197

پاکپتن: دریائے ستلج پر ایک ارب روپے کی لاگت سے بنائے گئے بابا فرید برج کی رابطہ سڑکیں 10 سال بعد بھی مکمل نہ ہو سکیں، میاں عارف ممتاز بودلہ.

پاکپتن (ولی محمد سے) دریائے ستلج پر ایک ارب روپے کی لاگت سے بنائے گئے بابا فرید برج کی رابطہ سڑکیں 10 سال بعد بھی مکمل نہ ہو سکیں، ٹوٹی سڑکیں پاکپتن اور بہاولنگر کے مکینوں کے لیے درد سر بن گئیں ان خیالات کا اظہار انجمن صحافیاں پریس کلب پاکپتن کے صدر بودلہ فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری اور نمبر دار یونین کے سینئر نائب صدرمیاں عارف ممتاز بودلہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا.

انہوں نے کہا کہ پاکپتن اور بہاولنگر کے مکینوں کو منڈیوں تک رسائی کیلیے 10 سال قبل دریائے ستلج پر ایک ارب روپے کی لاگت سے بابا فرید برج تعمیر گیادو اضلاع کے درمیان معاشی حب کی حیثیت رکھنے والا برج رابطہ سڑکیں نہ ہونے سے اپنی افادعیت کھونے لگاٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے باعث کسانوں کو بھی اپنی اجناس منڈیوں تک پہنچانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے میاں عارف ممتاز بودلہ نے کہا کہ کسانوں کے مسائل کم کرنے کیلئے بنے برج کی ٹوٹی سڑکیں کسانوں کو اجناس منڈیوں تک پہنچانے میں شدید پریشان کرتی ہیں بابا فرید برج کی رابطہ سڑکیں بننے سے جہاں پاکپتن اور بہاولنگر کے مکین خوشحال ہوں گے وہیں کسان کی پریشانی بھی کم ہو گی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری برج کے لنک روڈ کی تعمیر کا آغاز کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں