314

غزل: تجھ سے عشق بھی تو جیسے مسئلہِ کشمیر کی مانند ہے … (شگفتہ یاسمین، چیچہ وطنی)

شاعرہ: شگفتہ یاسمین، چیچہ وطنی.

تجھ سے عشق بھی تو جیسے مسئلہِ کشمیر کی مانند ہے
جو کی جاتی ہیں اسمبلی میں یہ اُن تدابیر کی مانند ہے

نہ ہو فیصلہ کوئی اور نہ ہی تم بنو میرے عمربھر
تیری چاہت بھی کوئی جیسے کسی جاگیر کی مانند ہے

رہے ساری عمر ہی کوئی راہِ ہجر میں جیسے مسافر
نہ ہو منزل جس کی راہ کی تو اُس راہگیر کی مانند ہے

کٹ رہی ہیں گردنیں جہاں ارمانوں کے خوابوں کی
فیصلہ نا حق جو تیرا ہے، بزور شمشیر کی مانند ہے

وادیِ کشمیر تو جنت ہے، جس پہ قابض ہیں اغیار
جنت تیرا پیار ہے، تیرے احباب، اغیارِ نظیر کی مانند ہے

خدا کرے ہو سلامتی کونسل جیسا کوئی اجلاس
قفل ٹوٹے تیرے لب کاجو اظہارکی زنجیر کی مانند ہے

نہ جانے کب ہو اس کربِ کرفیو سے آزادی نصیب
جس کے لکھے کا نہ پتہ ہو، تو ایسی تقدیر کی مانند ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں