269

مولانا فضل الرحمان کی مہم جوئی کی درپردہ حقیقت …… (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

کئی بار سوچا کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست کے چند مثبت پہلو ڈھونڈ کے لاوں مگر تمام تر ٹامک ٹوئیوں کے باوجود مجھے مولانا کی سیاست کی کوئی مثبت چیز تو نہ ملی مگرہر طرف ان کا ایک واضح نظریہ پر پھیلائے نظر آیا۔ یہ نظریہ کیا ہے اس کا تذکرہ آگے جا کر کرتے ہیں۔

مولاناکی سیاست ہمیشہ سے کنفیوژن کا شکار رہی ہے۔ وہ آمر کے بھی شانہ بشانہ چلے اور سیاسی جماعتوں کی قائم کردہ جمہوریت میں بھی برابرکے حصہ دار رہے۔ انہوں نے مذہب اور سیاست کو گڈ مڈ کردیا۔ بنظر غور تجزیہ کیا جائے تومولانا کی سیاست ہمیشہ ملک کیلئے تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔

کس کو یاد نہیں کہ مولانا نے ایک آمر پرویز مشرف کا کھل کر ساتھ دیا تھا اوربدلے میں خوب فوائد سمیٹے۔ اس کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو مولانا نے ایک بارپھر اپنی خدمات پیش کر دیں اور قیمت وہی ”اپنے فوائد “ کہاں پیپلزپارٹی کا نظریہ، طرز عمل اور سوچ اور کہاں مولانا کی مذہبی سیاست کا نظریہ مگر مولانا کو اس سے کیا؟ ان کا مرکزی نقطہ نظر ”اقتدار اور پیسہ“ چونکہ دونوں پارٹیوں میں مشترکہ تھا اس لیے مولانا نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیے اور وہ کشمیر کمیٹی جیسی پرکشش کمیٹی کے چیئرمین بن گئے۔ کہنے کو یہ صرف کشمیر کمیٹی ہے، کشمیر کاز کو آگے بڑھانے کیلئے بنائی گئی ہے مگر اس میں جو مراعات انہیں حاصل تھیں وہ ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ مو لانا فضل الرحمان نے 36 ممبران پر مشتمل اس کمیٹی کے چالیس سے زائد اجلاس بلائے مگر ایک ٹکے کا بھی فائدہ پاکستان اور کشمیریوں کو نہ ہوا۔ مولانا کی بات عالمی دنیا نے بھلا کہاں سننی تھی، الٹا کشمیر پر اس کا منفی اثر ہوا، زرداری صاحب خاموش تماشائی بنے رہے۔ مولانا کی کشمیر ایشو پر خاموشی تو ایک طرف رہی الٹا مولانا پانچ سال میں کروڑوں روپے ڈکار گئے۔ وطن عزیز کے ساتھ مولانا نے کیسے کیسے مذاق کیے اس کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی ہوجاتا ہے کہ مولانا نے پیپلزپارٹی کے اسی دور میں اپنے بھائی مولانا عطاءالرحمن کو وفاقی وزیر سیاحت بنوا دیا جس کے بعد ملک میں سیاحت کا بیڑہ غرق ہوگیا مگر مولانا کے وارے نیارے رہے۔ اپنی بلا سے بوم رہے یا ہما رہے.

2013 ءکے انتخابات کے بعد ن لیگ کی حکومت آئی تو ایک بار پھر مولانا کی قسمت جاگ اٹھی چونکہ دونوں کا مرکزی نظریہ یعنی ”اقتدار اور پیسہ“ مشترک تھا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو نہ صرف کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا بلکہ ایک اور درجہ بڑھا کر ان کے عہدے کو وفاقی وزیر کے برابرکر دیا۔ اس دوران بھی مولانا کا سارا فوکس ”مال“ بنانے پر رہا۔ 2013ء سے 2018ء تک کشمیر کمیٹی 25 کروڑ سے زیادہ ڈکار گئی، جبکہ پہلے تین سال یعنی 2013ء سے 2016ء تک صرف تین اجلاسوں میں 18کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اس کے علاوہ بھی مولانا کی اقربا پروری اور لوٹ مار کی ایک طویل داستان ہے۔ صوبائی، قومی اور سینٹ کے ٹکٹ گھر میں رہے اور قریبی رشتہ داروں کو خوب نوازا گیا۔ مولانا نے اپنے چھوٹے بھائی ضیاءالرحمن کوجو پی ٹی سی ایل میں ایک معمولی انجینئر تھے 2005ء میں وزیر اعلیٰ کے ذریعے افغان ریفیوجیز کمیشن میں ڈائریکٹر پراجیکٹ کے عہدے پر تعینات کرادیا۔ مولانا کی جماعت کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے دو سال بعد ہی قوانین کا مذاق اڑاتے ہوئے موصوف اسسٹنٹ انجینئر ضیاء الرحمن کوخصوصی طور پر سول سروس کا حصہ بنا دیا۔

2013ءمیں ن لیگ کی حکومت کے آنے کے بعد مولانا نے اپنے بھائی کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا حصہ بنوا دیا۔ اس کے بعد وہ ڈی سی او خوشاب بن گئے۔ یہ ملکی تاریخ کی نادر مثال تھی کہ سول سروس کا امتحان دیے بغیر ایک شخص نہ صرف سول سروس کا حصہ بنا بلکہ ڈی سی اوربھی لگ گیا۔ مولانا کے اس بھائی کی ”کرامات“ جاری رہیں جس پر قانون لمبی تان کر سوتا رہا۔ معلوم نہیں مولانا نے اسلام کی کون سی شق کا استعمال کرتے ہوئے مربعوں کے لحاظ سے زمینیں الاٹ کرالیں۔
تم قتل کروہو کہ کرامات کروہو.

مولانا کوپٹرول پر مٹ دیے جانے کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ روس، افغان جنگ میں پاکستان طالبان کو سپورٹ کر رہاتھا، باقی امداد کیساتھ فیول دینے کیلئے ٹھیکہ دینے کی باری آئی تو مولانا ہاتھ پھیلا کر سامنے آگئے کہ ٹھیکہ مجھے دیا جائے اور وہ کوڑیوں کے مول یہ ٹھیکہ لینے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ اور بات ہے کہ اب مولانا کوپٹرول کی بجائے ”ڈیزل“ کہہ کر چھیڑا جاتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ جمہوریت زندہ رہی مگر ادارے تباہ ہوتے گئے۔

دیکھا جائے تو مولانا نے مذہبی لحاظ سے بھی ملک کو خوب نقصان پہنچایا۔ ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دی گئی۔ اپنے نظریہ کے مدرسوں کا جال بچھایا۔ جہاں صرف شدت پسندی کی ہی تعلیم دی جاتی رہی اور مدارس کے طلبہ کو سیاست کیلئے استعمال کیا گیا۔ مولانا کی بے تحاشا لوٹ مار کے سامنے بند تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے باندھا۔ عمران خان نے مولانا کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا، چونکہ مولانا ملک میں مضبو ط پریشر گروپ رکھتے تھے۔ کسی میں بھی جرات نہ تھی کہ وہ کھل کر مولانا کیخلاف بات کرے۔ اپنے آپکو سیاست کے گرو کہنے والے آصف زرادری اور نواز شریف بھی مولانا کے سامنے بھیگی بلی بنے نظر آتے تھے۔ حتیٰ کہ اسٹیبلشمنٹ بھی مولانا کے پریشر گروپ کے سامنے بے بس تھی۔ عمران خان کی تنقید کے بعد مولانا کا گراف نیچے آتا گیا۔ 2018ء کے انتخابات میں مولانا کو شکست فاش ہوئی، جس کے بعد مولانا کی مزاحمتی سیاست کا آغاز ہوا۔ اب مولانا حکومت گرانے کے مشن پر ہیں چونکہ مولانا کا نظریہ “اقتدار اور پیسہ“ ان کو چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا اور وہ حکومت گرانے کی بھڑکیں مار رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ سمیت ملکی ادارے مولانا کی چالوں اور پریشر گروپ سیاست سے بخوبی آگاہ ہیں۔ مولانا کی موجودہ سیاست کا مقصد حکومت گرانا ہرگز نہیں بلکہ وہ بھی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی طرح ”لوٹا مال“ بچانے کیلئے ہاتھ پاوں ما رہے ہیں۔ مولانا مزاحمتی کردار کے ذریعے نیب اور دوسرے اداروں کے ہاتھ خود سے دور رکھنا چاہ رہے ہیں۔ مولانا چاہتے ہیں کہ کسی طرح حکومت کیساتھ انکے معاملات سیدھے ہوجائیں اور انکا ”کمایا“ مال بھی بچ جائے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے برعکس مولانا کے پاس سٹریٹ پاور (جس میں اکثریت مدارس کے طلبہ کی ہے جو کمٹڈ ہوتے ہیں) بھی ہے جس کو مولانا ہوا بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ مولانا بخوبی جانتے ہیں کہ وہ نہ تو حکومت گرانے کی پوزیشن میں ہیں اور نہ ملکی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ اس کے حق میں ہے۔

مولانا اگر لانگ مارچ یا احتجاج کرتے ہیں تو اپنا سر دیوار سے ٹکرانے کے مترادف ہوگا جس میں نقصان صرف مولانا کا ہوگا۔ مگر مولانا کی بد قسمتی کہ ان کے سامنے عمران خان ہیں، نواز یا زرداری نہیں اور عمران خان کسی بھی صورت مولانا کی بلیک میلنگ اور شاطرانہ چالوں میں آنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ قوی امکانات ہیں کہ چند دنوں میں مولانا کو نیب گرفتار کر لے گی۔ مولانا کا رویہ زیادہ سخت ہوا تویہ بھی امکانات ہیں کہ مولانا کی جماعت پر شدت پسندی کا لیبل لگاتے ہوئے اس پر پابندی لگا دی جائے اور شاید عالمی طاقتیں بھی اسکی تائید کریں ۔کیونکہ فی الوقت مولانا کی سیاست بدلتی دنیا کے ساتھ ہم آہنگی اور مطابقت نہیں رکھتی۔ بہر حال آنے والے دن مولانا کی بقا وفنا کے حوالے سے بہت اہم ہیں جس میں انکے بچنے کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں