268

تعلیمی مسائل اور رکاوٹیں …. (ڈاکٹرفیاض احمد)

تحریر: ڈاکٹرفیاض احمد

کسی بھی ملک کی معیشت کا انحصار معیار تعلیم پر ہوتا ہے ملک میں جتنے زیادہ پڑھے لکھے افراد ہوں گے اتنی ہی اس ملک کی معیشت مضبوط ہو گی اور ملک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو گا. لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی معیار بہت پسماندہ ہے کیونکہ اس میں بہت سی غیر قانونی طاقتیں شامل ہیں، جو اس کی ترقی کی راہ میں پچیدگیاں پیدا کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ہم پستی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں، حالانکہ دنیا کے عظیم لوگ بھی براعظم ایشیاء سے تعلق رکھتے تھے.

اپنے کردار پہ ڈال کہ پردہ اقبال
ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے

سب سے پہلے ہمارے سرکاری تعلیمی سسٹم میں تدریس کا طریقہ کار خراب ہے جس کی بدولت ہم غیر سرکاری اداروں کو ترجیح دیتے ہیں، تدریس کے ساتھ ساتھ سرکاری تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں جس کی وجہ سے تعلیم کا معیار طلبہ کی استطاعت کے موافق نہیں ہے، بلند پایہء لوگ غیر سرکاری اداروں سے روابط قائم کرلیتے ہیں اور نچلے طبقے کے لوگ اس حق سے محروم ہو جاتے ہیں اس زمرے میں تعلیمی اداروں کے علاوہ معاشرے کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پہلے دور کے بچوں میں استاد کا احترام ہوتا تھا لیکن اس کے برعکس آج کے بچے جدید ہو گئے ہیں ان پر معاشرتی اثرات بھی اثر پذیر ہوتے ہیں.

آجکل کے استاد میں وہ صلاحیت بھی نہیں جو پہلے ہوتی تھی، قدیم معلم تدریس کا پیکر ہوتا تھا اس میں فرض شناسی موجود تھی اس کے بر عکس جدید معلم میں گھریلو اخراجات پورے کرنے کی ترجیحات موجود ہیں، اس لیے وہ سکولوں میں پڑھانے کے بجائے اکیڈمی کو ترجیح دیتے ہیں. اسی طرح اعلیٰ سطح پر تعلیمی اداروں کی کمی کا اندیشہ بھی قابل ذکر ہے، آج کل بچوں پر نصاب کا اتنا بوجھ ڈالا جاتا ہے کہ وہ گھبرا کر تعلیم سے تعلق ترک کر لیتے ہیں، موجودہ دور میں غیر نصابی سر گرمیاں بھی نہیں جس کی بدولت بچے ذہنی تناؤ کا شکار ہو رہے ہیں، تعلیمی اداروں کی عدم دلچسپی بھی اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ ہمارے اندر ایک معلم کی خصوصیات موجود نہیں ہیں، بلکہ ایک تجارت پیشہ انسان کی خصوصیات ہیں، کیونکہ نہ تو وسیع ذخائر کتب ہیں اور نہ ہی آلات سائنسی موجود ہیں جس کی بناء پر ہم کچھ حاصل کر سکیں بلکہ پسماندگی ہی پسماندگی ہے.

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

تعلیمی مسائل تو ایک طرف ہمیں تو رکاوٹوں نے ہی مار ڈالا ہے ہمارے معاشرے میں ہر میدان زندگی میں سیاست تو سب سے پہلے آتی ہے، بچوں کی تدریس تو غیر سرکاری اداروں میں اور میڈیکل، انجیئنرنگ کے لئے سرکاری اداروں کا رخ ہوتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے بچوں کی حق تلفی ہوتی ہے سیاسی کوٹے پر اور سرکاری وظیفوں پر اعلیٰ تعلیم تو برسراقتدار لوگوں کو میسر آجاتی ہے مارے تو بے چارے عام لوگ جاتے ہیں .

تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے ہمیں سیاست سے پاک کرنا چاہیے اور میرٹ پر سب کے داخلے اور وظیفے ہوں کسی قسم کی سفارش سے اجتناب کیا جائے، معاشرے کے سب افراد کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جائے جس طرح دین اسلام کی نظر میں سب برابر ہیں اسی طرح تعلیمی میدان میں بھی برابری کا عمل ہو، سرکاری اداروں میں تعلیمی سہولیات کا خاص خیال رکھا جائے، جس کے حصول کے لئے مختلف ٹیموں کو تشکیل دیا جائے جو ماہنامہ رپورٹ چیک کریں اور تعلیمی اداروں کی ضرورت کے مطابق ان کو سہولیات فراہم کریں اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لیں.

اگر ہم اپنے ملک اور قوم کو ترقی کی راہ پر دیکھنا چاہتے ہیں تو صرف سرکاری ادارے ہی نہیں بلکہ معاشرے کے عام افراد بھی اپنی ذمہ داریوں کو بااحسن طریقے سے ادا کریں، جب ہر فرد اپنی ذمہ داری ادا کرے گا تب معاشرہ ترقی کرے گا اور معاشرے کی ترقی ملک و قوم کی ترقی ہے.

پہلے زمانے میں لوگوں کے پاس اتنی سہولیات نہیں تھیں لیکن اس کے باوجود وہ لوگ تعلیمی معیار میں آج کی نسبت سبقت لئے ہوئے تھے، حالانکہ زمانہ قدیم کی اور آج کی سہولیات میں موازانہ کریں تو ہمیں آج کے دور میں زیادہ سہولیات نظر آتی ہیں، مگر اس کے برعکس آج وہ معیار تعلیم نہیں ہے، آج کے معلم اور تدریسی ادارے کا سٹاف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے لیکن اس کے برعکس معاشرہ پسماندگی کا شکار ہے، آخر کیوں؟ ۔۔۔۔ کیونکہ ….. آجکل تعلیم عام ہے لیکن علم اور تربیت کی بہت زیادہ کمی ہے …..

تعلیم ایک چراغ ہے جس کی روشنی علم وتربیت سے حاصل ہوتی ہے جب تک اس چراغ کو جلایا نہ جائے روشنی حاصل نہیں ہوتی. اس لئے تعلیم حاصل کرنے کا مقصد اصل میں روشنی کی شمع جلانا ہے اور جب تک شمع نہیں جلے گی تب تک معاشرے سے اندھیرے ختم نہیں ہوں گے، اس لئے علم کی شمع کو روشن کریں نہ کہ ۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں