267

پولیس کا ہے فرض خدمت عوام کی

تحریر: رانا غلام حیدر

گزشتہ چند دنوں سے پنجاب پولیس کے خلاف سوشل میڈیا پر محاذ کھڑا کیا ہوا ہے، ایک نام نہاد ٹولہ پنجاب پولیس کو بدنام کرنے پہ تلہ ہوا ہے، پنجاب پولیس کے کچھ اہلکاروں کی تشدد کرتے وڈیو وائرل ہوئی جس پر آئی پنجاب عارف نواز نے ان ملازمین کے خلاف بھرپور ایکشن لیتے ہوئے سخت کاروائی کی اور آئندہ کے لیے احکامات جاری کیے کہ جس ضلع میں ایسا واقع رونما ہوگا اسکا ذمہ دار ڈی پی او اور ڈی ایس پی ہوگا، اسکے علاوہ متعقلہ ایس ایچ او کو بلیک لسٹ بھی کر دیا جائے گا اور اس کو کسی بھی تھانے میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔

ضلع ساہیوال میں اگر پولیس ریفارمز کا ذکر کیا جائے تو کافی حد تک اس پر عمل ہو رہا ہے، جس محنت اور لگن سے ڈی پی او ساہیوال محمد علی ضیاء کام کر رہے ہیں وہ دن دور نہیں جب ساہیوال پولیس کا نام پنجاب کی ماڈل پولیس کے طور پر جانا جائے گا، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ضلع ساہیوال میں کرائم کی شرح دوسرے اضلاع سے بہت کم ہے، مختلف مذہبی تہواروں پر ڈسٹرکٹ پولیس کا ہمیشہ کلیدی کردار رہا ہے، علماء کرام اور تمام مسالک کے لوگوں سے مل کر عوامی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کیے جاتے ہیں، تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو. موجودہ آر پی او ساہیوال ڈویثرن ہمایوں بشیر تارڑ اور ڈی پی او ساہیوال کیپٹن محمد علی ضیاء نے آئی جی پنجاب عارف نواز سندھیلہ کے احکامات پر ڈسٹرکٹ پولیس ساہیوال میں انقلابی اصلاحات کیں ہیں. سٹی سرکل اور صدر سرکل کے تمام تھانوں کی تزین آرائش، گرین اینڈ کلین مہم کے تحت سر سبز پودے لگا کر تھانوں کی خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا. تھانہ جات عوام کو باعزت اور آرام دہ ماحول فراہم کرنے کے لیے بہترین ویٹنگ رومز کا قیام، پولیس لائن ساہیوال میں ملازمین کے علاج کے لیے ڈسپنسری کا قیام، اس کے علاوہ ڈی پی او ساہیوال محمد علی ضیاء نے پولیس ملازمین اور عوام کے لیے انقلابی اقدامات کیے. ڈسٹرکٹ پولیس ساہیوال کے یہ اقدامات قابل تحسین ہیں لیکن؟ ابھی بھی بہت سے خامیاں موجود ہیں جن کا تدارک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے عوام کا اعتماد پولیس پر پختہ ہوجائے گا.

ڈی پی او ساہیوال کو عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ پولیس کے رویے میں مزید لچک اور کرپشن پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے، جب تک تھانے سے ٹاؤٹ مافیا کا داخلہ بند نہیں ہوگا عوام کو انصاف ملنا نا ممکن ہے، ڈی پی او ساہیوال محمد ضیاء کے انقلابی اقدامات سے ساہیوال پولیس کے رویے میں کافی حد تک تبدیلی آ چکی ہے عوام کے لیے تھانوں کا ماحول کافی بہتر کر دیا ہے جس سے آنے والے سائلین مطمئن نظر آتے ہیں. گرشتہ کئی دہائیوں سے تھانہ کلچر میں جو بگاڑ تھا اس کی اصل وجہ بے جا سیاسی مداخلت تھی ایم این ایز اور ایم پی ایز سیاسی رنجشین نکالنے کے لیے لوگوں پر جھوٹے پرچے کرواتے تھے اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتے تھے موجودہ حکومت نے ان معاملات کو کافی حد تک کنٹرول کیا ہے پولیس ہماری محافظ ہے اور ہم ان سے امید رکھتے ہیں کہ یہ اپنے رویہ کو مزید اچھا کر کے عوام کے دلوں میں اپنا گھر بنائیں گے اور جو عوام ڈر اور خوف کے مارے تھانا جات میں آنے سے ڈرتی تھی اور انصاف کے حصول کے لیے بلا خوف خطر اپنی شکایات تھانے میں درج کروائیں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں