173

ساہیوال: تمام عمر کے بچوں کو بنیادی تعلیم فراہم کی جائے گی اور 2030 تک پڑھے لکھے پنجاب کا ہدف حاصل کیا جائے گا- راجہ راشد حفیظ، صوبائی وزیر لٹریسی.

ساہیوال (خصوصی رپورٹ) صوبائی وزیر لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن راجہ راشد حفیظ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے بنیادی تعلیم کے فروغ اور سکول نہ جانے والے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے لئے لٹریسی پالیسی کی منظوری دیدی ہے. جس کے تحت تمام عمر کے بچوں کو بنیادی تعلیم فراہم کی جائے گی اور 2030 تک پڑھے لکھے پنجاب کا ہدف حاصل کیا جائے گا- وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے وڑن کے مطابق پورے صوبے میں جاری لٹریسی پروگرام پر عمل کیا جا رہا ہے اورہر ضلع میں 3 سو سے زائد سنٹرز کام کر رہے ہیں، جہاں 4 سال سے 16 سال تک کے سکول نہ جانے والے بچوں کو 3 ماہ کا بنیادی تعلیمی کورس کروایا جا رہا ہے- انہوں نے یہ بات سی ای او ایجوکیشن کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی-

سی ای او ایجوکیشن سجاد اسلم اور ڈسٹرکٹ آفیسر لٹریسی شازیہ اقبال بھی ان کے ہمراہ تھیں- انہوں نے کہا کہ ان سنٹرز میں ہر بچے کو لٹریسی کٹس فری فراہم کی جا رہی ہیں تا کہ کم مالی وسائل کی وجہ سے کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے- صوبائی وزیر لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن راجہ راشد حفیظ نے مزید بتایا کہ صوبے کی جیلوں میں قید بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہیں اور تمام جیلوں میں لٹریسی سنٹر کھولے گئے ہیں اس کے علاوہ اینٹوں کے بھٹوں اور دوسری صنعتی تنصیبات میں کام کرنے والے نوجوانوں کو کام کے دوران تعلیم دینے کے لئے بھی سنٹرز کام کر رہے ہیں- انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت لٹریسی کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جس کے لئے 2002 سے جاری اس پراجیکٹ کو باقاعدہ محکمہ کی صورت دی جائے گی اور پروگرام میں بنیادی تبدیلیاں کر کے انہیں مزید موثر بنایا جائے گا- صوبائی وزیر نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پورے صوبے میں 13 ہزار سے زائد لٹریسی سنٹرز میں سوا چار لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں جنہیں بنیادی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے اس سے پہلے صوبائی وزیر نے نواحی چکوک نمبر90/6-R اور 101/6-R میں دو لٹریسی سنٹرز کا دورہ کیا اور سنٹرل جیل میں قیدیوں کے لٹریسی سنٹرز کا افتتاح کیا- انہوں نے ضلع ساہیوال میں لٹریسی سنٹر کی کارکردگی کو سراہا اور ضلعی آفیسر لٹریسی شازیہ اقبال کو ہدایت کی کہ وہ معیار کو بر قرار رکھنے کے لئے مانیٹرنگ کا عمل مزید سخت کریں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں