239

قربانی کی کھالیں اور مستقبل کے علماء ۔۔۔۔ (رانا اسامہ علی)

تحریر: رانا اسامہ علی۔

گزشتہ روز شہر کے ایک معروف چوک پر ٹریفک جام تھا، دوپہر کے دو بجے کا وقت، سورج کی جھلسا دینے والی تپش اور سارے دن کی تھکا دینے والی مصروفیت کے باعث اوسان مضمحل تھے۔ وہیں رش میں کھڑے کھڑے دھیان بھٹکانے کو نظریں اِدھر اُدھر لگے بینرز پر دوڑانے لگا۔ سبھی کی تحریریں تقریباً ایک جیسی تھی کہ “قربانی کی کھالیں ہمارے مدرسے کو دیں”۔ اِن بینرز کو پڑھ کر اچانک ایک سال قبل بقرعید کے دن کا منظر آنکھوں کے سامنے دوڑ گیا۔ جب میں عید کے دن کسی کام سے گھر سے باہرنکلا تو کچھ ہاتھا پائی کرتے بچوں پر نظر گئی۔ جن کے لباس تقریباً ایک جیسے تھے، ہاں البتہ ان کے سروں پر رکھے ہوئے عماموں کا رنگ یکسر مختلف تھا۔ میں نے ان کے پاس پہنچ کر معاملہ دریافت کیا تو ان میں سے ایک مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا “حافظ جی اے ساڈا محلہ اے ۔۔۔ ایتھوں اسی کھلاں لے کے جانیاں نے۔۔۔”، (حافظ جی یہ ہمارا محلہ ہے، یہاں سے ہم نے کھالیں لے کے جانی ہیں)۔ تبھی دوسرے گروہ میں سے ایک ذرا بڑے قد کا لڑکا بولا، “حافظ جی محلے ونڈے نئی ہوئے۔۔۔” (حافظ جی محلّوں کی تقسیم نہیں ہے)۔

وہ بچے میرے ظاہری حلیے سے شاید مجھے حافظِ قرآن سمجھ رہے تھے۔ اُن بچوں کی عمریں بمشکل تیرہ سے اٹھارہ سال کے درمیان تھیں۔ میں نے دونوں فریقین کے بیان سننے کے بعد ایک کے حق میں فیصلہ دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا۔ چونکہ وہ خود مجھے ثالث مقرر کر چکے تھے، اس لیے دوسرا گروہ بھی چپ چاپ اپنے رستے ہو لیا۔ اچانک پاس کھڑی ایک بائیک کے ہارن کی آواز سے سوچوں کا تسلسل ٹوٹا اور میں حال کی گھڑی میں آن پہنچا۔ آہستہ آہستہ وہ رش تو وہاں سے ختم ہو گیا، لیکن سوچوں کا رش دماغ میں بڑھتا چلا گیا۔

گھر آکر آرام کرنے کی غرض سے لیٹا لیکن سوچوں کا ایک ہجوم تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اور بار بار ایک ہی سوال ذہن میں گردش کر رہا تھا، کہ کیا اس سال بھی کئی بچوں کی عید کھالیں اکٹھی کرنے میں ہی گزرے گی۔۔۔؟
اقبال نے اسی لیے کہا تھا:

؂ “اے طا رٔ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی “

اور یہاں اگر بات کی جاےٗ تو پرواز میں کوتاہی تو بڑی معمولی چیز لگتی ہے۔ یہاں تو پرواز کا ہنر سکھا کر سرے سے پر ہی کاٹے جا رہے ہیں

یہی طلباء جب بڑے ہوتے ہیں اور امام مسجد یا خطیب کا عہدہ سنبھالتے ہیں تو جمعرات کو مختلف گھروں سے روٹیاں لانے میں انہیں عار محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ اپنی عزتِ نفس کو کئی سال پہلے ہی مدرسے کی چٹائی کے نیچے دفن کر چکے ہوتے ہیں، یوں محلّے کا ہر انسان بظاہر تو اُن کی عزت کرتا ہے لیکن محلّے کا بچہ بچہ اس امام مسجد کو کمتر سمجھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ امام صاحب کی روٹی ہمارے گھر سے جاتی ہے۔ اس طرح ایک انسان کی عزتِ نفس اور خود داری کا جنازہ بڑی خاموشی سے بنا تکبیر پڑھے نکال دیا جاتا ہے۔ سارا سال جن طلباء کو قرآن و سنّت کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ حکایاتِ سعدیؒ، مثنوی رومیؒ کے اسباق اور اقبالؒ کی تعلیماات پڑھا یٔ جاتی ہیں، سال کے ختم ہوتے ہی اُن سے وہ سارے اسباق چھین کر اُنہیں کھالیں مانگ کر لانے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ تو کیا وہ سارے اسباق صرف اور صرف لفظی اوراق تک ہی محدود ہوتے ہیں۔۔۔؟؟؟ اس طرح سے پڑھے ہوۓ علماء سے کیا بعید ہے کہ وہ مستقبل میں چند ٹکوں کے عوض فتوٰی نہ بیچیں گے۔۔؟؟

ہمارے معاشرے میں امید کی جاتی ہےکہ جب بھی دینی اعتبار سے ہمیں کوئی مسٔلہ در پیش آئے گا تو علماء حضرات کے پاس ہمارے مسٔلے کے حل میں علوم کے سمندر ہوں گے، اور وہ ہاتھ بھر بھر کر ہمیں اُن خزانوں سے مستفید کریں گے۔ لین ہم اُنہیں ہاتھوں کو لوگوں کے سامنے پھیلنا سکھا رھے ہیں۔

ہمارے علماء حضرات ہمارے دینی رہبر ہیں۔ اور دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے ان بچوں نے بھی آگے چل کر ہماری نسلوں کا رہبر بننا ہے۔ اِس طرح اِن کی عزتِ نفس کو مجروح کر کے ہم اپنے ہی رہبروں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اور یاد رکھیں، جس معاشرے میں گمراہ رہبر پیدا ہوں، وہاں قافلے رہزنوں کا ہی شکار ہوتے ہیں۔
اللہ ہمارے حال ہر رحم فرماۓ (آمین!)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں