281

کیا پاک بھارت چوتھی اور فیصلہ کن جنگ کا آغاز ہوچکا ہے؟ ……. (میاں عمردراز ہانس)

مرسلہ: میاں عمردراز ہانس

22 جولائی کو کشمیر لائن آف کنٹرول کا دورہ کرتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع نے آرمی چیف کی موجودگی میں اعلان کیا کہ:
” ہم نے کشمیر کے مسئلہ کا حل نکال لیا ہے، اب کشمیری آذادی کو بھول جائیں، مودی سرکار اب کشمیر کے مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے حل کردے گی …”

ساتھ ہی کہا کہ:
” دشمن کو میری گفتگو کا مطلب صاف طریقے سے سمجھنا چاہیے …”

اگلے دو روز بعد خبر آتی ہے کہ دس ہزار نئے بھارتی فوجی کشمیر پہنچ گئےہیں۔ پھر خبر آئی کہ پچیس ہزار فوجیوں کے نئے دستے کشمیر کی طرف روانہ کردے گئے ہیں۔ جب کہ گزشتہ دنوں ایک انڈین انگریزی اخبار نے لکھا کہ:
“بہت ایمرجنسی میں بغیر کسی خاص وجہ کے ایک لاکھ انڈین فوجی کشمیر پہچائے جارہے ہیں …”

آرمی چیف اور وزیر دفاع کے دورے کے بعد بھارت نے لائن آف کنٹرول پر چڑھائی کردی، مختلف سیکٹرز پر مسلسل شیلنگ اور جنگ کا سامان بنا ہوا ہے …

قارئیں کرام! آئیے سمجھتے ہیں کہ بھارت کیا چاہتا ہے، اور یہ کہ کیا ہم تیزی کے ساتھ پاک بھارت چوتھی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہ کیا بھارت جنگ کی تیاری مکمل کرچکا ہے، اور آخری اور سب سے اہم بات کہ وہ جنگ کیوں چاہتا ہے …؟

تو سب سے پہلے ان وجوہات پر غور کر کے انہیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو عرض یہ ہے کہ:

■ سی پیک کی تکمیل سے پہلے پہلے بھارت جارحیت چاہتا ہے اس لیے کہ سی پیک کی تکمیل کے بعد بھارت سمجھتا ہے پاکستان کو ٹف ٹائم دینا مشکل ہو جائیگا۔ چائنا اپنی 65 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ اور بلینز ڈالرز کی تجارت کی حفاظت کے لیے گراؤنڈ میں موجود ہوگا۔ سی پیک کی تکمیل کے بعد اسے براہ راست پاکستان اور چین سے پاکستان کے گراونڈ میں جنگ کرنا پڑے گی۔ جو بھارت کے لیے مشکل ہے۔ لہذا وہ سی پیک کی تکمیل سے پہلے جنگ کے میدان میں اترنا چاہتا ہے …

■ امریکہ افغانستان سے چلا گیا تو افغانستان کی سرزمین جنگی ائیرپورٹ اور لاجسٹک سپورٹ بھارت کو افغانستان سے نہیں مل پائے گی۔ شنید ہے کہ 2019 میں ہی اپنا بڑا عسکری سازوسامان اور جنگی طیارے امریکہ واپس لے جانا چاہ رہا ہے۔ 2001 پارلیمنٹ حملہ اور 2008 ممبئی حملہ کے بعد امریکہ ہند معاہدے کے تحت (جس معاہدے کی وجہ بھارت جنگ سے پیچھے ہٹ گیا تھا) امریکہ اب بھارت کی جنگی سپورٹ پوشیدہ طریقہ سے بھرپور طور پر کریگا۔ اس لیے امریکہ کے نکلنے سے پہلے بھارت حملہ آور ہونا چاہتا ہے …

■ انڈیا سمجھتا ہے کہ امریکی شکست اور طالبان کی فتح کے بعد جہادیوں کے حوصلے بہت بلند ہو جائیں گے۔ خطہ کی صورتحال میں بڑی تبدیلی رونما ہو جائے گی۔ تحریک کشمیر جو پہلے سے منہ زور ہو چکی ہے مزید طاقت ور ہو جائیگی۔ لہذا جہادی انقلاب سے پہلے پہلے وہ تحریک کے ہیڈ کوارٹر کو مسل دے جس کے بعد مقبوضہ کے لوگوں کو سبق سکھا کر تحریک کشمیر کا باب بند کردیا جائے …

■ امریکہ چاہتا ہے کہ اپنی افغان شکست پر میڈیا ٹرائیل سے بچنے کے لیے اور فیس سیونگ کے لیے خطہ ایک نئے حادثے کا شکار کردیا جائے۔ پاک بھارت جنگ کی صورت حاصل شدہ سموکنگ بم کے دھوئیں کی دیوار کے پیچھے امریکہ راہ فرار اختیار کر لے۔ اس لیے امریکہ خفیہ طور پر بھارت کو جنگ کی تھپکی دے رہا ہے …

■ بی. جے. پی. پاکستان کو جنگ کی صورت سخت سبق دینے کے وعدے پر الیکشن جیت چکی ہے۔ بی. جے. پی. کی سیاست و حکومت کا مستقبل بھی اب اسی مقصد کی کامیابی سے جڑا ہے۔ لہذا بی. جے. پی. یہ موقعہ کیوں گنوائے گی، جس میں اسے آئندہ کی پانچ سالہ حکومت بھی حاصل ہو چکی ہے۔ جب کہ بھارتی عوام بحثیت قوم جنگ کے بخار میں مبتلا ہے۔ دھونی کا بطور کرنل رینک آفیسر ایل. او. سی. پر موجود ہونا انڈین عوام کے جنگی جنون کی ایک بڑی علامت ہے۔ بی. جے. پی. اپنے وعدے پر عمل کرنا چاہ رہی ہے۔ لہذا بھارت جنگ مسلط کرنا چاہ رہا ہے …

■ پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ جنگ پاکستان کے مفاد میں بلکل بھی نہیں۔ فوجی اور سیاسی قیادت کسی صورت جنگ نہیں چاہتے۔ بھارت اس موقع کو غنیمت جان کر اپنے دشمن کو کنویں میں گرا دیکھ کر جنگ کا پتھر گرانا چاہ رہا ہے …

■ اب تکوینیات سے بھی یہی محسوس ہو رہا ہے کہ پاک بھارت جنگ کاحادثہ رونما ہو جائےگا۔ احادیث رسول اکرم حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم اور اقوال اولیاء بھی یہی نشاندہی کررہے ہیں کہ جنگ کا طوفان برصغیر کارخ کر چکا ہے …

بہرحال عزیز دوستو اگر ایسا ہوا تو تاریخ کا بدترین قتل عام ہو گا (اللہ پاک حفاظت فرمائے)۔ چھوٹی موٹی جھڑپیں جاری رہیں گی، جب کہ حقیقی جنگ چھ ماہ بعد ظاہر ہو سکتی ہے۔ دوستو ظاہری حالات خطرناک ہیں، بقیہ حقیقی علم تو اللہ ہی کا ہے …

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں