227

سیاسی جدوجہد میں استقامت …. (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

مادھو سداشیو گولوالکر، انڈیا کے شہر رامتک میں 1906 میں پیدا ہوا، کٹر ہندو گھرانے میں پیدا ہوا اور مشنری کالج میں تعلیم حاصل کی؛ جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا کے مصداق، عیسائیوں کے خلاف ہی نفرت انگیز تحریک شروع کردی اور سب کی ناک میں دم کردیا۔ان دنوں راشتریہ سوایم سیوک سانگھ (آر ایس ایس) بن چکی تھی لیکن ٹھنڈی تھی۔ نفرت کی آگ سے بھرا گوالیکر اس کا حصہ بن کر اسے ہندو نیشنلسٹ موومنٹ سے “اقلیت مکاؤ”تنظیم پر لے آیا۔ جن دنوں قرارداد پاکستان پاس ہوئی انھی دنوں گولوالکرکو آر ایس ایس کا سربراہ بنا دیا گیا! اور اس نے پہلا کام (مقبوضہ) جموں کشمیر میں آر ایس ایس کی جڑیں قائم کیں اور پریم ناتھ ڈوگرا کو سرینگر کا ڈائریکٹر بنا دیا! آپ اندازہ کریں کہ جب کسی کو یقین نہیں تھا کہ انڈیا اور پاکستان آزاد ہوں گے یا نہیں، گوالیکر مقبوضہ کشمیر میں آر ایس ایس کا کینسر پھیلا چکا تھا۔ ولابھائی پٹیل کی درخواست پر ایم ایس گولوالکر، کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کو اکتوبر 1947 میں ملا اور مقبوضہ کشمیر کا انڈیا سے الحاق کروا لیا۔ الحاق کے بعد گوالیکر کی ایک گفتگو لیک ہوئی، جس کے مطابق الحاق نہیں ہوا بلکہ گوالیکر کشمیر کی بولی لگا کر خرید لایا ہے، بس رجسٹری ہونی باقی ہے۔ اسکے چند مہینوں کے بعد آر ایس ایس کے ہی ایک رکن نے امن کے خواہاں گاندھی کو قتل کردیا اور conspiracy theory کے مطابق اسکے ڈانڈے بھی گوالیکر سے جاکر ملتے ہیں۔ گولوالکر کی 1973 میں موت ہوجاتی ہے اور اب کہانی ایسے موڑ لیتی ہے کہ اس دور میں نریندر مودی، گوالیکر عرف “گُرو جی” کا بھگت بن کر، آر ایس ایس کا حصہ بن جاتا ہے اور “گُرو جی” کے ادھورے خواب یعنی کی مقبوضہ کشمیر کی “رجسٹری “ کروانے کی تھان لیتا ہے اور پانچ اگست 2019 کو یہ کرکے دکھا دیتا ہے۔

چودہ اگست وہ دن ہے جس میں ہمارا پیارا ملک آج کے دن آزاد ہوا۔ بچپن سے اس دن کو ملی نغمے گاتے، جھنڈیاں لہراتے اور پرچم کو چومتے، جھومتے مناتے رہے لیکن اس چودہ اگست کو آزادی کی جو قدر محسوس ہورہی ہے، پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ گزشتہ کئی دنوں سے دل بوجھل ہے کیونکہ ہمارے کشمیری بہن بھائیوں پر ظلم کی انتہا کی جارہی ہے، آئین کی خلاف درزی کرکے مقبوضہ کشمیر کو باقاعدہ انڈیا کا حصہ بنا لیا گیا ہے اور بے شرم بنیا اپنی ذلالت اور اور اوقات دکھاتے ہوئے ہمیشہ کی طرح وعدہ خلافت کررہا ہے۔ قائداعظم پر اتنا پڑھا ہے اور لکھا ہے لیکن قائداعظم کی عقل اور دوراندیشی کو جتنا گزشتہ دو ہفتوں میں سمجھا ہوں شاید پہلے کبھی نہیں۔ ایک سوٹ بوٹ پہننے والا، سگار پینے والا، کتوں سے پیار کرنا والا، غیر متشدد پرست انسان جب کانگریس کو آزما کر کہتا ہے کہ اب مسلم لیگ اور مسلم ملک ہی ناگزیر ہے تو یہ کتنا مشکل کام ہوگا، آج سمجھ میں آتا ہے۔

پانچ اگست سے لیکر آج تک کوئی ایک دن نہیں گزرا جب کوئی بھی پاکستانی دنیا میں کہیں بھی ہے چین سے بیٹھا ہو۔ ہماری ڈیلس کمیونٹی میں امتیاز راہی، ندیم اختر اور غزالہ حبیب جبکہ کولمبس میں امجد بیگ اور حسنین چودھری نے بڑی مظاہروں کا انتظام کیا! کشمیر کانفرنس ڈیلس میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے شرکت کی۔ مبشر وڑائچ اور ٹیم نے شاندار انتظامات کئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راقم اور پاک پیک کے صدر جلیل خان نے امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار “کشمیر ڈے آن دا ہل” کا اعلان کیا۔ پاک پیک اس کے انعقاد میں معاونت کرے گی اور اپنے چیمپئن کانگریس مین اور سینیٹرز کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرے گی۔پاک پیک نے کانگریس وومین میڈلین ڈین کے ساتھ کمیونٹی کے انٹریکشن کے لئے ٹیلی کانفرنس کا اہتمام کیا جس سے بہت سے لوگوں کو سلگتے سوالات کرنے کا موقع ملا-اس وقت طاہر جاوید کی کوششوں سے کانگریس وومین شیلا جیکسن لی نے کشمیر کے مسئلے پر انڈیا کی بھرپور مذمت کی ہے جبکہ کانگریس مین ٹام سوزی کا خط بھی انڈیا میں کہرام مچا گیا ہے۔۔ اے پی پیک کے ڈاکٹر اعجاز احمد نے کانگریس مین کوری بُکر کے ساتھ ملاقات میں کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا اور کوری بکر نے اہم مذمتی بیان جاری کیا۔ واشنگٹن کے کانگریس ایڈم اسمتھ نے بھی کشمیر کے مسئلے پر انڈیا پر سخت تنقید کی۔

“ڈے آن دا ہل” کیا ہوتا ہے؟ واشنگٹن ڈی میں طاقت کی غلام گردشیں کیپیٹل ہل کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ پوری دنیا میں جب بھی کوئی حکومت یا اپوزیشن کسی مسئلے پر امریکہ کی جانب دیکھتی ہے تو “ڈے آن دا ہل” کا انعقاد کرتی ہے۔ اس میں کیپیٹل ہل میں ایک ہال نما کمرہ ریزرو کرکے وہاں کانگریس اور سینیٹ کے اراکین کو بلا کر حقائق اور دلائل کی روشنی میں اپنا موقف پیش کیا جاتا ہے۔ اور پاک پیک یہی کرنے جارہی ہے۔ مادھو سداشیو گولوالکر سے لیکر مودی تک میں جو ایک بات مشترک ہے اور وہ ہے ظلم میں استقامت؛ صدی ہونے کو آئی اور انکی دشمنی اور استقامت میں کمی نہیں آئی۔ اسکا مقابلہ بھی استقامت سے کیا جاسکتا ہے۔ چند گھنٹوں یا دنوں کے جذباتی ابال میں آنسو بہا کر یا شور مچا کر “جو الّلہ کی مرضی” یا “سانوں کی” سے کچھ نہیں ہونے والا۔ فیس بک پر پوسٹوں کے سیلاب بہا دینے والے اور بلاوجہ میسیجز میں ویڈیو لنک بھیجنے والے، جب سیاست میں وقت یا پیسہ دینے کا وقت ہوجاتا ہے، غائب ہوجاتے ہیں۔ اگر کامیاب ہونا ہے تو ہر ایک کو اپنے حصے کا کام کرنا پڑے گا۔ اگر ایک پاکستانی امریکن صرف ایک ڈالر روز کا سیاسی سرگرمیوں کے چندے کے لئے الگ گلے میں ڈال لے تو پاکستانیوں کے ہاس ایک سال میں ایک سو ملین ڈالرز ہوں گے، سیاست اور سیاستدانوں پر خرچ کرنے کے لئے! باتیں بہت ہوگئیں، آئیں اب کچھ کرکے دکھا دیں ہم!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں