293

نغماتِ ابوسجاد ساغرؔ …… (ایک تبصرہ) …. (مسعود میاں)

تحریر: مسعود میاں.

ابوسجاد ساغر کا شعری انتخاب ”نغماتِ ابوسجادساغرؔ“ کے نام سے منظرعام پر آیا ہے۔ جو دراصل احمدعلی انجم کا ایم فل اُردو کا مقالہ ہے۔ جسے کتابی صورت میں شائع کرنے کا اہتمام ڈاکٹر رحمت علی شادؔ نے کیا ہے جو کہ اس مقالے کے نگرانِ کار بھی تھے۔ زیرنظر کتاب تحقیق اور تدوین کے حوالے سے تو ایک اہم کام ہے اس کے علاوہ اس شعری سامائے کو تنقیدی نقطہ نظر سے بھی پرکھا گیا ہے۔ کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹر رحمت علی شادؔ کا تحریر کردہ ہے اور مقدمہ احمد علی انجم جب کہ اظہارِ خیال کے طور پر پروفیسر نویدعاجز کا مضمون ”جب میرا انتخاب نکلے گا“ کے عنوان سے کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ ابوسجاد ساغر کا اصل نام برکت علی تھا۔ بقول پروفیسر نوید عاجزؔ:”برکت علی اور اُن کے بھائی غلام حسین دونوں کو ساغرصدیقی سے عشق تھا۔ دونوں بھائیوں نے اظہارِ عقیدت کے لیے اپنے ناموں کے ساتھ ساغرصدیقی کے نام کو جوڑ لیا۔ برکت علی ابوسجاد ساغر اور غلام حسین صدیقی لکھنے لگ گئے۔“

عشق کا’پرتو‘ زندگی کے کسی نہ کسی پہلو کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ ابوسجاد ساغر کے کلام میں ساغر کا رنگ کتنا ہے اس کا فیصلہ ہم قاری یعنی پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں البتہ برکت علی کی معاشی زندگی ہمیں ساغر کے رنگ میں خاصی حد تک رنگی ہوئی نظرآتی ہے وہ یوں کہ برکت علی نے اپنا ایک فوٹو سٹوڈیو بنایا تھا جو خاصا چل نکلا تھا پھر جیسے جیسے وہاں شاعروں کی آمد زیادہ ہونے لگی ویسے ویسے گاہک کم ہوتے چلے گئے۔ یوں ان کی زندگی معاشی طور پر ساغر صدیقی جیسی ہو کر رہ گئی تھی۔ اس سے سبق حاصل ہوتا ہے کہ غریب امیروں سے حسد کرنے میں اپنا قیمتی وقت ضائع مت کریں؛وہ کم از کم اتنا تو کرہی سکتے ہیں کہ مثلاً غریبوں کو اپنے بچوں کے نام فقیر حسین کی بجائے امیر حسین رکھنا چاہیے یا پھر سیٹھ عابد وغیرہ۔ ہوسکتا ہے ان ناموں کے اثرات کی وجہ سے ان کی زندگی کے دن بدلنے کے لیے کوئی غیبی مدد آ پہنچے۔ ڈاکٹر رحمت علی شاد اور احمد علی انجم اس حوالے سے بھی لائیق تحسین ہیں کہ انھوں نے شاعرکے کلام کو کتابی صورت دے کر زندہ کر دیا ہے۔ کتاب کو مدرلینڈبک پرنٹنگ ایجنسی لاہور نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت چار سو روپے رکھی گئی ہے۔نمبونے کہ طور پر چند اشعا ر ملاحظہ فرمایں:

تیری تو زندگی ہے ساعتوں کی
تو ساغرؔ بلبلہ ہے اور کیا ہے
٭٭
لا دوا کی تم دوا کرتے رہو
کچھ خدا سے بھی دعا کرتے رہو
٭٭
ہم تو ساغرؔ تمھارے اپنے ہیں
ہم کو اپنی جناب میں رکھیے
٭٭
جمال اس کا ہر اک شے کو راس آیا ہے
جو چاند ہو کے شباب سے نکلے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں