601

چشت ’’اہل بہشت‘‘یا۔۔۔۔؟؟؟….(شاہد چشتی)

تحریر: شاہد مرتضیٰ چشتی.

پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان کے شہر ہرات کے مشرق میں ایک شہر چشت یا چشت نگر کے نام سے موسوم ومعروف ہے۔ حضرت خواجہ ممشاد دینوریؒ نے اپنے ایک مرید خاص حضرت خواجہ ابواسحاق شامیؒ کو حکم دیا کہ وہ چشت نگر جاکر تبلیغ دین متین اور اسلام یعنی ’’تصوف اسلامیہ‘‘ کا کام کریں اور ایک سلسلہ کا آغاذ کریں جو چشتیہ سلسلہ کے نام سے جانا جائے گا۔ چنانچہ حضرت جو شام کے رہنے والے تھے نقل مکانی کرکے چشت نگرتشریف لائے اور یہاں بحکم پیرومرشداس سلسلہ عالیہ کی بنیاد ڈالی۔ ان کی مساعی جلیلہ سے جوق درجوق مخلوق خدا فیضیاب ہوئی اور اس طرح اس سلسلہ کی ترویج واشاعت کا آغاز ہوا۔

اس دنیائے آب وگل میں حضرت خواجہ ابواسحاق شامی چشتیؒ وہ سب سے پہلے بطل جلیل ہیں کہ جو لفظ چشتی سے ملقب ہوئے۔ اس سلسلہ کے چار مشائخ عظام (۱) حضرت خواجہ ابویوسف چشتی ؒ (۲)حضرت خواجہ ناصرالدین ابومحمد چشتی ؒ (۳) حضرت خواجہ ابویوسف چشتی ؒ (۴) حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی ؒ چشت شہر ہی کے باشندہ تھے اور اسی جگہ ان حضرات باصفا کے مزارات مرجع خلائق ہیں۔ حضرت خواجہ غریب نواز چشتی ؒ جو کہ پاک وہند میں اس سلسلہ جلیلہ کے ممتاز شیخ اور سرخیل ہیں چشت نگر کے باسی نہ ہونے کے باوجود اسی رعایت سے چشتی کہلائے حالانکہ آپ حضرت امام موسی ٰ کاظمؒ (کاظمین شیرفین، بغداد) کی اولاد سے ہیں اور والد ووالدہ ہر دوجانب سے حسینی ہیں اجمیر شریف میں تبلیغ دین اسلام کی وجہ سے نائب رسول ؐ فی الہند معروف ہوئے اور روایات کے مطابق آپنے نوے لاکھ ہنود کو کلمۂ حق سے آشنا کیا۔

اسی مناسبت سے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی اوشیؒ اور حضرت بابا صاحب مسعود گنج شکرؒ بھی چشتی ہوئی بلکہ قیام قیامت تک اس سلسلۂ عالیہ میں داخل ہونے والا ہر شخص چشتی کہلائے گا۔ آج کل پاکستان میں جولوگ اس سلسلہ کے بیعت ہیں وہ اس لحاظ سے چشتی ہی کہلاتے ہیں لیکن چونکہ بابا حضور کی اولاد بھی چشتی ہی کے نام سے موسوم ہے۔ تاہم حضور بابا صاحب کی حقیقی وروحانی اولاد چشتی ہی کہلاتی ہے اور ’’چشت اہل بہشت‘‘ کہلاتے ہیں۔ مان لیاکہ حضور بابا صاحبؒ کے مرشد اور ان سے ان کے مرشد نے وعدہ کرلیا تھا کہ جو بھی اس سلسلہ میں داخل ہوگا اس پر جنت لازم ہے اور یہاں تک درج ہے کہ ’’میں تب تک جنت میں قدم نہ رکھوں گا جب تک تمہاری بیعت کرنے والوں کوجنت میں داخل نہ کرلیا جائیگا‘‘ تاہم یہ وعدہ اور گارنٹی ان احباب کے لئے ہے جو واقعی آپ کے مرید یا اولاد ہیں۔ صرف بیعت کرلینے سے یا ان کی نسل سے تعلق رکھنا اس گارنٹی سے مستفید ہونے کی ضمانت نہیں۔ اگر ہم تعلیمات سلسلہ چشتیہ ہی کو بھول کر یا ان سے روگردانی کے جوکہ حقیقت میں عین تعلیمات اسلامیہ ہی ہیں بھی اس امید پر رہیں کہ ہمارے بزرگوں نے گارنٹی دے رکھی ہے تو شاید یہ دیوانے کا خواب یا احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات ہوگی۔ ہمیں ہرگز نہیں بھولنا چاہئے کہ نوحؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر خدا کے نافرمان اپنے حقیقی بیٹے کو عذاب خداوندی سے نہ بچاسکے، آنحضرت ﷺ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اپنے سگے چچاؤں کو بھی عذاب الٰہی سے نہ بچا سکے اور اپنی بیٹی تک کہ جوجنت میں عورتوں کی سرداری کے اعلیٰ رتبہ پر فائز ہیں کو فرمایا تھا کہ دیکھو اس بات پر نہ رہنا کہ تم محمد ﷺ کی بیٹی ہو۔ وہاں زاد راہ اپنے اعمال ہی ہوں گے۔ خدانخواستہ حضرت نوحؑ اور ہمارے آقاومولا محمد مصطفی ﷺ خدا کے ہاں اتنے غیر مقبول نہ تھے کہ وہ اپنے پیاروں کو بخش دینے کی ضد کرتے اور خداوند غفورورحیم ان کی بات کو ٹال دیتے ۔ مقصد صرف اور صرف ہمیں اس بات کی تعلیم دینا تھی کہ

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نار ی ہے

اگر خدا لم ویزل اعلان فرمادیں کہ سلسلہ چشتیہ کے تمام واصلین جنت میں داخل ہوجائیں اور ہمارے بزرگ ایک طرف کھڑے ہوں اس شناخت کے لئے کہ ہمارے واصلین، مریدین واولاد کون کونسے ہیں۔ تو ہم میں سے جن کی اعمال اور شکلیں ان بزرگوں سے مختلف ہوں گے تو وہ بزرگ کیسے پہچانیں گے کہ یہ ہم میں سے ہیں۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم ایسے کام کریں اور ایسی شکلیں بنا کر رکھیں کہ کل کو ہمارے یہ بزرگ ہمیں پہچاننے سے انکار نہ کریں یا ہمیں پہچان کر شرمندہ نہ ہوں کہ ہم نے اپنے سلسلہ میں ایسے ایسے لوگوں کو داخل کیا ہوا تھا یا ہم نے ایسی اولادیں پیدا کیں تھیں۔۔۔ کیا ہم بابا حضور کے چاہنے والے۔۔۔ بابا حضور کو ماننے والے۔۔۔۔ بابا حضور کے نسب سے ہونے والے۔۔۔ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہم عملی اور حقیقی طور پر بھی فریدی اور چشتی ہیں اور روز قیامت بابا حضور ہمیں شناخت کرکے کہ یہ ہم میں سے ہیں شرمندہ نہ ہوں گے بلکہ فخر کریں گے کہ یہ ہمارے سپوت ہیں تو آؤ ’’باب بہشت‘‘ سے گزرے بغیر ہی ہم بہشتی ہیں اور اگر ہم بابا حضور کو روز قیامت شرمندہ کرنے کا باعث ہی رہے تو خواہ کروڑوں ہی نہیں اربوں بار باب جنت سے گزرلیں، ہم جنت کی ہوا تک نہیں پاسکتے۔۔۔ کیونکہ چشتی اہل بہشت ہیں۔۔۔ بزرگان چشت کو شرمندہ کرنے والے نہیں۔۔۔ آئیں ہم اپنی ابدی مختصر زندگی میں سے ایک لمحہ نکال کر سوچیں کہ ہم کیا ہیں۔’’اہل بہشت‘‘ یا ’’اہل دوزخ‘‘؟ اگر اہل بہشت میں سے ہیں تو شکرکریں اور عہد کریں کہ ہم آج کے بعد بھی اپنے اس مقام کو قائم ودائم رکھیں گے۔ اگر اہل دوزخ تو اہل بہشت کیسے بننا ہے۔ نسخہ صرف اور صرف بابا حضور ؒ کی حقیقی معنوں میں پیروی ہے۔

کیونکہ بابا جی حضور فریدؒ ۔۔۔ حق فرید ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں