215

پاکپتن: کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے دو قومی نظریے کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی، حکیم لطف اللہ

پاکپتن (محمد امین سے) بھارتی حکمران حالات وہاں نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے دو قومی نظریے کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی ان خیالات کا اظہار پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل حکیم لطف اللہ نے پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے سلسلہ میں نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

ریلی کی قیادت پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل حکیم لطف اللہ نے کی ریلی سے مذہبی راہنما، صدر پریس کلب پاکپتن وقار فرید جگنو، حاجی محمد اشرف، ڈاکٹر شاہد مرتضٰی چشتی صدر انجمن فلاح مریضاں، سردار ادریس ڈوگر ایڈووکیٹ، اتحاد بین المسلمین مفتی محمد زاہد اسدی، مولانا سردار علی سردار، جماعت اسلامی کے راہنما ڈاکٹر شوکت علی بھٹی، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر افضل بشیر مرزا، چیئرمین پریس کلب پیرامداد حسین، اویس عابد ایڈووکیٹ، راؤ عظمت اللہ نے بھی خطاب کیا مقررین نے کہا کہ آج بھارت کے سیکولرازم اور جمہوریت آر ایس ایس کے نظریے کی نذر ہورہے ہیں خدشہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کی جائیگی پاکستان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کیساتھ کھڑا تھا اور کھڑا رہے گا، بھارتی حکمران حالات کو اس نہج پر نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو، بھارت میں رونما ہونیوالے واقعات نے دوقومی نظریے کی اہمیت کو مزید اجاگر کردیا ہے بھارت کو فاشسٹ نظریے کے حامل لوگوں نے یرغمال بنالیا ہے اور 90 لاکھ کشمیریوں کی زندگیوں کو خدشات لاحق ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ اپنے مبصرین مقبوضہ کشمیر بھجوا کر حالات کا جائزہ لے، آج اگر دنیا نے بھارت کی کشمیر میں ممکنہ نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں