233

کرتار پور راہداری کا قابل تشویش پہلو ۔۔۔۔ (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

وسیم نارووال کا رہائشی ہے۔ کرتارپورگوردوارہ اسکا اکثر چکر لگتا رہتا ہے۔ اب کے بار تین ماہ بعد وہ کرتارپور پہنچا تھا مگر اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی تھی۔ سب کچھ تین ماہ میں بدل چکا تھا۔ کرتارپور صدیوں کا سفر تین ماہ میں طے کر چکا ہے۔ صرف وسیم ہی نہیں جن لوگوں نے بھی کرتارپور کو دیکھ رکھا ہے وہ بھی اس نئی ہیئت پر دنگ رہ جائیں گے۔ زندگی کے کئی رنگ ہیں اور میرے نزدیک زندگی کے حسین ترین پل وہ ہیں جو اپنے ہم جماعتوں کیساتھ گزارے جائیں، راقم کے گجرات یونیورسٹی میں ایم فل کے دو سال ایسی یادیں ہیں جس کی تازگی، دلکشی اور ایک ایک پل من میں ایسا سمایا ہے کہ اسکی معطر خوشبو ہر وقت مسحور رکھتی ہے۔ ایم فل کی کلاسز کا آغاز ہوچکا تھا۔ ہفتہ وار کلاسز میں میری علیک سلیک وسیم جٹ سے ہوئی۔ منفرد اور انتہائی پرجوش، اس نوجوان کی بدولت آہستہ آہستہ یونیورسٹی میں دل لگنے لگا۔ پھر ڈاکٹرعدنان، نوید گوندل، شاہد بھٹی، نجم الحسن اور کچھ دوسرے دوستوں کے ساتھ گزرے یادگار لمحات نے وقت کو ایسے پر لگائے کہ دو سال گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔

ایم فل کے بعد سب اپنی اپنی مصروف دنیا میں مست ہوگئے۔ اب کے بار کافی عرصہ سے وسیم جٹ سے ملنے اور پرانے لمحات کو دہرانے کا من کر رہا تھا۔ نوید گوندل سے بات کی تواسکے بھی ایسے ہی جذبات تھے۔ تلونڈی نارووال میں وسیم جٹ کو ملنے کیساتھ، کرتارپور راہداری کی تازہ ترین صورتحال سے جانکاری کا پلان بنایا۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر ہم رات کو لاہور سے نارووال کیلئے روانہ ہوئے۔ میری اکثر کوشش ہوتی ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کروں۔ اس سفر کے دوران عام عوام کے مسائل اور پریشانیوں سے آگاہی ہوتی ہے۔ عوام کس کرب سے گز ررہے ہیں، اسکا عام مسافر وینوں سے سفر کیے بغیر اندازا لگانا بہت مشکل ہے۔ مگر افسوس یہاں کے پالیسی ساز ایک ایسی شاہانہ زندگی گزارتے ہیں جس کا عام آدمی سے موازنہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بس کو اندر اور چھت پرسواریوں سے لاد دیا گیا۔ جیسے تیسے ہم رات کے کسی پہر تلونڈی پہنچے۔ اگلے دن کرتارپور کیلئے روانہ ہوئے۔

نارووال سے کرتاپور کی طرف جاتے ہوئے مرکزی شاہراہ سے ہم دائیں طرف مڑے جہاں سڑک کی تعمیر کا کام جاری تھا۔ گوردوارہ دربار صاحب کرتارپورکے گورو گوبند سنگھ جی سے پون سنگھ جی کے ریفرنس سے بات کی، اب چونکہ مغرب کا وقت ہو رہا تھا اور یہ سکھوں کی عبادت کا وقت ہوتا ہے، اس لیے گیانی گوبند سنگھ نے جگا سنگھ کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ہمیں خوش آمدید کہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ راستے میں کئی جگہ پر سکیورٹی چیکنگ ہے اس لیے کہیں مسئلہ درپیش ہوتو رابطہ کیا جائے راستے میں گوردوارہ دربار صاحب کرتارپورتک پہنچنے کیلئے سکیورٹی مقاصد کیلئے کئی چیک پوسٹیں تو بنائی گئی ہیں مگر کسی بھی پوائنٹ پرسکیورٹی چیکنگ نہیں کی جا رہی تھی چنانچہ ہم باآسانی گوردوارہ تک پہنچ گئے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کرتارپور راہداری نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان بلکہ دنیا بھر کیلئے فلیش پوائنٹ ہے جبکہ بھارت اس راہداری سے خوفزدہ ہے اور وہ اس منصوبے سے پیچھے ہٹنے کیلئے کوئی بھی چال چل سکتا ہے۔ اس لیے سکیورٹی اداروں کو گوردوارہ اور راہداری کے قرب وجوار میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کرنے چاہئیں۔ گوردوارہ کے آس پاس راہداری پر انتہائی برق رفتاری سے کام جاری ہے۔ سینکڑوں مزدور اور بھاری مشینری کے ذریعے دن رات کام کو بروقت مکمل کرنے کیلئے سرگرم ہیں، راہداری کیلئے گوردوارہ صاحب کے پاس سے ہی ایک سڑک بنائی گئی ہے جو بھارت کے بارڈر تک پہنچ چکی ہے اور اب اسکی تزئین وآرائش کاکام جاری ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس علاقہ کا تین ماہ کے اندر نقشہ ہی بدل گیا ہے۔ سکھ برادری بھی اس بات کی معترف ہے کہ کرتارپور راہداری کا کام جس قدر تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے، ایسا پاکستان کی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملاہے۔ کرتارپور راہداری کی سڑک بارڈر تک تقریباً مکمل ہوگئی ہے، گوردوارہ میں وسیع مہمان خانے، لنگر خانے اور گوردوارہ کے چاروں طرف حد درجہ وسیع ہال بنایا گیا ہے اور یہ سب کام تکمیل کے آخری مراحل (فنشنگ) میں ہیں۔

جب ہم گوردوارہ دربار صاحب کرتاپورکی مرکزی عمارت میں داخل ہوئے تو گورو گیانی گوبند سنگھ اپنی عبادت میں مصروف تھے۔ جگا سنگھ ہمیں اس عمارت میں موجود سکھوں کے مقدس مقامات دکھانے لگے۔ تین منزلہ عمارت کے دوسرے فلور پر مرکزی عبادت گاہ ہے۔ ساتھ میں وہ جگہ ہے جہاں سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب کو رکھاجاتا ہے۔ سکھ اپنی کتاب کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ لکڑی کے ذریعے ہی کتاب کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتاہے اور کسی بھی قسم کے حشرات سے بچانے کیلئے ایک شخص مور پنکھ سے ہوا دیتا رہتا ہے۔ گیانی گوبند سنگھ نے بتایا کہ جب بابا گرونانک کی وفات ہوئی تو مسلمان اور ہندووں میں جھگڑا ہوگیا، دونوں اپنے طریقوں سے آخری رسومات سر انجام دینا چاہتے تھے۔ جب بابا کے جسم سے کپڑاہٹایا گیا تو وہاں صرف پھول تھے۔ اسکے بعد مسلمان اور ہندووں نے بابا گرونانک کی باقیات کی اپنے طریقوں سے رسومات ادا کیں مسلمانوں کی طرف سے دفن کی گئی باقیات مرکزی عمارت کے باہر اور ہندووں کی طرف سے دفن کی گئی باقیات عمارت کے اندر گراونڈ فلور پر دفن کی گئی ہیں۔ گوردوارہ کی توسیع کیلئے حکومت نے ایک ہزارایکڑ زمین حاصل کی جس میں سے تقریباً ایک سو چار ایکڑ رقبہ پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ گوردوارہ کے آس پاس عمارات کی تکمیل کا کام مکمل ہوگیا ہے اور اب انکی فنشنگ اور ہال میں ٹف ٹائل کا کام جاری ہے۔ اب دو دن سے گوردوارہ کی مرکزی عمارت کی تزئین و آرائش کا کام شروع ہورہاہے۔ اس سلسلے میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے کہ گوردوارہ کی تاریخی حالت اور حیثیت جوں کی توں رہے۔

بھارت سے روزانہ 5ہزار یاتریوں کی گوردوارہ بابا گرونانک صاحب آمد کی تجویز ہے۔ پاکستان کو جہاں کئی دیگر حوالوں سے کرتارپور راہداری سے فوائد حاصل ہونگے وہاں یہ راہداری پاکستان کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ بیس ڈالر فی شخص ٹکٹ سے پاکستان کوقابل رشک ریونیو حاصل ہوگا۔ گوبند سنگھ جی نے بتایا کہ قوی امکان ہے کہ نومبر تک کرتارپور راہداری کا آغازہوجائے گا۔ گوردوارہ کے چاروں طرف وسیع ہال میں داخلے کیلئے دو راستے بنائے گئے ہیں، جن میں سے ایک راستہ پاکستانی اور دوسرا راستہ بھارتی سکھ برادری کیلئے بنایا گیا ہے۔ ہال میں پاکستانی اور بھارتی سکھ برادری مل جل سکیں گے۔ مہمان خانے بھارت اور دنیا بھر سے ویزہ حاصل کرکے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، کرتاپور راہداری کے آس پاس سکیورٹی پلان کیلئے اقدامات ابھی تک دیکھنے کو نہیں ملے۔ ایک طبقہ سکھوں کو اس قدر دی جانے والی چھوٹ کو ملک کیلئے ناقابل تلافی نقصان تصور کرتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ سکھ کل کو یہ مطالبہ کرتے نظر آئیں گے کہ کرتارپور اور ننکانہ صاحب کے علاقے ان کے حوالے کیے جائیں، اس کیلئے وہ ٹھوس دلائل بھی دیں گے۔ امید ہے کہ پالیسی ساز ان تمام پہلوووں پر غور کرکے ہی فیصلہ سازی کریں گے۔ بظاہر کرتارپور راہداری سکھ برادری کیساتھ ساتھ پاکستان کیلئے بھی اہم ہے جس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں