324

دیار بابا فرید پاکپتن امن و آشتی کا گہوارہ ۔۔۔ (محمد جمیل فریدی)

تحریر: محمد جمیل فریدی

قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ ( اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں تفرقے میں نہ پڑو) یہ ایک ایسا نُسخہِ کیمیا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر اس خوبصورت کائنات کو نفرتوں، مزہبی، لسانی گروہی، نسلی تعصبات سے پاک کیا جا سکتا ہے. تحریکِ آزادیِ ہند سے تحریکِ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان صرف اور صرف کلمہِ طیبہ کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا کسی قسم کی مزہبی منافرت یا مسلکی تعصبات کا شائبہ تک نہ تھا قیامِ پاکستان کے مخالفین کو آج تک یہ آزادی ہضم نہیں ہو رہی لہٰذا انھوں نے ایک منظم سازش کے زریعے پاکستان کے با سیوں کو شیعہ سُنی سرائیکی پنجابی اُردو پشتو جیسے اختلافات میں مبتلا کر دیا۔ ان نفرتوں اور تعصبات نے پاکستان کے استحکام اور سالمیت کو بہت نقصان پہنچایا، ہزارہ کی شعیہ کمیونٹی کے زائرین کے قافلوں میں کراچی اور دیگر شہروں میں عیدِ میلاد النبی کے جلوسوں میں، مساجد میں، امام بارگاہوں میں، اولیااللّٰہ کے مزارات، گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں میں خود کش حملوں کے زریعے ہزاروں انسانوں کو شہید کر دیا گیا۔

قارئینِ محترم! متذ کرہ بالا سطور اپنے موضوع کے ابتدائیہ کے طور پر تحریر کی ہیں تاکہ راقم آپ کو اپنے موضوع کے قریب کر سکے، پاکستان جہاں متذ کرہ بالا واقعات رونما ہو چُکے ہیں اس کُرہِ ارض پر ایک ایسا شہر بھی ہے جہاں محبت ہے پیار ہے خلوص ہے بھائی چارہ روادری ہے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہے میری مراد پاکپتن شریف ہے جس کا نام لاشعور میں اُبھرتا ہے تو روحانیت کا احساس زہنوں میں نمودار ہوتا ہے اس شہر کے نام کی ترکیب سے اس کے معانی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ( پاک ، پتن ) دریا کو پار کرنے کے لیئے قائم ( پاکیزہ پُل) اس نام کا مفہوم روحانی بھی ہے اور دُنیاوی بھی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے اور قیامِ پاکستان کے بعد یہاں پر شیعہ سُنی دیوبندی اہلِ حدیث سمیت تمام مکاتبِ فکر کے افراد آباد ہیں.

پاکپتن حضرت بابا فریدالدین (رح) کی نسبت سے پوری دُنیا میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ایک روحانی اتفاق ہے کہ امامِ عالی مقام اور اہلِ بیت کی شہادت کا عاشورہِ اور عُرس مبارک حضرت بابا فریدالدین محرم الحرام کے مقدس مہینہ میں آتے ہیں، ان ایام میں پوری دُنیا میں مزہبی انتشار کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، لیکن اللّٰہ کے خاص کرم سے پاکپتن میں تمام مکاتبِ فکر کے افراد اور باہر سے تشریف لانے والے زائرین روادری، مُساوات اور اتحاد بین المسلمین کی شاندار روایات قائم کرتے ہیں، بہشتی دروازہ گزرنے کے لیئے لاکھوں افراد کا راستہ اور جلوس امامِ عالی مقام امام حُسین کا راستہ ایک ہی ہے، زائرین دربار پر چڑھانے کے لیئے اپنی چادریں قوالوں کے ساتھ قوالی کرواتے ہوئے امام بارگاہ کے سامنے سے گزرتے ہیں بہشتی دروازے کی قطار امام باگاہ کے بلکل سامنے سے گزرتی ہے تمام اطراف سے اہلِ تشیع کے ماتمی جلوس اور زائرین ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اپنی اپنی عقیدت کا اظہار کرتے جاتے ہیں.

ماتمی جلوس کے راستے میں سُنی بھائی اپنے شیعہ بھائیوں کے لیئے دودھ اور پانی کی سبیلیں لگاتے ہیں امام بارگاہ میں لنگر کا انتظام کرتے ہیں تمام مجالس میں سُنی بھائیوں کی کثیر تعداد عقیدت اور احترام سے شرکت کرتی ہے، آستانہِ عالیہ بابا فرید اور امام بارگاہ کا ماحول شیعہ سُنی اتحاد کا عملی نمونہ پیش کر رہا ہوتا ہے، یومِ عشور پر سُنی بھائی خدمت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں، عید میلاد النبی کے جلوس میں اہلِ تشیع سبز جھنڈے لیکر درود شریف پڑھتے ہوئے شریک ہوتے ہیں، مذہبی روادی کی اتنی بڑی روایت جو سالہاسال سے پوری آب و تاب سے جاری و ساری ہے اپنی مثال آپ ہے کچھ عرصہ قبل دربار بابا فرید پر خود کش حملہ کے زریعے اس روادی کو نقصان پہنچانے کی مزموم سازش کی گیئ جِسے پاکپتن کے باسیوں نے اپنے اتحاد اتفاق سے ناکام بنا دیا. انشاء اللّٰہ دیارِ فرید پاکپتن امن آشتی کا گہوارہ ہونے کی یہ عظیم روایت برقرار رکھے گا۔

امن کا پرچم لیکر اُٹھو ہر انسان سے پیار کرو
اپنا تو منشور یہی ہے سارے جہاں سے پیار کرو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں