255

عمران خان نے کشمیر بیچ دیا؟ ۔۔۔۔ (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

جھوٹ کو اس قدر شدت اور تواتر کیساتھ بولا جائے کہ سچ کا گمان ہونے لگے۔اس کو پراپیگنڈہ کہتے ہیں۔(یہ اور بات ہے کہ مثبت مقاصد کیلئے بھی پراپیگنڈا ماڈل استعمال کیا جاسکتا ہےمگر زیادہ تر یہ منفی مقاصد کیلئے ہی استعمال کیا جاتا ہے)۔نوم چومسکی کا پروپیگنڈہ ماڈل دوران تعلیم ہماری خصوصی دلچسپی کا باعث بنتا۔آج دنیا اس ماڈل پر تواتر اور انتہائی ڈھٹائی کیساتھ عمل کر رہی ہے۔خاص طور پر مغرب نے تو پراپیگنڈہ ماڈل کا خوب استعمال کیا۔امریکہ کی تمام جنگوں کی بنیاد ہی یہ ماڈل رہا ہے۔عراق سے لیکر افغانستان تک جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں اس سب کے پیچھے طاقتور پراپیگنڈہ تھا جس کو عالمی میڈیا کے ذریعے شدومد کیساتھ اقوام عالم تک پہنچایا گیا اور انکی ہمدردیاں سمیٹ کر حملوں کی راہ ہموار کی گئی ۔”مسلمان دہشت گرد”ہیں یہ پراپیگنڈا یعنی سفید جھوٹ بھی مغرب کی اختراع ہے۔

اسلام جو کسی بھی صورت جھوٹ ،بہتان کی ممانعت کرتا ہے اسکے باوجود اسلامی ممالک میں بھی پراپیگنڈہ ماڈل استعمال کیا جاتا ہے۔آجکل کچھ حکومت مخالف جماعتیں اور کچھ مخصوص طبقات یہ رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کشمیر کا سودا کر آئے ہیں۔یہ پراپیگنڈا اس قدر طوالت کیساتھ کیا جا رہا ہے کہ کچھ بھولے بادشاہ اس پر یقین کر بیٹھتے ہیں۔
پہلے بات تو یہ ہے کہ اتنا بڑا فیصلہ اکیلا عمران خان نہیں کرسکتا اور نہ اسکے بس کی بات ہے۔پاک فوج کی پالیسی کا محور ہی کشمیر ہے۔(کچھ لوگ لال ٹپکاتے رہتے تھے کہ پاک فوج کشمیر کی آڑ میں اتنا بجٹ کھا رہی ہے)آج انہوں نے ایک سو اسی کے زاویہ سے پلٹا کھایا اور آج وہ کہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف بھی کشمیر بیچنے والوں میں شامل ہیں۔اگر پاک فوج کشمیر پر ہی بجٹ کھا رہی ہے تو اسے کشمیر بیچنے کی کیا ضرورت ہے مگر پھر وہی ایسے الزامات لگانے والوں کو شرم محسوس ہوتی ہے اور نا حیا۔فوج تو چاہے گی یہ مسئلہ طوالت اختیار کرے پھر وہ کشمیر بیچنے پر کیونکر رضامند ہوتی؟ الزامات لگانے والوں نے تو منافقت کی انتہا کردی ہے۔

وطن ہر کسی کو جان سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔وزیر اعظم کے عہدے تک ہر ایرا غیرا نتھو کھیرا نہیں پہنچ سکتا ،ہزار قسم کے درپردہ امتحانات ہوتے ہیں جنکو پاس کرکے ہی کوئی شخص مسند اقتدار پر براجمان ہوتا ہے۔جتنے بھی صدر، وزیر اعظم آئے انکی کارکردگی پر تو بحث کی جاسکتی ہے مگر ان پر یہ الزام عائد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ملک کیساتھ مخلص نہیں تھے یا کسی طرح کی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث رہے ہوں۔تمام حکمران ملکی سلامتی پالیسی کو من و عن فالو کرتے رہے( سوائے نواز شریف کے جنہوں نے قومی و سلامتی پالیسی کو ایک طرف رکھتے ہوئے بھارتی وزیراعظم مودی اور وہاں کے بزنس ٹائیکون کیساتھ ذاتی اور تجارتی نوعیت کے تعلقات قائم کیے۔قومی سلامتی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور پراپر چینل کے بغیر بھارتی وزیر اعظم کو اپنی نواسی کی شادی پر رائیونڈ بلایا جس پر قومی سلامتی کے ادارے سٹپٹا اٹھے ۔بالاخر میاں صاحب انجام سے بھی دور چار ہوئے)۔

قائد اعظم کے فرمان کے مطابق کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔اور اس پالیسی کو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ من و عن لیکر چلے اور ہمیشہ چلیں گے۔کشمیر بیچنے کا پراپیگنڈا کرکے ہم اپنے اداروں کی توہین کر رہے ہیں۔یہ الزام نواز شریف پر تو عائد کیا جاسکتا ہے جنہوں نے بھارتیوں کیساتھ ذاتی راہ و رسم بڑھائے ،ملک کی تباہی میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ادارے تباہ و برباد کر دیے۔آج مودی جو ناپاک منصوبے بنا رہا ہے اسکے پیچھے بڑا ہاتھ پاکستان کی کمزور معیشت کا بھی ہے جس کا سہرا بہرحال مودی کے یار نواز شریف اور پیپلزپارٹی کو ضرور جاتا ہے جو پچاس سال سے اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے تھے۔

یہ سوال بھی تشنہ طلب ہے کہ عمران خان کشمیر کیوں بیچے گا؟پیسے کی ہوس اس انسان میں نہیں ہے۔ڈرتا وہ کسی سے ہے نہیں۔جھوٹ کو سخت ناپسند کرتا ہے۔اسلام اور مسلمانوں کا شیدائی ہے اور مسلمانوں کی چھوٹی سی تکلیف پر وہ تڑپ اٹھتا ہے۔بھارتی جنونیت کو جتنا اس نے آشکار کیا شاید ہی پہلے کسی نے کیا ہو۔ایسا انسان کشمیر خرید تو سکتا ہے پر بیچ کبھی نہیں سکتا۔

رہی بات مودی کی تو وہ سرٹیفائیڈ ہٹلر ہے۔حیدر آباد میں ظلم ڈھائے اس وقت بھی عمران نے کہا تھا؟بھارت میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئی ہے ،وہ بھی عمران یا فوج کی سازش ہے؟آر ایس ایس کی پیداوار بھارتی حکومت جنونیت کی تمام حدیں پار کر گئی ہے۔کشمیر پر قبضہ آر ایس ایس اور مودی کی برہنہ چال ہے جو صرف آر ایس ایس کے نظریے پر چلی گئی اور ہم ہیں کہ مودی کی شاطرانہ چالوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنے اداروں کو مظبوط کریں الٹا ہم اپنی منفی تنقید سے اداروں کا مورال ڈاون کر رہے ہیں۔کشمیر کو بیچنا تو دور کی بات کوئی حکومت ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔نوے کی دہائی کے بعد ایک بار پھر ہماری حکومت ادارے اور عوام ایک پیج پر ہیں اور کشمیر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ہمارا میڈیا جو دکھا رہا یہ کشمیر سے بے پناہ محبت اور عقیدت کی ترجمانی اور ہماری کشمیر پالیسی ہے، اس سے واضح ہوگیا ہے کہ کشمیر پر ہم پہلے سے زیادہ کمٹڈ ہیں۔کشمیر بیچنے والی حکومت ایسا ماحول نہیں بناتی جو اس کے ہی گلے پڑ جائے،تھوڑا سا صبر کریں ،ایک چال مودی نے چلی ،ایک چال ہم چلیں گے اور انشاءاللہ اس چال سے مودی کو عبرتناک شکست ہوگی،بس تھوڑا سا صبر اور اداروں کا ساتھ، انشاءاللہ کشمیر کا بیڑا پار کرادے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں