248

ثالث فریق بن گیا!!!!! …. (سوشل میڈیا سے انتخاب)

(سوشل میڈیا سے انتخاب)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تو دنیا حیران تھی کہ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ امریکی صدر دور حاضر کے سب سے اہم اور نازک مسئلے پر کیسے اتنا اہم کردار ادا کر سکتا ہے؟ یار لوگ بہت خوش ہوئے، اسے پاکستانی حکومت کی کامیابی قرار دیا گیا تو کہیں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مثالی وقت قرار دیا جانے لگا۔ ٹرمپ کے اس اعلان کی بھارت نے تردید کی جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیان پر قائم رہے۔ اس کے بعد نریندرا مودی کی حکومت نے کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کا کالا قانون متعارف کروایا اور اس قانون کی منظوری کے بعد آج تک کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن ہے۔ باون روز گذر چکے ہیں کشمیر میں معمول کی زندگی تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔

ثالث کا کردار ادا کرنے والے ٹرمپ کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد نریندرا مودی کو بغل میں لے کر اس نے دنیا سے اسلامی دہشت گردی کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جب ٹرمپ یہ بات کر رہے تھے تو ان کے ساتھ ایک تصدیق شدہ دہشت گرد اور قصاب جس پر امریکہ میں داخلے کی پابندی بھی عائد تھی ساتھ کھڑا سن رہا تھا اور وہ قصاب نریندرا مودی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلمانوں کی دہشت گردی نظر آ گئی لیکن اسے تیس سال میں ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کرنے والوں کی دہشت گردی نظر نہیں آئی، گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرنے والے اس کے لاڈلے قرار پائے ہیں، مقبوضہ وادی میں ہزاروں خواتین کی عصمت دری کرنے والے بھارتی امن پسند ہیں، دس سال سے بھی کم عمر بچوں کو گرفتار کرنے والے امن پسند ہیں۔ باون روز سے بچوں کو دودھ نہیں مل رہا، ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہیں، کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ہے، رابطے اور معلومات کے تمام ذرائع بند ہیں، ہزاروں گرفتاریاں ہو چکی ہیں، سینکڑوں زندگیاں ختم کی جا چکی ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ نریندرا مودی کو ساتھ کھڑا کر کے اسلامی دہشت گردی کے خاتمے کا اعلان کر رہے ہیں۔ دہشت گرد نریندرا مودی کا ہاتھ فضا میں بلند کر کے ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ امن نہیں جنگ کو فروغ دے رہے ہیں، انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے نزدیک خون مسلم کی کوئی اہمیت نہیں، انہوں نے نریندرا مودی کا پرستار بن کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مسلم نسل کشی کے حق میں ہیں، انہوں نے نریندرا مودی کے ساتھ فوجی مشقوں کا اعلان کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے قائل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نہیں جانتے کہ افغان جنگ میں مجاہدین کو عزت دینے اور انہیں ہر طرح سے مدد فراہم کرنے میں امریکہ کا کیا کردار رہا ہے، کیا ڈونلڈ ٹرمپ نہیں جانتے کہ روس کی شکست کے بعد امریکہ انہی مجاہدین کو چھوڑ کر بھاگ گیا تھا، وہ مجاہدین جو کبھی امریکہ کے لاڈلے تھے ضرورت ختم ہونے کے بعد انہیں دہشت گرد قرار دینے کی عالمی مہم شروع کر کے اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح متعارف کروائی گئی، کیا ٹرمپ نہیں جانتے کہ پاکستان نے دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے وار آن ٹیرر میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کیا ہے۔ اس جنگ میں پاکستان نے ستر ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ کھربوں ڈالرز کا نقصان برداشت کیا ہے۔ آج دنیا محفوظ ہے تو اس میں پاکستان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ تصدیق شدہ دہشت گرد اور قصاب نریندرا مودی کے ساتھ کھڑے ہو کر اسلامی دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرنا مضحکہ خیز ہی نہیں مسلم دنیا کے منہ پر طمانچہ ہے۔

مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور آپس کی لڑائیوں میں مصروف رہے ہیں۔ ایک دوسرے کا گلا کاٹتے رہے ہیں۔ ایک دوسرے کا مالی نقصان کرتے رہے ہیں۔ اس کے برعکس غیر مسلم ہمیشہ متحد ہو کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا کے بڑے فیصلوں کے پیچھے مذہبی سوچ اور نفرت کار فرما ہوتی ہے۔ ایک شخص ثالثی کی پیشکش کرتا ہے اور وہ اسی مسئلے میں فریق بھی بن جاتا ہے۔ ٹرمپ کو عمران خان یا نریندرا مودی کے ساتھ کسی اجتماع کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا۔یہ بات ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گئی کہ امریکہ کا پلے غیر جانبدار تھا نہ اب ہے۔ امام صحافت مجید نظامی مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل شیطانی ثلاثہ ہیں ان کی یہ بات پھر ثابت ہو رہی ہے کہ یہ واقعی حقیقی شیطانی ثلاثہ ہیں۔ ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب مجید نظامی یہ کہا کرتے تھے تو کچھ اپنوں کو بھی درد ہوتا تھا اج وہ بھی دیکھ لیں کہ تینوں کیسے اکٹھے بیٹھے ہیں۔

قارئین کرام مسئلہ کشمیر مسلمہ تنازع ہے۔ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کر کے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور یہ بات طے ہے ہم پچاس دن سے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کو اپنی شہ رگ بچانے کے لیے آل آؤٹ جانا پڑے گا۔ کشمیر کے لیے پاکستان کے پاس جنگ کے سوا کوئی آپشن کوئی راستہ نہیں ہے۔ یہ جنگ فتح یا شکست یا کمزور معیشت کا حساب لگائے بغیر پاکستان کو ہر حال میں لڑنا ہو گی۔ یہ جنگ عزت اور وقار کے لیے آنے والی نسلوں کو سر اٹھا کر جینے کا پیغام دینے کے لیے لڑنا ہو گی۔ دنیا میں کوئی پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا پھر بھی اپنی شہ رگ کو بچانے کے اور اپنے دیرینہ موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے پاکستان کو وہ آخری راستہ اختیار کرنا ہو گا جسے مہذب دنیا پسند نہیں کرتی لیکن یہ بات بھی دیکھی جانی چاہیے کہ پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔

مسلم دنیا کو بھی اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہیے کب تک غیروں کے آگے پیچھے پھرتے رہیں گے۔ کب تک طعنے اور الزامات برداشت کرتے رہیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد بھی مسلم دنیا متحد ہو کر اس کا جواب نہیں دیتی تو پھر اپنی تباہی کے لیے بھی تیار رہے۔ اسلام امن کا دین ہے۔ دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کے پیچھے امریکی، اسرائیلی اور بھارتی سوچ کار فرما ہے۔ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں لیکن دہشت گردی سے شیطانی ثلاثہ کا بہت گہرا تعلق ہے۔

پاکستان فیصلہ کر لے کہ اس نے بھارت کو اس کے غیر آئینی اقدامات کا کیا جواب دینا ہے، پاکستان امریکہ اور طالبان کی ثالثی کے بجائے اپنی شہ رگ کو بچانے کی طرف توجہ دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں