199

چلو آپ بتادیں ۔۔۔ (سیف لڑکا)

تحریر ۔سیف لُڑکا

کشمیر میں خون کا کھیل کھیلتے ہوئے ستر سال گزر چکے ہیں۔ پتہ نہیں ان ستر سالوں میں کتنی ماوں کی گودیں اجڑ چکی ہیں۔ کتنی سیجیں ویران ہو چکی ہیں۔ کتنے گھر کھنڈر کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ سری نگر جیسی وادیاں پتہ نہیں اور کتنا خون پئیں گی۔ دہلی کی جیلوں کو بے گناہ کشمیریوں سے بھر دیا گیا ہے۔ 80لاکھ سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو گھروں میں اسیر بناکر رکھا گیا ہے۔ جن میں غم سے نڈھال بوڑھی مائیں، بچیاں، بچے، جوان اور بوڑھے سسک رہے ہیں۔ جن پر دو مہینے سے آرٹیکل 370 ختم کر کے کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ اس وقت 80 لاکھ نہتے کشمیریوں کے پاس نہ کھانے پینے کی اشیاء ہیں نہ اودیات وہ زندگی کی روز مرہ اشیاء سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس صورت حال سےاب پوری دنیا واقف ہو چکی ہے۔

اللہ بھلا کرے پرائم منسٹر آف پاکستان عمران خان کا جہنوں نے دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دنیاکے سب سے بڑے فورم پر پیش کیا اور جس بہادری کے ساتھ اس امت مسلمہ کے لیڈر نے جنرل اسمبلی میں اپنا موقف پیش کیا وہ آپ سب کے سامنے ہے۔ اس نے کئی اہم نکات پیش کیے۔ جن کی پوری دنیا نے تعریف کی۔ ایک تو انہوں کہا کہ جناب صدر خواہ مخواہ 9/11 کے بعد اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ ہمارے نبیﷺ کا اسلام انسانیت سکھاتا ہے دہشت گردی نہیں۔ جب ہمارے نبیﷺ کی شان میں کوئی گستاخی کرتا ہے تو ہمارے دل دکھتے ہیں۔ جس طرح یہودیوں سے ہولوکاسٹ برداشت نہیں ہوتا اسی طرح ہم سے بھی ہمارےپیارے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کا ایک لفظ بھی برداشت نہیں ہوتا۔ دوسرا اہم مسئلہ جو مسئلہ کشمیر ہے اس کو اب حل کرنا ہوگا۔ جس میں شاہ محمود قریشی کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ کہ آج 58ممالک ہماری آواز کے ساتھ آواز ملا رہے ہیں۔ تیسرا میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اس کو چاہیئے کہ وہ فلسطین سے جنگ بندی بند کرے۔ اسی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کہا ہے کہ میں کشمیر پر ظلم کرنے والوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا اور جو مشترکہ اجلاس پاکستان میں ہو نے جا رہا ہے۔ سب دوست ممالک شامل ہوں گے سواۓ بھارت کے۔

تو بات چل رہی تھی کہ سابقہ حکمرانوں نے اقوام متحده میں چکر تو بڑے لگائے بڑے خرچے کیے، صرف پرچیوں پر تحریر کندہ تقریریں کرتے رہے، جن کا کوئی عنوان نہیں تھا سوائے ڈالر کمانے کا۔ چلو اب کسی نے کشمیریوں پر ہونے والے ظلم پر آواز اٹھائی ہی ہے تو اس پر بھی تنقید کی جارہی ہے۔ مجھے بلاول بھٹو زرداری صاحب کی پریس کانفرنس سن کر افسوس ہو رہا ہے۔ بلاول بھائی کہہ رہے تھے کہ جس طرح مقدمہ کشمیر لڑنا تھا سلیکٹیڈ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اُس طرح نہیں لڑا۔ او بھائی آپ کے بابا نے بھی تو 2012ء میں جنرل اسمبلی میں خطاب کیا تھا ایک بڑی پرچی سے دیکھ کر یاد ہے۔ ایک لفظ مفادی نہیں تھا اور تو اور راؤ انوار جیسوں کو آپ اپنا بچہ کہتے ہو۔ بے گناہ لوگوں کو قتل کروایا۔ کیا خدا کے سامنے پیش نہیں ہونا آپ لوگوں نے۔ ابھی چند دن ہی گزرے جب صدرپاکستان جناب محترم عارف علوی صاحب نکتہ کشمیر پر اسمبلی میں قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ آپ اور باقی اپوزیشن پارٹیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر دوران تقریر احتجاج کرنا شروع کردیا۔ اسمبلی کو مچھلی بازار بنا دیا۔ ٹھیک ہے احتجاج آپ کا حق ہے، مگر صدرپاکستان کی تقریر سن لیتے۔ اگر احتجاج ریکارڈ کروانا تھا تو تقریر کے بعد کروا لیتے۔ آپ کو صرف اس حکومت کو گھر بھیجنے کا اور کرسی کا شوق ہے۔ خدا کا خوف کرو ملک کس صورت حال سے گزر رہا ہے۔ آپ احتساب سے بھی ڈرتے ہیں۔ کرسی پر بھی بیٹھنا چاہتے ہے۔ کسی غریب کی کوئی پرواہ نہیں۔ آپ کو کیا پتہ کس کے پاس دو ٹائم کی ہے کس کے پاس نہیں اور جو آپ پریس کانفرنس میں کہہ رہے تھے اور کچھ آپ کی طرح اور لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ عمران خاں نے مقدمہ کشمیر صحیح نہیں لڑا، تو بلاول صاحب آپ بتا دیں کس طرح لڑنا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں