچی تک کے ہر دلال نے نعیم الحق صاحب کو سپلائی دی ہے، میں آج دعوی کرتا ہوں کہ نعیم الحق سے بڑا “….اور….” اس پوری ریاست پاکستان میں نہیں اور انہیں اپنا یہ مضمون واٹس ایپ بھی کر رہا ہوں اور اگر آپ چاہیں تو انہیں ٹیگ بھی کرسکتے ہیں، میرا چیلنج ہے کہ میں انہیں یہ ثابت کر کے دکھاؤنگا، لیکن اگر وہ سچی مچی اپنے شناختی کارڈ والے والد صاحب ہی کی اولاد ہیں تو مجھے میرے دعوے میں جھوٹا ثابت کریں، آپ کیس کریں ثبوت میں لاؤنگا اور باتصویر لاؤنگا۔

حریم شاہ بیچاری تو اپنی بیوقوفی اور فیم کے چکر میں نظروں میں آگئی وگرنہ کئی حریمیں آئیں تو حرم میں تھیں لیکن دفن جنگلوں میں ہوئیں، اسکے بھی ثبوت موجود ہیں لیکن شائد یہ باتیں خان صاحب کے جانے کے بعد ہی کھلیں گی، باقی میں حلفا کہتا ہوں کہ تحریر کردہ ہر لفظ کی ذمہ داری مجھ پہ ہے اور یہ حقائق کا عشر عشیر بھی نہیں، بطور سماج معاشرہ اور حکمران ہم ہی غلط ہیں، ان لڑکیوں کی ویڈیوز اور تصاویر شئیر کرنے کے بجائے ان پارسا کنجروں کی کریں کہ جو انہیں اس مقام تک لاتے ہیں، کسی نے سچ کہا کہ میرے شہر کے شرفاء کا پوچھنا ہو تو رات کسی کوٹھے پر چلے جاؤ سب کی فہرست اور ڈیٹا مل جائیگا کہ کون کتنے پانی میں ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں