216

ہم لے کے رہیں گے آزادی ….. (ملک دلاور سلطان ڈھکو)

تحریر: ملک دلاور سلطان ڈھکو

ہم لے کے رہیں گے آزادی
تجھے دینی پڑے گی آزادی

مودی کو ایوارڈ دینے کاوقت انتہائی غلط اور کشمیر کاز کو نقصان دینے کی عالمی سازش ہے اب ہم ترکی اور ایراان اسلامی اور عربی لبرل بن چکے ہیں، ویسے ہمارے تمام نام نہاد عالمی رہنماؤں سے تو کانگریسی راہول گاندھی اچھا رہا جس نے کشمیر جا کر موجودہ صورتحال دنیا کو دکھائی اور پوری عالم میں دیکھا گیا کہ کشمیر میں کیا ھو رہا ہے؟ کرفیو کی آڑ میں! جبکہ اس نازک صورتحال میں نام نہاد امّہ نے شدید تحریک کو گزند پہنچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر بھارت نے ہماری طرف انگلی اٹھائی تو اس کے ہاتھ توڑ دیں گے، جنگ کے لیے ہماری فوج اور بچہ بچہ تیار ہے، ایسی اسلامی لیڈرشپ کا کیا فائدہ جو اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کے ساتھ نہیں کھڑی ہو سکتی.

کشمیر میں پچیس روز ھو چکے ہیں کرفیو کو، زندگی مفلوج ہے، ساری قیادت کو سمیت دو سابقہ وزرائے اعلی اندر ڈال رکھا ہے، امریکا سمیت کوئی بھی ان کی بات نہیں کر رہا، جب سے ٹرمپ نے یہ ثالثی والی بات کی ہے تب سے ظلم انڈیا کی طرف سے تیز ھو گیا اور معاملہ عام فہم بندے کی سمجھ سے اوپر چلا گیا ہے اور خاص کر وہ جو امّہ بنی پھرتی ہے اس نے قاتل مودی کو اپنا اعلی ترین ایوارڈ دے کر تمام دنیا کے اصل اور غیرتمند مسلمانوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں.

اب بہت کٹھن مرحلہ ہے، آگے چل کر اب شاید ہماری لیڈر شپ کو عربوں کے بغیر کچھ فیصلے لینے پڑ جائیں، تو کیا ہم لے پائیں گے؟ اس حکومت اور خاص کر خان کے کافی امتحان آنے والے ہیں ان چیزوں پر بھی جہاں معیشت کے مسائل ہیں وہاں ان کا بھی سامنا ھو گا جو کہ صورتحال گھمبیر کر سکتا ہے، دلیری اور تسلسل کی ضرورت ھو گے، شاید مستقبل میں باتوں سے کام نہ چل سکے اور ٹویٹر و سوشل میڈیا بھی کارآمد نہ ہو سکیں، حقیقی اور بڑ ے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا کپتان کے لیے ان سے نپٹنے کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کرنا ھو گی.

اسے حکومت مشکل حالات میں ملی، انڈیا نے بھی لشکر کشی کر کے اور مظلوم مسلمانوں پر ظلم پڑھا رکھا ہے. پاکستانی عوام اور ریاست ہمیشہ کشمیریوں کا ساتھ کھڑ ے رہیں گے چاہے تمام ممالک انڈیا کا ساتھ دیں، لیکن ہم کشمیری بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتے. کوئی بتاؤ ان کو کہ آزادی کی جدوجہد اور دہشتگردی میں فرق ہے. کشمیر کے معصوم بچوں اور شہریوں پر وحشیانہ تشدد دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسے میں نوابزادہ نصر اللہ خان کی کشمیر پر لکھی مشہور نظم ”کشمیری مجاہد کے جذبات” کا شعر یاد آتا ہے کہ:

پھر شورِ سلاسل میں سرورِ ازلی ہے
پھر پیشِ نظر سنتِ سجادِ ولی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں