239

عربوں کے مودی کو ایوارڈ دینے کی اصل وجوہات ۔۔۔۔ (صابر بخاری)

صابر بخاری

جہاز کی کھڑکی سے نیچے دیکھا تو ہر طرف روشنی ہی روشنی نے ماحول کو گھیر رکھا تھا۔ دیدہ زیب اورچکا چوند روشنی نے دور تک ہمارے جہاز کا پیچھا کیا۔ بتایا گیا کہ اب یو اے ای کی حدود شروع ہوچکی ہیں۔ یو اے ای کے بارے میں جو سن رکھا تھا، ابتدائی نشانیاں ہی بتا رہی تھیں کہ خوبصورت ملک ہے۔ کچھ وقفے کے بعد پھر دور تک نیچے مصنوعی روشنی کا ساتھ رہا۔ ہمارا جہاز دوبئی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کر چکا تھا۔ چار سال قبل میرا یو اے ای کا یہ پہلا دورہ تھا۔ کہاں لاہور کا علامہ اقبال ایئرپورٹ اور کہاں دبئی کا جدید ترین ایئرپورٹ۔ جدیدیت نے تو ہمیں مسحور کر رکھا تھا مگر جیسے ہی امیگریشن کاونٹرپر پہنچا تو حیرانی نے پر پھیلانے شروع کر دیے۔ پہلی بار مقامی عربی باشندے دیکھے۔ دنیا بھر سے لوگ امیگریشن کاو ئنٹر پر موجود تھے اور عربی ایک دوسرے کو بلند آوازوں سے پکا رہے تھے، ٹھٹھے مخول اور ایک دوسرے سے بلند آوازمیں مذاق کر رہے تھے۔ حیرانی ہوئی کہ اس قدر جدید شہر کے یہ مقامی باشندے تو عقل اور اخلاقیات سے عاری ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ ترقی مقامی باشندوں کی بدولت ہوئی ہو۔ بعد میں جب تحقیق کی تو اس سب چکا چوند کے پیچھے غیر ملکی خاص طور پر یورپی لوگوں کا ہاتھ نظر آیا۔ مقامی عرب تو سوئی تک نہیں بنا سکتے۔ یو اے ای کا سارا سسٹم ہی کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے۔ خیر ایک عجیب شکل وصورت اور گٹ اپ کی مخلوق ”مقامی عربی“ سے پالا پڑ چکا تھا۔

یو اے ای میں ہر طرف نمودو نمائش، آرائش و زیبائش اور عیش و سرور دیکھنے کو ملا، جیسی محبت اپنے دین سے پاکستان میں دیکھی ویسی وہاں نظر نہیں آتی۔ دنیا کی سب عیاشیاں وہاں دیکھنے کو ملیں۔ عیاشیاں ایسی کہ یورپ کو مات دیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ یورپ کے اکثر لوگ لطف سے بھرپور لمحات گزارنے کیلئے یو اے ای کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں سب کچھ مصنوعی اور تکنیکی سالگا۔ اب سعودی بادشاہ سلمان بھی اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں۔ جدیدیت کا جادو اب وہاں بھی سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔ غیرت اورحمیت تو شاید وہاں سے پہلے ہی رخصت ہو چکی ہے، ایسا کیوں ہو رہا ہے شاید مقامی مسلمانوں کو بھی اسلامی ضابطہ حیات سے نکلنے کیلئے یہ سب چالیں چلی جا رہی ہیں۔ مادیت پرستی اور جدیدت حد سے تجاوز کر جائیں تو روح کو چھلنی چھلنی کر دیتی ہیں اور یہی حال آجکل عرب حکمرانوں کا ہے۔ معیشت کی بہتری تو شاید بہانہ ہے، کیونکہ سعودی عرب پہلے ہی معاشی طور پر مضبوط ملک ہے، لگتا یہی ہے کہ سب کچھ مغربی آقاوں کی خوشنودی کیلئے کیا جا رہا ہے۔ عرب کے شاہوں سے اب اسلام کی اصل روح مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ اقبال یاد آتے ہیں

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

عربی شاہوں اور شہزادوں نے عیش و سرورمیں یورپ کے حکمرانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان کے صحرا آج بھی گواہ ہیں کہ کس طرح وہاں سے کم سن بچیوں کو اپنے من پسند مشاغل کیلئے عرب ممالک لے جایا جاتا رہا۔ اب دنیا بھر میں عیاشی کے بڑے اڈوں کے بڑے گاہک یہی حکمران ہیں. یو اے ای، سعودیہ اور دوسرے عرب ممالک پیسے کی فراوانی اور جدیدیت اور مادیت پرستی کے خبط میں مبتلا ہوکر غیرت، حمیت کھو چکے ہیں اوراندر سے کھوکھلے، خوفزدہ، بزدل اور کاہل بن چکے ہیں۔ اسلامی غیرت اور حمیت کیا ہے انکا اب دور سے بھی اس سے واسطہ نہیں۔

حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے

عربوں کی معیشت سے لیکر سکیورٹی تک امریکہ اور یورپ کے ذمہ ہے۔ عرب ممالک ایک ملک ایران سے نمٹنے کیلئے کبھی عرب اتحاد بناتے ہیں اور کبھی انتالیس ممالک کا اتحاد مگر پھر بھی ٹھس ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ مغربی طاقتوں نے ان بزدل حکمرانوں کے اقتدار کو طول دلوانے کیلئے ان سے خود ساختہ فرقے ایجاد کرائے۔

آج یہ اکثریت کے باوجود غاصب اسرائیل کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اسلام نے زندگی گزارنے کا واضح نصب العین دیا ہے، عزت اور غیرت کی زندگی کے سامنے دنیا کی تما م تر آسائشیں ہیچ ہیں، مگران نام کے مسلمان عرب حکمرانوں کو ان اصولوں سے کوئی سروکار نہیں نتیجتاً اسرائیل نے انکا بینڈ بجا کر رکھ دیاہے۔ لیکن دوسری طرف غیرت، حمیت، جذبہ ایمانی اور جہاد سے سرشار ایک چھوٹی سی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں۔ کشمیری مسلمان بھی ستر سالوں سے اس غیرت اور حمیت کا عملی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بھارتی جارحیت اور ظلم و ستم کے باوجود وہ آج بھی حق کا علم اٹھائے ہوئے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، غیر مسلم ممالک بھی انکی حمایت میں آگے آگئے ہیں لیکن حیف ہے ان عرب حکمرانوں پر جو مودی کو امن کے تمغے دے رہے ہیں۔ اس میں اب کوئی شک نہیں کہ عرب ممالک کے حکمران مغربی طاقتوں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔ ان عرب حکمرانوں کو اسلام سے کوئی دلچسپی ہے نہ اسلامی ضابطہ حیات سے کوئی تعلق۔ یہ محض اسلامی بہروپیے ہیں جو مغربی ممالک کے مفاد کی تکمیل کیلئے مسلط کیے گئے ہیں۔ اس لیے اب یہ کسی مودی کو انعام دیں یا کسی ہٹلر کوایوارڈ، اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن ان حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ وہ جس شیشے کے گھر میں بیٹھے ہیں یہ بہت جلد ٹوٹنے والا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں