225

پاکپتن: برصغیر پاک و ہند کے عظیم روحانی بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کے 777 ویں سالانہ عر س کی تقریبات اختتام پذیر ہو گئیں.

پاکپتن (ولی محمد سے) برصغیر پاک و ہند کے عظیم روحانی بزرگ اور پنجابی زبان کے پہلے معروف شاعر حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی 15روزہ 777 ویں سالانہ عر س کی تقریبات اختتام پذیر ہو گئیں.

بہشتی دروازے کے آخری روز 2لاکھ سے زائد زائرین نے بہشتی دروازہ گزرنے کی سعادت حاصل کی، جب کہ پانچ روز میں 10لاکھ کے قریب زائرین نے بہشتی دروازہ گزرنے کی سعادت حاصل کی، برصغیر پاک وہند کے عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ کے777 ویں سالانہ عرس کے پانچویں روز بہشتی دروازے کی قفل کشا ئی کی تقر یب میں زیب آستانہ دربار بابا فرید دیوان عظمت سید محمد چشتی، ڈپٹی کمشنر پاکپتن احمد کمال مان، ڈی پی او پاکپتن عبادت نثار، پریس کلب پاکپتن کے صدر وقارفرید جگنو، چیئرمین پیر امداد حسین، جنرل سیکرٹری پیر غلام فریدالدین چشتی، سینئر نائب صدر سمیع اللہ، سیکرٹری فنانس پیر طارق سجاد چشتی، اپوزیشن لیڈر رانا مہران اکبر، صدر مرکزی انجمن تاجران چوہدری اظہر محمود، دربار عالیہ خواجہ عبدالعزیز مکی کے سجادہ نشین دیوان ساجدمشتاق چشتی، صدر انجمن فلاح مریضاں ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے مشائخ عظام اور زائرین کی بہت بڑی تعداد موجود تھی، فضا نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور حق فرید ؒ یا فریدؒ کے نعروں سے گونج اٹھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا مانگی گئی، فجر کی نماز کے بعد بابا فرید مسعود گنج شکر کے مزار کو عرق صندل سے غسل دے کر شہدائے کربلاء کے سوگ میں 40 دنوں کے لئے بند کر دیا گیا، جب کے بہشتی دروازے کو ایک سال کے لیے بند کردیا گیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں