282

بے حس وزیر اعظم ۔۔۔ (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

میانوالی کے چند صحافیوں کے ساتھ ہم اس گھر میں پہنچے تھے جس کے بارے میں ہمیں بتایا گیا کہ یہ عمران خان کا آبائی گھر ہے۔ ایک چھوٹا سا مین گیٹ اور بر آمدہ اور چند کمروں پر مشتمل معمولی نوعیت کاگھر تھا۔ اس سے تو اچھا گھر ہمارے گاؤں کے نائب ناظم کا تھا۔ حیرانی ہوئی کہ اس معمولی سے گھر سے خان صاحب کے والدین لاہور کے پوش علاقے میں محل نما گھر تیار کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟ یہ اور بات ہے کہ موصوف وزیر اعظم کے والد کی کرپشن کی کہانیاں بھی زبان زد عام ہیں۔ ایک موجودہ ایڈیشنل آئی جی کے والد صاحب پٹواری تھے۔ انہوں نے 50 مربع زمین اوکاڑہ میں بنا لی، دوسری طرف ایڈیشنل آئی جی صاحب انتہائی ایماندار اور اصول پسند پولیس افسر ہیں۔ میں نے یہ سب باتیں بتانے والے دوست سے پوچھا کہ کم از کم ایڈیشنل آئی جی صاحب تو ایماندار ہیں ناں! دوست نے زوردار قہقہہ لگایا اور کہنے لگا یار جس بندے کے پاس 50 مربع زمین ہوگی وہ کیونکر چھوٹے موٹے ہاتھ مارے گا، اس کے حصے کا کام اس کے والد صاحب انجام دے گئے ہیں۔ اسی طرح خان کے حصے کا کام بھی ان کے والد صاحب نے سر انجام دے دیا ہے تو خان صاحب کو کیوں زحمت اٹھانا پڑتی؟ ویسے بھی خان صاحب نے پلے سے کبھی ٹکا نہیں لگایا۔

خان صاحب چھوٹے تھے تو والدین ان کا خرچ اٹھاتے رہے۔ جناب عمران خان برطانیہ میں دوران تعلیم ہی کاؤنٹی کھیلتے رہے۔ تمام خرچ باہر سے پوار ہوجاتا، جیب سے ایک ٹکا نہ لگا۔ مزید بڑے ہوئے تو قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوگئے۔ یہاں توگویا وارے نیارے ہوگئے۔ خان صاحب لاکھوں کروڑوں میں کھیلنے لگے۔ ’’ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ چوکھا‘‘ کے مصداق آنے والی دولت سے خان صاحب کا مزاج آسمانوں پر اڑنے لگا۔ غرور، تکبر نے ان کے اندر گھرکر لیا۔ حسن و عیش کے دلدادہ خان صاحب کئی خوبرو لڑکیوں کے اسیر ہوئے ان سے ناجائز مراسم قائم کیے۔ اس دور کے ان کے کئی بچے تو آج بھی موصوف کا پیچھا کر تے پھرتے ہیں۔ دنیا بھر کے نائٹ کلب خان صاحب کا مسکن تھے۔ قابل امر بات یہ تھی کہ یہ سب کچھ سپانسرڈ ہوتا اور خان صاحب کے پلے سے ایک ٹکا بھی خرچ نہ ہوتا۔

1994ء میں خان صاحب نے شوکت خانم این جی او بنائی اور کینسر ہسپتال کی تعمیر کیلئے تگ ودو شروع کر دی۔ 25 ملین ڈالر سے زائد رقم اکٹھی کی۔ تب بھی جیب سے ایک روپیہ نہ لگا تمام مراحل لوگوں کی سپورٹ سے مکمل کیے گئے۔ عمران خان کی نظر برطانیہ کے ارب پتی دولت مند گولڈ سمتھ کے خاندان پر جا ٹکی۔ خان صاحب نے گولڈ سمتھ کی بڑی بیٹی پر نظریں جمائیں مگر قسمت میں گولڈ سمتھ کی چھوٹی بیٹی جمائما تھی۔ جمائما عمران کو چاہتی تھی اور ایک طویل ٹرپ پر خان بھی جمائما کو چاہنے لگ گئے تھے۔ 1995ء میں جمائما سے شادی کے بعد خان صاحب کی قسمت کے ستارے جاگ اٹھے۔ شادی کے بعد بھی خان صاحب نے جیب سے ایک روپیہ نہ لگایا۔ اسلام آباد میں بنی گالہ محل کا تحفہ بھی گولڈ سمتھ خاندان نے دیا۔

1996ء میں خان صاحب نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ بس پھر کیا تھا کئی ’’اے ٹی ایم مشینیں‘‘ بلکہ بینک کے بینک خان صاحب کی جھولی میں آگرے۔ پارٹی فنڈز سے تمام اخراجات پورے ہوتے رہے۔ تحریک انصاف کی پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے کیس الیکشن کمیشن میں ہے جس کا جو بھی نتیجہ آئے مگر یہ حقیقت ہے کہ خان صاحب نے پارٹی فنڈز پر خوب ہاتھ صاف کیے۔ اب موصوف وزیر اعظم پاکستان ہیں اور سارا خرچ سرکار اٹھا رہی ہے، موصوف کی جیب سے ایک دھیلا بھی خرچ نہیں ہو رہا۔

یہ ساری باتیں بتانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا بندہ جس نے ساری زندگی جیب سے ایک روپیہ خرچ نہ کیا ہو۔ جو سونے کا چمچ لیکر پیدا ہوا ہو اور ساری زندگی وہ چمچ منہ میں ہی رہا ہو، اس کو کیا معلوم کہ غریب لوگ اپنے گھر کیسے چلاتے ہیں۔ کیسے ایک ایک روپے کیلئے دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ کہر آلود سردی اور جھلسا دینے والی گرمی میں کیسے ان کے ہم وطنوں کی اکثریت پیٹ کا ایندھن بھرتی ہے۔ وطن سے محبت بھی یہی غریب غربا کرتے ہیں، ووٹ دے کر امراء کو آگے لاتے ہیں، اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں اور امراء نشہ دولت میں ان سے غافل ہیں، عمران حکومت کا بھی یہی حال ہے۔

سابقہ حکمرانوں کو تو چلوکرپشن اور لوٹ مار نے اندھا کر رکھا تھا مگر اب اس حکومت کی آنکھیں بھی تو بند ہیں۔ جب سے عمران خان اقتدار میں آئے ہیں تبدیلی کے نام پر عوام کا بھرکس نکال دیا ہے۔ ہزاروں لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کاش آپ ملازمت کرتے اور جیب سے گھر کا خرچہ اٹھاتے اور اچانک آپکو ملازمت سے خیر باد کہہ دیا جاتا پھر آپ کی کیا حالت ہوتی؟ کاش آپ اس کا صرف تصور ہی کر سکتے۔ پورا ملک ہی تبدیلی چاہتا ہے، مگر یہ کیسی تبدیلی ہے کہ جو صرف غریب مکاؤ مہم بن چکی ہے۔ امیروں کا کیا بگڑا؟ ہاں ان پر اتنا اثر پڑا کہ انہوں نے عوام کو مزید لوٹنا شروع کردیا ہے اور آج غریب پاکستانی اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔

احتساب احتساب کے نام پر خان صاحب نے خوب ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ مگر ابھی تک ایک آنے کا فائدہ ملک کو نہیں ہوا۔ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کی لوٹ مار ویسے کی ویسی جاری ہے۔ کیا سارا پیسہ نواز شریف اور زرداری نے لوٹا ہے؟ باقی سب دودھ کے دھلے ہیں؟ اگر آپ میں دم خم ہے تو سب لوٹنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ حال تو آپکا یہ ہے کہ آپ کے ہر جلسے کی تان پولیس پر ٹوٹتی تھی، کیا ایک سال میں آپ پولیس کا نظام ٹھیک کر سکے؟ جنوبی پنجاب کی عوام کو نوے دن میں صوبہ دینے کا لولی پاپ دیتے وقت بھی آپ نے نہ کوئی شرم محسوس کی اور نہ حیا۔ وزیر اعظم ہاؤس کوتو آپ یونیورسٹی نہ بنا سکے ہاں یہ کریڈٹ آپکو ضرور جاتا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس کو شادی ہال بنا دیا ہے۔

خان صاحب نے تازہ واردات یہ ڈالی کہ عید سے محض چند دن قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ روپے اضافہ کر ڈالا۔ حالانکہ خان صاحب جانتے تھے کہ اس اضافہ سے عید سے قبل مہنگائی کا طوفان آجائے گا۔ غریب کیلئے عید کرنا مشکل ہوجائے گا۔ مگر جناب نے انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا (مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ عمران خان ملکی تاریخ کے بے حس ترین وزیر اعظم ہیں)۔ خان صاحب اگر اس بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرتے تو کونسی قیامت آجاتی؟ اضافہ اگر ضروری بھی تھا تو عوام کی خوشیوں کیلئے ایک ماہ کیلئے سبسڈی ہی دے دیتے، جس سے غریب کم ا زکم عید تو سکون سے کر سکتے۔ خان صاحب کاش آپ زندگی میں کبھی جیب سے ایک دھیلا ہی خرچ کر لیتے توعوام کوبھی آپکی ’’غریب مکاؤ مہم‘‘ سے تھوڑا سا ریلیف مل جاتا۔ صد حیف کہ آپ نے عوام کی تمام امیدیں خاک میں ملا دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں