193

پاکپتن: دنیا بھر میں سالانہ 32 کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہو رہے، افضل بشیر مرزا، دپپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر.

پاکپتن (ولی محمد شاکرسے) ہیپاٹائٹس سے پاکستان میں اڑھائی لاکھ افراد اوردنیا بھر میں 14لاکھ سے زائد لوگ اس مرض سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں بروقت ٹیسٹ اور علاج سے جان بچ سکتی ہے مرض قابل علاج ہے دنیا بھرمیں ٹی بی کے بعد دوسری بڑی جان لیوا مرض ہے پاکستان میں ہر نوواں شخص ہیپاٹائٹس کا مریض ہے دنیا بھر میں سالانہ 32 کروڑ سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر آفیسر افضل بشیر مرزا نے پاکپتن ہومیو پیتھک اینڈ پیرا میڈیکل کالج میں ہیپاٹائٹس کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے کیا.

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

انجمن فلاح مریضاں کے صدر ڈاکٹر شاہد مرتضی چشتی نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے جبکہ تقریب سے منیجر پرائمری سکینڈری ہیلتھ سید عامل شاہ پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل حکیم لطف اللہ پریس کلب پاکپتن کے صدر وقارفرید جگنو میڈیکل سوشل آفیسر سید شبیر الحسن شاہ، اسسٹنٹ منیجر زاہد قادری، پاکپتن ہومیوپیتھک میڈیکل ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر ہومویپیتھک ڈاکٹراحمد شیر کانجو، پروفیسر محسن رضا جوئیہ، پرنسپل ڈاکٹر محمود ریاض جوئیہ نے بھی خطاب کیا.

مقررین نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کی کل پانچ A,B,C,D,E اقسام ہیں خطرناک اقسام میں BاورC شامل ہیں پاکستان میں ہیپاٹائٹس A عام ہے جس کا وائرس منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اسکی وجہ آلودہ پانی گندے ہاتھ سیوریج کے پانی سے تیار سبزیاں ناقص غذا سے پھیلتا ہے ہیپاٹائٹسB اورCکا وائرس زخم استعمال شدہ سرنج استعمال شدہ بلیڈ یا غیر تصدیق شدہ خون،دانتوں کا علاج معالجہ،کان ناک چھدواناآلودہ جراثیم زدہ اوزاروں کے استعمال سے ہو سکتا ہے سینٹری ورکرز کام کرتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں نیل کٹر ٹوتھ برش کنگھا وغیرہ کسی اور کاہرگزاستمال نہ کریں ہیپاٹائٹسB کے حفاظتی انجکشن لگواتے رہیں علامات کی صورت میں فوری ٹیسٹ کرائیں پنجاب میں اس وقت 116 کلینک موجود ہیں جہاں بالکل مفت علاج اورسکریننگ کی سہولت موجودہیں اس وقت نوجوانوں میں ہیپاٹائٹسEاوربچوں میں ہیپاٹائٹسAزیادہ ہے پانی ہمیشہ صاف اور ابال کر پئیں ناقص غذاغیر معیاری ادویات غیرمستند معالج سے بچیں بازاری رہڑیوں ٹھیلوں پرکٹے پھل کھلے عام مشروبات سے اجتناب کریں سماجی سطح پر مہم کا آغاز کریں سکول کالجز درسگاہیں عالِم دین اساتذہ مائیں سماجی تنظیمیں اور میڈیا اپنا اپنا کردار ادا کرے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں