231

ایمونیا گیس کی فضا میں خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی مقدار ۔۔۔۔ (تنویر ساحر)

تحریر: تنویر ساحر

پاک پتن میں ایمونیا گیس کی فضا میں خطرناک حد تک بڑھتی ہوٸی مقدار نے کاربن ڈاٸی آکساٸیڈ کو تیزی سے ختم کرنا شروع کردیا ہے جس کے نتیجہ میں ہوا میں نمی کا تناسب انتہاٸی کم ہونے سے شدید حبس اور گرمی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی. اگر یہ صورتحال مذید اسی طرح سے برقرار رہی تو مختلف وباٸی امراض پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے۔

پاک پتن کے نکاسی آب کا ڈرین سسٹم پندرہ سال قبل ناقص پلاننگ کے ساتھ تعمیر کیا گیا جو کہ اب شہری زندگی کے لیے عذاب بن چکا ہے. ایمونیا گیس کے پیدا ہونے کا باعث عموما سیوریج سسٹم ہی ہوتا ہے اور سیوریج پلان کرتے وقت ہی مختلف مقامات پر گیس کے اخراج کی چمنییاں تعمیر کی جاتی ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چمنی کی تعمیر ختم ہو کر رہ گٸی ہے اور یہ بظاہر چھوٹی سی غلطی شہری انسانی زندگییوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب بجلی جاتے ہی شدید گرمی اور حبس انسانی جسم کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتی ہے، کیونکہ بجلی جاتے ہی سیوریج میں پانی کی روانی بند ہوکر ایمونیا گیس بننے کی مقدار میں سوگنا اضافہ ہو جاتا ہے اور چونکہ سیورٸج کے ڈیزاین میں کہیں بھی گیس کے اخراج کی چمنی نہیں تو گیس گھروں گلییوں بازاروں میں موجود سیوریج سوراخوں کے سے تیزی سے نکلتی ہوٸی فضا میں موجود کاربن ڈاٸی آکساٸید کو نگل جاتی ہے، جس سے انسانی سانس کا تسلسل نہ صرف غیر متوازن ہوتا ہے بلکہ سانس اور گلے کی بیماریاں پھیل جاتی ہیں اور شدید گرمی حبس سے انسانی جسم بلبلا اٹھتا ہے کیونکہ جسم کا اندرونی اور بیرونی ٹمپریچر جان لیوا حد تک بگڑ جاتا ہے۔

اس کا فوری اور واحد حل یہی ہے کہ سیورج کے تمام ڈسپوزل کنووں میں گیس کے اخراج کے لیے الگ سے پایپ ڈالے جاہیں تاکہ شہر کے اندر ایمونیا گیس پھیلنی بند ہو اور ہوا میں نمی اور رطوبت برقرار رہے، تاکہ انسانی جسم اور زندگی گرمی اور حبس کی تکلیف دہ اذیت سے محفوظ رہ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں