224

شوبز اور ہماری ثقافت …. (تسلیم شیخ، ساہیوال)

تحریر: تسلیم شیخ، ساہیوال.

ہماری پاکستانی ثقافت اور پاکستانی میڈیا کا تو کوئی رشتہ ہی نہیں۔ کیونکہ ہماری میڈیا کا تعلق تو ہندوستانی ثقافت سے ہے۔ لیکن میں زرا پہلے پاکستانی ثقافت پر روشنی ڈال لوں. پھر میڈیا پر بات کرتے ہیں۔ ہم ہیں پاکستانی. ماشاءاللہ سے اور بہت اچھے مسلمان بھی ہیں اور مسلمان ہونے کے ناطے ہماری لڑکیوں کی ثقافت شلوار قمیض اور دوپٹہ ہے۔ خوبصورت کڑھائی سے بنا ہوا دوپٹہ۔ پاکستان کے چار صوبے ہیں اور ہر صوبے کی ثقافت الگ۔ اوڑھنا بچھونا الگ۔ مگر ایک بات جو چاروں صوبوں میں مشترک ہے وہ ہے دوپٹہ۔ خوبصورت رنگوں سے مزین دوپٹہ. چاہے صوبے کی عورتیں قمیض شلوار پہنیں۔ خوبصورت فراک پہنیں یا نفیس سا کڑھائی والا کرتا پہنیں مگر دوپٹہ ضرور لیتی ہیں۔ کیونکہ دوپٹہ ہماری ثقافت کا حصّہ ہے۔ جو اب میڈیا کے آنے کے بعد برائے نام رہ گیا ہے، نہیں نہیں بلکہ اب تو نظر ہی کم آتا ہے۔ جہاں میڈیا بہت سارے ترقیاتی کام کر رہا ہے اور ہم سب کو فائدہ پہنچا رہا۔ وہیں نقصان بھی عروج پر پہنچ رہا.

میڈیا بے لگام زیادہ ہی ہوگیا ہے. جہاں کسی غریب کی حق کی آواز کے لیے بولتا ہے۔ وہیں پہ بے حیائی کو بھی عوام تک بخوبی پہنچا رہا ہے۔ ہمارے میڈیا کا ہی اثر ہے کہ آج کل کر لڑکی خود کو اداکار سمجھتی ہے اور جو اداکار وغیرہ کرتی ہیں. وہی کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اداکارہ دوپٹہ لینا ضروری سمجھتی ہی نہیں۔ بلکہ یہ کہوں گی کہ وہ کپڑے بھی پورے پہننا ضروری نہیں سمجھتی۔ میں ایک لڑکی ہو کر ان کو دیکھتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہوں. مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ان اداکاراوں کے گھر والوں کی شرم کہاں گئی؟ ان کی ثقافت؟ ان کا مسلمان ہونا؟ کدھر گیا؟ فلموں، ڈراموں میں تو چلیں ایکٹنگ کرنی ہوتی ہے وہ توچلے گی (حالانکہ کہ یہ اچھی بات نہیں) مگر یہ جو نیوز کاسٹرز خواتین کو دیکھ لیں۔ ایسے لگتا کہ جیسے نیوز نہیں۔ ماڈلنگ کرنے آئی ہوں۔ دوپٹہ سر پر تو دور انہوں نے تو گلے میں بھی نہیں لیا ہوتا۔ بلکہ گلے میں بھی دوپٹہ لینا اپنی توہین سمجھتی ہیں۔ میں پوچھنا یہ چاہتی ہوں کہ کیا ہماری تعلیم، ہماری ثقافت، ہمارا مسلمان ہونا۔ ہمیں یہ سب کچھ سیکھاتا ہے؟ کیا ہماری ویلیوز اتنی لو سٹینڈرڈ کی ہوگئی ہیں۔ کہ ہم دوپٹہ اتار لینے کو ماڈرنلزم کہتے ہیں.. کیا اسے ماڈرن ہونا کہتے ہیں۔ یعنی سرپر سے دوپٹہ اتار لینا یا لینا ہی نا۔ یہ ماڈرن ہونا ہے.. تو پھر میں ان پڑھ جاہل ہی اچھی ہوں۔

مجھے ماڈرن نہیں کہلوانا۔ دوپٹے اتار کر سڑکوں پر کھلے عام گھومنا اور پھر اگر مرد کچھ کہ دیں.. تو پھر کہنا یہ ہمیں گندی اور غلیظ نظروں سے دیکھتے ہیں. تو پھر میری بہنوں آپ دعوتِ نظارہ دے ہی کیوں رہی ہو کہ وہ آپ کو ایسی گندی نظروں سے دیکھیں اور آپ کو ہراساں کریں۔ پہلے میڈیا کے نقشِ قدم پر چلنا چھوڑ دو۔ یقین کرو۔ فلاح پالو گی۔ ہمارا میڈیا اتنا بے لگام ہوگیا ہے کہ اگر کسی عورت کا جسم نظر بھی آ جائے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں اور مجھے حیرت ہے ان پر بین کیوں نہیں لگتا؟ کوئی ان کو پوچھتا کیوں نہیں؟ کیا سبھی ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں؟

انڈین پنجابی موویز اگر دیکھیں۔ تو ان کی ثقافت دکھائی جاتی ہے۔ ان کا رہن سہن دکھایا جاتا ہے۔ اگر کوئی سونگ ہوتا۔ تو بے ہنگم ناچ نہیں ہوتا۔ جیسے ہماری پاکستانی موویز دیکھ لیں۔ تو موٹی تازی ایکٹریس اپنے جسموں کی نمائش بڑے دھڑلے سے کر رہی ہوتی ہیں اور گاؤں کی کچی زمین بھی رب کے آگے تب پناہ مانگتی ہے۔ بلکہ وہ کہتی ہوگی۔ میرے ربّا کی گناہ ہوگیا ساڈے کولوں۔ یعنی ہماری ثقافت کو پیروں تلے روندنے کی تھوڑی سی بھی کسر نہیں چھوڑی۔ یعنی ہماری ثقافت کو اس قدر بے مول کر دیا گیا ہے کہ لوگ ہم پاکستانیوں کو نا پسند کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں لاہور اور کراچی کی لڑکیاں بگڑی ہوئی ہیں اور ٹائٹس اور ٹی شرٹس پہنتی ہیں اور ہماری ثقافت سے دور دور تک ان کا کوئی تعلق ہی نہیں۔مگر میں یہاں یہ کہوں گی یہ قصور میڈیا کا ہے اور ان والدین کا ہے جو اپنے بچوں پر توجہ نہیں دیتے اور پھر وہ بچے اپنی ثقافت کو چھوڑ کر ہندوستانی ثقافت کو اپنا لیتے ہیں۔ اس ملٹی میڈیا کی وجہ سے۔

انڈیا کی ایک مشہور مووی p. K میں جب پاکستانی نیوز کاسٹر کا رول آیا۔ تو نیوز کاسٹر کے سر پر دوپٹہ تھا۔ یعنی ان کو پتا ہے کہ ہم مسلمان ہے ۔ ہماری ثقافت کیا ہے۔ مگر شائد ہم بھول گئے کہ ہم کیا ہیں؟ انڈیا کی موویز میں ان کے مندر دکھائے جاتے۔ وہ وہاں عبادت کرتے ہیں اور ہمارا میڈیا اکا دکا یا شائد ہماری عبادت، ہمارے رسم و رواج سب بھول گئا ہے۔ ہمارا میڈیا نوجوان نسل کو صرف بگاڑ رہا ہے۔ سنوار نہیں رہا، افسوس۔ نا جانے ہمیں شعور کب آئے گا؟ کب ہم اپنے پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت دیں گے؟ یا شائد ہم نے بس کتابوں کو پڑھنا ہی تھا، بس ڈگریاں لینی تھیں۔ ہمارا کلچر کیا ہے؟ اس کے بارے میں نا تو عمل کرنا ہے اور نا ہی دوسروں کو ترغیب دینی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے.. آمین ثم آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں