248

کشمیر کی تازہ صورتحال ،آپشن کیا بچے ہیں؟ ….. (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

وزیر اعظم عمران خان کی سوچ کے برعکس مودی کشمیرکے حل کی بجائے اپنی سفاکیت سے کشمیریوں کو کچلنے کی راہ پر چل پڑا ہے۔ مودی وقت حاضر کا فرعون ہے۔ جو خون کا پیاسا اور انسانیت اور حق سچ کا دشمن ہے۔ مگر مودی یہ بھول گیا ہے کہ ہر ظالم اور فرعون کا حشر عبرت ناک ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندو ایک پست ذہن اور ڈرپوک قوم ہے۔ بنیا گھٹیا سازشیں تو کرتا ہے مگر جب سر پر پڑتی ہے تو دم دبا کر بھا گتا ہے۔ مودی اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے جو کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا، کا خاتمہ کرکے سکون اور چین کی نیند سوئے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکومتوں نے کبھی کشمیر کو خصوصی حیثیت دی ہی نہیں۔ یہ کیسی خصوصی حیثیت تھی کہ جس میں روزانہ کی بنیاد پر کشمیریوں کے جنازے اٹھائے جاتے رہے، بھارتی فوج نے ظلم و ستم کی تمام حدیں پارکردیں۔ کشمیری بہادری، جرات اور خود داری میں سب کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں اور تمام بھارتی چالوں کا سینہ تان کر مقابلہ کیا اور ہمیشہ سرخرو ہوئے۔

کشمیر کی موجوہ صورتحال کا دو طرح سے تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک صورتحال تو یہ ہے کہ چونکہ بھارت کشمیر میں بری طرح پھنس چکا ہے، اسے آٹھ لاکھ فوج اور سکیورٹی پر بھاری اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں، بڑی تعداد میں بھارتی فوجی مارے جا رہے ہیں۔ مودی بھارت کو معاشی لحاظ سے مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ جس کے لئے لازم ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو۔ ستر برسوں سے تمام تر ترغیبات اور طاقت کے باوجود کشمیری ذرہ برابر بھی اپنے مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹے نہ ہٹیں گے۔ بھارت کا کشمیر میں رہنا بے سود ہے۔ یہی وجہ تھی کہ مودی نے ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر حل کرانے کی درخواست کی یہ اور بات ہے کہ مودی اب اس سے انکاری ہے۔ لیکن مودی یہ بھی جانتا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر بھارت میں خوشحالی نہیں آسکتی ہے۔ اسی پلان کے تحت ہی لداخ اور جموں کو موجودہ شکل دی گئی۔ پاک بھارت، بشمول امریکہ اس پلان کا حصہ ہیں۔ جس کے مطابق ہندو اکثریتی علاقہ لداخ بھارت کو منتقل کردیا جائے گا اور باقی کشمیر کی جو بھی حیثیت ہوگی اس کا فیصلہ ابھی ہونا ہے (پلان کے مطابق شاید یہ فیصلہ کر لیا گیا ہو)۔

دوسری تھیوری، پہلی تھیوری کے یکسر برعکس اور یہ کافی حد تک صحیح ہے۔ مودی ظالم اور سفاک شخص ہے اوراس کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ ہمیشہ مسلمانوں کے خون کا پیاسا رہا ہے، وہ کسی صورت کشمیری مسلمانوں کو انکا حق دینے کیلئے بخوشی تیار نہیں ہوگا۔ کشمیراور کشمیریوں کو بزور طاقت جھکانے کیلئے مودی کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ مودی کی بربریت کا آغاز ہے۔ ایک چال انسان چلتا ہے اور دوسری چال اس جہاں کا مالک اور خالق چلتا ہے اور ہوتا وہی ہے جو وہ بزرگ و برتر چاہتا ہے۔ مودی کی ناپاک جسارت کے بعد پاکستان اور مسلمانوں کیلئے امکانات باقی کیا بچے ہیں؟

بھارت نے مسئلہ کشمیر کو عالمی افق پر خود ہی اٹھا دیا ہے۔ جس میں روز بروز تیزی آتی جائے گی۔ ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ کشمیر میں گوریلا وار شروع ہوجائے گی۔ پاکستان اور باقی مسلمان برادری کشمیریوں کے پشتیبان ہوں گے۔ امریکہ کی بات نہ مان کر مودی نے پاکستان کو جواز فراہم کر دیا ہے کہ ہم کشمیر کا مسئلہ مزاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں مگر بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بات اب ہمارے کنٹرول میں نہیں رہی اور اس طرح کشمیر میں جہاد ڈکلیئر کر دیا جائے۔ دنیا بھر سے مسلمان کشمیر میں جہاد کیلئے پہنچ جائیں۔ جس کے شعلے صرف کشمیرہی نہیں بلکہ انڈیا کے کونے کونے تک پہنچ جائیں گے۔ پاکستان بھی بھارتی چالوں کا شکار ہوسکتا ہے اور اس طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان خوفناک جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ جس میں بالآخر عالمی برادری مداخلت کرے گی اور اس بار مسئلہ کشمیر بھی مذاکرات کی میز پر ہوگا۔

دوسرا حل یہ ہے کہ ہم عسکری تنظیموں کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہوئے اور دوبارہ ان کو سرگرم کرکے ہم دنیا کی ہمدردیاں بھی کھو دیں گے۔ الٹا بھارت کو پراپیگنڈہ کرنے کا موقع مل جائے گا۔ پاکستان ویسے بھی اپنی پالیسی میں عسکری تنظیموں سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں وہ کسی نئے محاذ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اب پاکستان نے بطور ریاست خود ہی کشمیر کا مقدمہ لڑنا ہے۔ سب سے بڑاآپشن پاکستان کے پاس یہ ہے کہ وہ جنگی بنیادوں پر اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دے۔ او آئی سی سمیت تمام تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی جائے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو قائل کیا جائے کہ وہ بھارت سے بات کریں، نہ ماننے کی صورت میں ان ممالک میں موجود لاکھوں بھارتیوں کو اپنے ملک سے نکالنے کی دھمکی دیں، جس سے بھارتی معیشت پر کافی بوجھ بڑھے گا۔ دنیا بھر میں پاکستانی اور کشمیری بھارتی جارحیت پر احتجاج اور آواز بلند کریں۔ پاکستان اس مسئلہ کو فی الفور اقوام متحدہ میں لیکر جائے۔ کشمیریوں اور مقامی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ بھارتی جارحیت پرسپریم کورٹ میں رٹ دائر کریں (یہ اور بات ہے کہ وہاں سے کوئی مثبت نتیجہ نکلنے کی امید نہیں ہے)۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر کا باقاعدہ فریق ہے، اس لیے پاکستان عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرے۔ تمام تر قانونی تقاضے پورے کرنے کے باوجود اگر کہیں سے بھی انصاف نہیں ملتا، تو پاکستان کو بھی کشمیریوں کی طرح اپنے شایان شان طریقے سے بھارت سے جنگ کر دینی چاہیے۔ مجھے یہ یقین ہے کہ اس طرح ہم نہ صرف بھارت سے کشمیر چھین لیں گے بلکہ آدھا ہندوستان بھی ہماری مٹھی میں ہوگا۔ رہی بات بڑی تعداد میں اموات کی بقول ٹیپو سلطان:

“گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے”

جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں