216

عمران خان کا خطاب اور خطرات ۔۔۔۔ (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

بچپن سے یہ بات گھول کر ہمارے ذہنوں میں سمادی گئی ہے کہ جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے۔ اگر بڑے زاویے سے اس کا مفہوم سمجھا جائے تو دنیا کے طاقتور حکمرانوں کے سامنے حق سچ کی آواز بلند کرنا بھی جہاد ہے۔ مگر اب یہ اچانک کیا ہوا؟ ہمیں جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کا درس دینے والوں نے ایک سو اسی کے زاویہ پر پلٹا کیوں کھایا ؟ اب کیوں ہلکان ہو رہے ہیں ؟ اب ان کے نزدیک کلمہ حق کا مفہوم یا تعریف بدل گئی ہے؟ کیا اب امریکہ، اسرائیل، بھارت اور یورپ جابر اور ظالم نہیں رہے؟ اگر جابر، ظالم اور ایسے نام نہاد ممالک کے سامنے حق سچ کی آواز بلند کرنا کلمہ حق ہے تو پھر عمران خان نے تو واقعی کلمہ حق بلند کیا۔ خان صاحب کی تو تعریف و توصیف ہونی چاہیے، مگر اب کہیں سے مروڑ کیوں اٹھ رہے ہیں؟

ایسے لوگ بھی عمران خان پر تنقید کر رہے ہیں جو اپنے علاقے کے سردار، چودھری کے سامنے لیٹ جاتے ہیں، تعریف و توصیف کے انبار لگا دیتے ہیں، خودی اور خود داری کو سردار کے قدموں میں نچھاور کر دیتے ہیں۔ خان صاحب نے تو ببانگ دہل کسی بھی نتیجے کی پرواہ کیے بغیر عالمی طاقتوں کے لتے لیے ہیں اور ان کو دن میں تارے دکھا دیے۔ مگرہم بھی کیا عجب قوم ہیں۔ یہ کہاوت ہمارے مزاج پر خوب صادق آتی ہے۔

ایک شخص اپنی بیوی کو گدھے پر بٹھا کر خود ساتھ پیدل چل رہا تھا۔ کسی نے دیکھا تو طنزیہ انداز میں بولا، کتنا پاگل اور رن مرید شخص ہے، بیوی کو گدھے پر بٹھا دیا جبکہ خود پیدل چل رہا ہے۔ وہ شخص بھی بیوی کے ساتھ گدھے پر بیٹھ گیا۔ پھر کسی اور شخص نے دیکھا اور بولا، یہ میاں بیوی کتنے احمق اور سفاک ہیں کہ گدھے بیچارے پر دونوں سوار ہوگئے اور اس پر ظلم کر رہے ہیں۔ اس کے بعد اس شخص نے بیوی کو اتار دیا اور خود گدھے پر بیٹھا رہا۔ کچھ آگے چل کر ایک اور شخص نے یہ حالت دیکھی تو کہا کہ یہ کیسا بیوقوف شخص ہے جو بیوی کو پیدل چلا رہا اور خود گدھے پر بیٹھا ہے۔ اس کے بعد وہ شخص بھی گدھے سے نیچے اتر آیا اور دونوں میاں بیوی پیدل چلنے لگے۔ کچھ دور گئے تو ایک اور شخص کی ان پر نظر پڑی اور وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوا دیکھو یار کیسے جاہل لوگ ہیں گدھا بھی پاس ہے پھر بھی دونوں پیدل چل رہے ہیں۔

ہمارا بھی یہی حال ہے۔ ایک طرف ہم خوددار، بہادر، اسلام اوراسلامی اصولوں پر چلنے والا حکمران چاہتے ہیں۔ ایسا حکمران چاہتے ہیں جو کسی کے سامنے نہ جھکے اور نہ قوم کو جھکنے دے۔ مدتوں بعد ہمیں ایسا وزیر اعظم مل گیا ہے جو دنیا بھر میں پاکستان اور اسلام کا سر فخر سے بلند کر رہا ہے۔ وہ امریکہ میں کھڑا ہو کر مغربی طاقتوں کو للکارتا اور ان کے دہرے معیار کا عکس انہیں دکھاتا ہے۔ وہ مودی اور بھارت کے مکروہ عزائم کو آشکار کرتا ہے اور مظلوم کشمیری قوم پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کو دنیا بھر کے سامنے عیاں کرتا ہے۔ وہ اسلام اورحضور نبی پاک کی ذات اقدس کے روشن پہلو عیاں کرتا ہے۔ وہ اسلام کا مقدمہ اس خوبصورتی سے لڑتا ہے کہ آج تک کوئی اسلامی مبلغ اس بھرپور تاثر کیساتھ اسلام کا مقدمہ پیش نہیں کرسکا۔ ایسا وزیر اعظم ہمارے لیے، مسلم امہ کیلئے قابل فخر ہے۔

کچھ لوگ اس بات پر مصر ہیں کہ تقریر سے کیا ہوتا ہے؟ ایسے دوستوں کیلئے عرض ہے کہ verbal communication سب سے زیادہ موثر، دیرپا اور نتائج کی حامل ہوتی ہے۔ اسی کمیونیکیشن یعنی تقریر کے ذریعے اسلام پھیلا۔ اسی تقریر کے ذریعے مولانا طارق جمیل، طالب جوہری، طاہر القادری، مولانا فضل الرحمان سامعین کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں اور پھر وہ لوگ ساری زندگی کیلئے انکے مرید بن جاتے ہیں۔ تقریر کے ذریعے ہی ڈاکٹر ذاکر نائیک ہزاروں لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کر رہے ہیں۔ اسی تقریر کے ذریعے قائد اعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور ایک الگ وطن کا حصول ممکن بنایا۔ تقریر ہی ممکنہ حل کی طرف رہنمائی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ تقریر میں وہ خیالات، جذبات اور احساسات ہوتے ہیں جو حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔

ہمیں جو صرف تقریریں لگتی ہیں درحقیقت یہ نظام کی خامیوں کی نشاندہی اور معاشرے کی تعمیرو ترقی کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں دوران تعلیم اس وقت کے ڈائریکٹر آئی سی ایس ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے ہمراہ ایک سیمینار میں شرکت کیلئے پنج ستارہ نجی ہوٹل میں پہنچے۔ کچھ گھنٹوں پر محیط تقریریں سننے کے بعد ہم واپس لوٹے تو میں نے راستے میں ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ سر ان مقررین کی تقریروں سے کیا ہوگا؟ یہ وقت کا ضیاع نہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے نہایت پر مغز بات کی کہ بیٹا یہ صرف تقریریں نہیں معاشرے کو آگے بڑھانے کیلئے مواد فراہم کر رہی ہیں۔

اس لیے وزیر اعظم عمران خان نے صرف تقریر نہیں کی بلکہ دنیا کا مستقبل کا نقشہ پیش کیا۔ وہ اسلام کے ایک مجاہد، ایک عالمی مدبر اورجری رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ جب اکثر مسلمان ممالک مغربی طاقتوں کے سامنے بھیگی بلی بنے رہے ہیں اور انکے تلوے چاٹتے ہیں۔ اس ڈر سے بعض لوگوں کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں کہ کہیں مغربی طاقتوں کیخلاف بولنے سے شاید ان ممالک کا ویزہ نہ لگے، وہاں خان صاحب ان ممالک میں کھڑے ہوکر ان کو آئینہ دکھاتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ نام نہاد ممالک ان کو آئینے دکھانے والوں کو کبھی فراموش نہیں کرتے۔ تاریخ ایسی داستانوں سے بھری پڑی ہے، جس میں ان طاقتوں نے ان کے خلاف اٹھنے والی اور اسلامی اتحاد کی بات کرنے والی ہر زبان کو خاموش کرادیا۔ عمران خان ان طاقتوں کیلئے ڈراونا خواب بن چکے ہیں جس کو راستے سے ہٹانے کیلئے یہ طاقتیں کوئی بھی کھیل کھیل سکتی ہیں۔ مستقبل میں عمران خان کے خلاف مذہبی کارڈ کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان عمران دشمنی میں تمام ضابطے اور اخلاقیات کو پس پشت ڈال چکے ہیں، مغربی طاقتیں مولانا کے پیچھے بھی کھڑی ہو سکتی ہیں۔ ان طاقتوں کو مولانا جیسی شدت پسند قوتوں کی ضرورت ہے۔

کچھ لوگ ملکی معیشت کو ہر بات میں لے آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی معیشت ایک سال میں خراب نہیں ہوتی. سابقہ حکومتوں کی نااہلی اور بد نیتی کا بوجھ موجودہ حکومت اٹھا رہی ہے اور انشاءاللہ یہی حکومت ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ بس چند سال کا انتظار، یہی ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوگا۔ اس ملک کو صر ف ایماندار اور قابل قیات کی ضرورت تھی جو خوش قسمتی سے آج ہمیں حاصل ہے۔ بہر حال خان صاحب نے اسلام اور پاکستان کاسر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ اب قوم کی ذمہ داری ہے کہ خان صاحب کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنا دیں اور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں، بھارت اور دنیا کو باور کرادیں کہ پاکستانی قوم ہر ظالم و جابر قوت کیخلاف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں